باپ کی تلاش میں سدپارہ کے بیٹے کا K2 پر جانے کا اعلان

موسم سرما میں کے ٹو کی چوٹی سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے اور واپس نہ لوٹنے والے معروف کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ نے اپنے والد کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے ایک بار پھر کے ٹو پر جانے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ ساجد اپنے والد کے ساتھ ہی آخری مہم پر روانہ ہوا تھا لیکن اسے اپنے سیلنڈر میں آکسیجن ختم ہونے کے باعث واپس آنا پڑا تھا۔ دوسری جانب علی سد پارہ اور ان کے دو غیر ملکی کوہ پیما ساتھیوں نے کے ٹو سر کرنے کی مہم جاری رکھی لیکن واپس نہ لوٹ پائے۔
اب ساجد سدپارہ نے اسلام آباد سے سکردو روانہ ہوتے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے والد کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے K2 کا سفر کرنے جا رہے ہیں. انکامکہنا تھا کہ ایک بہادر باپ کو بیٹا ہونے کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ اپنے والد کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے خطرہ مول لوں۔ انہوں نے کہا ’دیکھنا یہ ہے کہ وہ تیز ہواؤں کا شکار ہوئے یا کسی برفانی تودے کا نشانہ بنے۔ اگر مجھے صرف اتنا ہی پتا چل جائے کہ ان کے ساتھ دراصل ہوا کیا تھا تو میرے دل کو سکون مل جائے گا۔‘
ساجد علی سدپارہ نے کہا کہ ’میں نے اپنی والدہ اور بھائیوں کو بھی اعتماد میں لیا ہے وہ میرے اس مشن میں میرا ساتھ دے رہے ہیں۔‘ اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران ساجد سدپارہ نے کے ٹو پر جانے کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ سال موسم سرما میں کے ٹو سر کرتے ہوئے مجھے واپس آنا پڑا اور اس کے بعد میرے والد جو کے ٹو سر کرنے کے قریب تھے لیکن واپس نہ آسکے۔‘ ’اس لیے اب وہ کے ٹو پر اپنے والد کے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے ان کی میت اور ان کے زیر استعمال اشیا کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
ساجد سدپارہ نے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ میرے والد اب اللہ کے پاس ہیں۔ وہ پاکستان کے عظیم کوہ پیما تھے۔ ان کی لاش ملنا مشکل ہے لیکن اگر مل گئی تو یہ بونس ہوگا۔ اگر نہ بھی ملی اور میرا سمٹ مکمل ہوا تو میں اپنے والد کی خواہش کے مطابق ان کا جھنڈا کے ٹو پر لہراؤں گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس سفر کے دوران وہ علی سدپارہ، جان سنوری اور ہوان پابلو موہر پر ایک ڈاکومنٹری بھی بنائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں ایک پیشہ ور کوہ پیما ہوں، مجھے ڈر نہیں لگتا۔ میں جانتا ہوں کہ ایڈوینچر میں خطرہ ہوتا ہے اور رسک لینا ہی پڑتا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’علی سدپارہ کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بارے میں اڑنے والی افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ابھی تک جو افواہیں پھیلائی گئی ہیں وہ ناقابل یقین ہیں۔‘ یاد رہے کہ پاکستان کے معروف کوہ پیما علی سدپارہ رواں برس پانچ فروری کو دیگر دو غیر ملکی کوہ پیماؤں آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کے ہمراہ کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتا ہوگئے تھے۔ بعد ازاں 18 فروری کو گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجا ناصر علی خان نے علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں ان کی موت کی تصدیق کی تھی۔ اس سے پہلے علی سدپارہ اور انکے دو ل پتہ ساتھیوں کی تلاش کے لیے طویل ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا تاہم ان کی لاشیں نہ مل سکیں۔
