اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی میں ایاز صادق سپیکر قومی اسمبلی منتخب

اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی میں مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔سنی تحریک کے ارکان ایوانِ میں جوتے لہراتے رہے۔
سپیکر قومی اسمبلی کیلئے مجموعی طور پر291 ووٹ ڈالے گئے ،ایک ووٹ منسوخ ہوگیا، ایاز صادق نے 199ووٹ حاصل کئے،سنی تحریک کونسل کے عامر ڈوگر نے 91 حاصل کئے ۔
نومنتخب سپیکر سردارایازصادق سے سابق سپیکر راجہ پرویزاشرف نے حلف لیا۔نومنتخب سپیکر سردارایازصادق نے حلف کے بعد سپیکر کی کرسی سنبھال لی۔
گیلری میں بیٹھے مہمان سنی اتحاد کونسل کے اراکین سے الجھ پڑے، اسپیکر نے گیلری میں جھگڑا ہونے پر تمام افراد کو باہر نکال دیا۔ جمشید دستی اور گیلری میں موجود افراد کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جو بھی تھا اس کو باہر پھنک دیا، بدنظمی پھیلانے والے کو باہر نکال دیا۔
اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اسپیکر ڈائس کے دائیں اور بائیں جانب دو پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں، پولنگ بوتھ میں خصوصی طور پر لائٹ کا انتظام کیا گیا۔ اسپیکر نے عمر ایوب کو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کا موقع دیا جبکہ سنی اتحاد کونسل اور آزاد ممبران نے احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر ڈائس کے گھیراؤ کیا۔
علیم خان کو بیلٹ پیپر کے اجراء پر سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے لوٹا لوٹا کے نعرے لگائے جبکہ عطا تارڑ کے ووٹ ڈالنے پر سنی اتحاد کونسل نے ووٹ چور کے نعرے لگائے۔
نواز شریف کے ایوان میں پہنچنے پر ن لیگی اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم کے گرد حصار بنا لیا۔ سنی اتحاد کونسل اراکین نے نواز شریف کی آمد پر چور کے نعرے لگائے جبکہ لیگی اراکین نے شیر شیر کے ساتھ قیدی نمبر 420 کے نعرے بھی لگائے۔
وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی ہفتے کو دن 2 بجے تک جمع ہوں گے اور کاغذات کی اسکروٹنی تین بجے ہوگی۔
