شہباز شریف کی حکومت 2 سال چلے گی یا 5 سال؟

الیکشن کے بعد دو ہفتے شور مچایا جارہا تھا کہ مرکز اور صوبوںمیں حکومتیں نہیں بنیں گی۔ اب شور کیا جارہا ہے کہ جو حکومتیں بن گئی ہیں یہ چلیں گی نہیں۔ ابھی وزیر اعظم نے حلف نہیں لیا اور مرکزی حکومت کی مدت پر قیاس آرائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ فیصل واوڈا سب سے آگے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ یہ سیٹ اپ دو سال سے زیادہ نہیں چلے گا۔حقیقت یہ ہے کہ ایک دفعہ شہباز شریف وزیر اعظم بن گئے تو ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک عملی طور پر ناممکن ہو جائے گی کیونکہ پیپلز پارٹی اب اسٹبلشمنٹ مخالف سیاسی جماعت سمجھی جانے والی تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دے گی ۔لہذا مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی بھی اپنی مدت پوری کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ جس طرح شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آرہی ہے اسی طرح آصف زرداری کے صدر بننے میں بھی کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ انتخابات کے بعد حکومت سازی کا عمل مکمل ہو رہا ہے۔ دو ہفتے قبل یہ سب بہت مشکل نظر آرہا تھا.یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ وفاقی حکومت ڈیڑھ سال بھی نہیں چلے گا۔ لوگ صرف حکومت گرنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ ڈیڑھ سال میں دوبارہ انتخابات کی بات کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی بقراط مرکزی حکومت کو تو ڈیڑھ سال کی مدت دے رہے ہیںلیکن وہ صوبائی حکومتوں کے مستقبل پر خاموش ہیں۔ اب یہ کیسے ہوگا کہ چاروں صوبائی حکومتیں تو اپنی جگہ قائم رہیں گی لیکن مرکزی حکومت گر جائے گی۔
مزمل سہروردی کے مطابق پنجاب کی حکومت گرنے کا کوئی چانس نہیں۔ پنجاب میں ن لیگ کی حکومت کسی بھی سیاسی بیساکھیوں پر نہیں ہے۔ ن لیگ کے اپنے ووٹ پورے ہیں۔اس لیے کوئی اتحادی ساتھ چھوڑ بھی جائے تو حکومت نہیں گرے گی۔ ویسے پنجاب میں ن لیگ کے ساتھ ق لیگ اور پیپلزپارٹی اتحادی ہیں۔ لیکن دونوں نمبر گیم میں ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ مریم نواز کی وزارت اعلیٰ کے لیے کوئی مشکل پیدا کر سکیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر مرکز میں اتحاد ختم بھی ہو جائے تو پنجاب کی حکومت قائم رہے گی ۔ اسی طرح سندھ میں پیپلزپارٹی اتنی مضبوط پوزیشن میں ہے کہ اس کی حکومت کو کوئی گرا نہیں سکتا۔ وہ بھی سیاسی طور پر کسی پارٹی کی محتاج نہیں ہے۔ مرکز میں کچھ بھی ہو جائے تو سندھ کی حکومت نہیں گر سکتی۔ بلکہ دیکھا جائے تو سندھ کی حکومت عددی طور پر پنجاب سے بھی مضبوط ہے۔ مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کی حکومت تو عددی طور پر پنجاب اور سندھ سے بھی مضبوط نظر آرہی ہے۔ وہاں وزیر اعلیٰ پر مقدمات ضرور ہیں انھیں نو مئی کے مقدمات میں سزا بھی ہو سکتی ہے۔ فرض کر لیں کہ ایسا ہو بھی ہو جائے تب بھی وہاں تحریک انصاف دوبارہ اپنا وزیر اعلیٰ لے آئے گی۔ مرکز میں جو مرضی طوفان آجائے کے پی کی حکومت کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔
دوسری جانب بلوچستان کی صورتحال دلچسپ ہے۔ مرکز کی طرح وہاں بھی پیپلزپارٹی اور ن لیگ مل کر حکومت بنا رہے ہیں اگر مرکز میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا اتحاد ٹوٹ جاتا ہے تو بلوچستان میں بھی اتحاد ٹوٹ جائے گا۔ لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے بلوچستان مرکز میں اتحاد قائم رکھنے کی وجہ بن جائے۔ پیپلزپارٹی پر دباؤ رہے کہ اگر آپ نے مرکز میں اتحاد ختم کیا تو بلوچستان میں آ پ کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ بہرحال ن لیگ کے پاس ہر وقت یہ آپشن موجود رہے گا کہ وہ بلوچستان میں پیپلزپارٹی سے علیحدہ ہو کر جے یو آئی (ف) کے ساتھ ملکر حکومت بنا لے۔ ایسا نہیں ہے کہ بلوچستان میں مرکز میں حکومت ٹوٹنے سے کوئی ایسی صورتحال پیدا ہو جائے کہ وہاں کوئی حکومت ہی نہ بن سکے۔ اس لیے بلوچستان میں بھی سیاسی طور پر مستحکم حکومت ہی نظر آرہی ہے۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ جہاں تک مرکز کی بات ہے تو یہ درست ہے کہ عددی طور پر وہاں ایک مخلوط حکومت بننے جا رہی ہے۔ اب کیا مرکزی حکومت ڈیڑھ دو سال میں گر جائے گی؟ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا پیپلزپارٹی کو ایسا کیا فائدہ ہو گا کہ وہ مرکزی حکومت کو گرا دیں گے۔ کیا پیپلزپارٹی ڈیڑھ سال میں ملک میں نئے انتخابات چاہے گی؟جواب نہیں میں ہے وہ کیوں ڈیڑھ سال میں دوبارہ انتخابات چاہیں گے۔ اس کے لیے انھیں اپنی سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کی بھی قربانی دینا ہوگی۔ وہ کیوں سیاسی طور اپنی مستحکم حکومتیں خود ہی ختم کر دیں گے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت میں عمران خان جیسی نہ تو کوئی سوچ پائی جاتی ہے اور نہ ہی ان کا انداز سیاست تحریک انصاف جیسا ہے نہ ہی ڈیڑھ سال میں ایسا کوئی انقلاب آتا نظر آرہا ہے کہ پیپلزپارٹی کو پورے ملک میں انتخابات جیتنے کی امید پیدا ہو جائے۔اس لئے ڈیڑھ سال بعد انھیں مرکزی حکومت گرا کر کچھ نہیں ملے گا۔اس کی ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ بلاول وزیر اعظم بن پائیں ۔ تو کیا امید کی جا سکتی ہے کہ ڈیڑھ سال بعد پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ملکر مرکزی حکومت بنانے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ تحریک انصاف بلاول کو وزیر اعظم کا ووٹ ڈالنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔ اس کا جواب بھی نفی میں ہے. بلاول یہ ووٹ کیوں لیں گے؟ ان کی تو ساری سیاست اس وقت اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ہے۔ وہ کیوں اسٹبلشمنٹ مخالف سیاسی جماعت کے ساتھ جائیں گے۔
