قوم نے مریم کو ہی نواز شریف کا جانشین کیوں تسلیم کیا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سید حماد غزنوی نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا لیڈر اپنے جانشین کا فیصلہ خود کر سکتا ہے، اس کا یہ فیصلہ طوعاً و کرہاً ہی سہی اس کی جماعت کو ماننا پڑتا ہے، لیکن اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ لیڈر کا یہ فیصلہ عوام بھی تسلیم کر لیں، لیڈر اپنی محبوبیت کا عنصر اپنے جانشین میں منتقل نہیں کر سکتا، مثلاً گوہر خان یا علی ظفر کو عمران خان اپنا نائب تو بنا سکتے ہیں مگرانہیں ’محبوب راہ نما‘ نہیں بنا سکتے، نواز شریف بھی ایسا نہیں کر سکتے، وہ اپنے بھائی یا بھتیجے کو وزیرِ اعظم یا وزیرِ اعلیٰ تو بنا سکتے ہیں مگر عوام کا محبوب نہیں بنا سکتے، یہ عوام کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے اور مریم نواز کے حق میں یہ فیصلہ عوام نے کیا ہے، اپنے ایک کالم میں سید حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ کامیاب سیاست دان کی زندگی میں اکثر ایک ایسا موڑ آتا ہے جب عشق کی ایک جست قصہ تمام کر دیتی ہے ، مریم نواز کی زندگی میں بھی وہ فیصلہ کُن لمحہ آیا اور مریم جس دھج سے اُس لمحے میں داخل ہوئی وہ شان سلامت رہ گئی۔لاہور ائیرپورٹ پر اپنے باپ کا ہاتھ تھام کر سینکڑوں سنگینوں کے سائے میں گرفتاری دینے والی مریم یک دم اس خطے کی تاریخ میں جبرکے انکار کا استعارہ بن گئی، ایک جاں نثار، مثالی، بہادر بیٹی کی علامت۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مریم نواز کی تاج پوشی کی گئی، یعنی نواز شریف کے حامیوں نے مریم نواز کو دل سے ان کا سیاسی جاں نشین تسلیم کر لیا، اور پھرجس حوصلے سے مریم نے جیل کاٹی اس سے عوام کا یہ فیصلہ مزید مستحکم ہوا. حماد غزنوی کہتے ہیں کہ قدرت کے قرینے نرالے ہیں، جس باپ کی آنکھوں کے سامنے اُس کی ’گڑیا‘ کو گرفتار کیا گیا تھا، اُس باپ نے اپنی آنکھوں سے اپنی گڑیا کو پنجاب کی حکم رانی کا حلف اٹھاتے دیکھا ہے، یہ ایک داستانی منظر تھا، بے شک، ایسے لمحے زندگی سے بھی بڑے ہوا کرتے ہیں، بے شک، قدرت کے ڈھنگ نرالے ہیں۔ نواز شریف نے مریم نواز کو اپنا جاں نشین بعد میں مقرر کیا، نواز شریف کے سیاسی مخالفین یہ فریضہ پہلے ہی انجام دے چکے تھے، انہوں نے سال ہا سال پہلے بھانپ لیا تھا کہ نواز شریف کی بیٹی ان کی سیاسی وارث بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، غالباً جج رحمت حسین جعفری کی عدالت سے اپریل 2000 میں نواز شریف کو عمر قید دیے جانے پر مریم نواز کے جذباتی اور دلیرانہ ردِ عمل پرہی بہت سے کان کھڑے ہو گئے ہوں گے،نواز شریف کی آخری حکومت میںمریم نواز کا کردار عوامی نوعیت کا نہیں تھا، عوام کے ساتھ ان کا سیاسی تعارف اس وقت شروع ہوا جب مظلومیت کی اوڑھنی میں لپٹی مریم نے اپنے والد کے ساتھ عدالتوں میں ان گنت پیشیاں بھگتنا شروع کیں۔ان کیسز میں مریم نواز کو نواز شریف کے ساتھ نتھی کرنے والے بہ زبانِ حال مریم کی جاں نشینی کا اعلان ہی تو کر رہے تھے، یعنی عوام سے پہلے ہی کچھ زِیرک افسر مریم کے مستقبل کے امکانات کو پا چکے تھے۔سو اس میں کیا حیرت کہ آنے والے دنوں میں مریم نواز کے خلاف بدترین، مہنگی ترین اور غلیظ ترین میڈیا مہم چلائی گئی۔ حماد غزنوی کے مطابق اب مریم کو ایک اور دریا کا سامنا ہے، ایک بپھرا ہوا بے کراں دریا جس میں حدِ نگاہ تک بھنور ہی بھنور ہیں۔ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ آدھے پاکستان کی حکم رانی ہے، مریم کے والد اور چچا یہی دریا عبور کر کے وزیرِ اعظم ہائوس پہنچے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مریم کے چچا جان سے پہلے پنجاب میں حکومت کرنے کا طریقہ یک سر مختلف ہوا کرتا تھا، ایک عام سی سڑک بھی برسوں زیرِ تکمیل رہا کرتی تھی، شاید ہی کوئی سرکاری منصوبہ وقت پر مکمل ہوتا ہو۔ شہباز شریف نے کام کرنے کا کلچر تبدیل کر دیا، اور آج کم از کم پنجاب میں اسی رفتار اور معیار کو پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔ مریم کو اپنے کھدر پوش چچا کے طرزِ حکم رانی سے بہت کچھ سیکھنا ہو گا۔ یہ درست ہے کہ مریم نواز کو ایڈمنسٹریشن کا کوئی براہِ راست تجربہ نہیں ہے لیکن وہ اس ناتجربہ کاری سے بھی قوت حاصل کر سکتی ہیں۔ پہلی محبت کی دُھن میں پہاڑ کاٹ کر نہر نکالی جا سکتی ہے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر انہیں اس خطے کے سب سے تجربہ کار سیاست دان کی مشاورت ہمہ وقت حاصل ہو گی۔ اسی طرح ان کا خاتون ہونا بھی ان کے لیے توانائی کاباعث بن سکتا ہے۔ عورتوں کے لیے کچھ کرنے کی بہت گنجائش ہے، مریم اگر تھوڑا بھی کریں گی تو خواتین ان میں ایک محافظ اور منصف تلاش کرنے لگیں گی۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ پچھلی شہباز حکومت میں جب مہنگائی کی لہر آئی تو مریم نواز نے خود کو اس بوجھ سے لاتعلق کر لیا تھا، کیا یہ سہولت اب بھی انہیں میسر ہو گی؟
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ آج مریم نواز کو اپنے والد اور چچا سے بھی کہیں بڑے چیلنج درپیش ہیں۔ماضی میں شہباز شریف پنجاب میں گُڈ گورننس اور ترقیاتی سرگرمیوں پر مرتکز رہتے تھے، جب کہ مسلم لیگ کی سیاست کے انچارج نواز شریف تھے، شہباز شریف کی کارکردگی نواز شریف کی سیاست کو ایندھن بھی فراہم کرتی تھی۔ مریم نواز کو یہ دونوں کردار ادا کرنے ہوں گے، لیڈر بھی اور منیجر بھی۔ ایک تیسرا کردار بھی ہے جو کچھ عرصہ سے حمزہ شہباز ادا کرتے رہے ہیں، یعنی جماعتی تنظیم سازی۔ وہ اب بھی حمزہ ہی ادا کریں گے یا وہ بھی؟ اور پھر ان سب سے بڑا ایک چیلنج اور بھی ہے، جو فی الحال تو اڈیالہ میں مقیم ہے، لیکن بہرحال اس کورہا بھی ہونا ہے۔ لمحہ لمحہ قیمتی ہے۔ ’’شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمع محفل… سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو۔‘‘ میڈم چیف منسٹر، آپ کا وقت اب شروع ہوتا ہے
