اپوزیشن کے اراکین صوبائی اسمبلی کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے 6 ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات، پارٹی قیادت نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لے کر اراکین سے وضاحت طلب کرلی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارسے اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی ملاقات کے بعد اپوزیشن کی صفوں میں دراڑیں مزید نمایاں ہوگئی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے نشاط احمد(پی پی-206 خانیوال)، ابو حفص غیاث الدین (پی پی-47 نارووال)، چوہدری اشرف (پی پی-گوجرانوالہ)، فیصل نیازی (پی پی-209 خانیوال)، محمد ارشد (پی پی-244 بہاولنگر) اور اظہر عباس (پی پی-269 مظفرگڑھ) جبکہ پی پی پی کے غضنفر علی (پی پی-225 رحیم یار خان) شامل تھے۔
ملاقات کرنے والے ارکان کو وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ ان کے حلقوں کے مسائل ترجیحی طور پر حل ہونگے۔ ان ارکان کو ساتھ لیکر چلیں گے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے نو مزید ارکان وزیراعلی پنجاب سے رابطے میں ہیں۔
اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے ملاقات کا نوٹس لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں اور حکومت وفاداریاں تبدیل کروانے میں لگی ہوئی ہے۔
پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے بھی غضنفرعلی خان کی وزیراعلیٰ سے ملاقات کا نوٹس لے کر وضاحت طلب کرلی۔
اس ضمن میں اپوزیشن رہنما اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز پر نیب کی حراست سے اجلاس میں لائے گئے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ یہ پارٹی کے داخلی اجلاس میں اس معاملے پر بات کی جائے گی اور اراکین اسمبلی کے خلاف مناسب ایکشن لیا جائے گا۔
پارٹی میں اختلاف سے بظاہر اتفاق نہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ’ادھار‘ پر لیے گئے آدمیوں کی اسمبلی نہیں کہ اس کے اراکین کو لالچ سے اپنے ساتھ ملا لیا جائے۔
