آئندہ الیکشن پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے: ناراض لیگی ارکان

مسلم لیگ ن کے ناراض ارکان نے تحریک انصاف کی قیادت کو بڑی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ الیکشن پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے، پارٹی نے دباؤ بڑھا یا یا ایکشن لیا تواستعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے 6 ارکان نے وزیر اعلی سے ملاقات میں آئندہ انتخاب پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے مزید ارکان بھی وزیراعلی پنجاب سے رابطے میں ہیں۔ ناراض ارکان نے فیصلہ کیا کہ اب مسلم لیگ ن کے ساتھ نہیں چلیں گے، صرف لیگل کور مسلم لیگ ن کا رہے گا۔ مسلم لیگ ن کو کسی ووٹنگ میں ان ارکان کا ووٹ نہیں ملے گا۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن کے ناراض رکن نشاط ڈاہا نے قیادت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا جرات ہے تو وزیراعلیٰ سے ملنے والے ارکان کے خلاف کارروائی کر کے دکھائیں، ایکشن لینا اتنا آسان نہیں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ کوئی کارروائی کرسکیں۔
رکن پنجاب اسمبلی نشاط ڈاہا نے مزید کہا ابھی فارورڈ بلاک نہیں بنایا لیکن وقت آنے پر کوئی بھی فیصلہ ہوسکتا ہے، وزیراعلیٰ سے حلقے کے مسائل کے حل کے لئے ملاقات کی، حمزہ شہباز سے اختلافات ہیں، مولانا فضل الرحمن کو صدارتی ووٹ دینے سے بھی انکار کر کے بھرے اجلاس میں پارٹی قیادت کو بتا دیا تھا۔ نشا ط ڈاہا کا کہنا تھا کہ ایک عرصہ ہوگیا ہے اپوزیشن چیمبر میں نہیں گیا، قیادت سے اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک مسلم لیگ ن میں ہوں اور ابھی فارورڈ بلاک نہیں بنایا لیکن سیاست میں کوئی بھی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہاں میں لوٹا ہوں مگر پاکستان میں کون لوٹا نہیں، نواز شریف، شہباز شریف، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمو د قریشی خود لوٹے ہیں، تحریک انصاف تو ساری لوٹوں کے ذریعے بنی، اگر کوئی مجھ سے مناظرہ کرنا چاہے تو تیار ہوں۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن کی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملنے والے ایم پی ایز پرانے لوٹے ہیں، یہ لوٹے ایم پی ایز پہلے بنی گالہ بھی جا چکے ہیں۔ لیگی رہنما احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر تحریک انصاف کو ایم پی ایز کی حمایت کا شوق ہے تو ان کا استعفیٰ دلوائے، پی ٹی آئی کی نام نہاد صاف ستھری سیاست کا حال دیکھ لیں، ان ایم پی ایز کو نوٹس کے حوالے سے صوبائی پارلیمانی پارٹی فیصلہ کرے گی.
خیال رہے مجموعی طور پر اب تک وزیراعلی سے 15 ارکان انفرادی اور اجتماعی طورپر مل چکے ہیں، 6 ارکان کی وزیراعلی ملاقات ریکارڈ پر آچکی جبکہ 9 ارکان کا مناسب وقت پر اعلان ہوگا۔
یاد رہے گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو مسلم لیگ ن کے مجموعی طورپر پندرہ ارکان نے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ وزیر اعلٰی کی اعلانیہ حمایت کرنے والے ارکان کو پندرہ پندرہ کروڑ روپے کی ترقیاتی سکیمیں دینے کا اختیار دیدیا گیا ہے جبکہ حلقوں میں عوامی مسائل کے حل کے لئے الگ پیکیج بھی دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے 6 اراکین صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی جس پر (ن) لیگ نے اپنے اراکین اسمبلی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button