اگلے وزیر اعظم نواز شریف ،مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب ہونگی؟

4 سال بعد نواز شریف کی پورے پروٹوکول کے ساتھ ہاکستان واپسی کو سیاسی پنڈت ن لیگ کی اقتدار میں واپسی کا پیشہ خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ نواز شریف کی پاکستان واپسی اور عدلیہ کی جانب سے ریلیف کی فراہمی کے بعد کئی سیاسی مبصرین دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگلی حکومت ن لیگ ہی بنائے گی ۔مسلم لیگ ن کے قریبی حلقے یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ پارٹی اور شریف خاندان نے اعلٰی عہدوں کے لیے شخصیات کے ناموں کوحتمی شکل دے دی ہے۔ گھر کے بڑوں کا کم و بیش اس بات پر اتفاق ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں ممسلم لیگ ن کی کامیابی کی صورت میں نواز شریف چوتھی مرتبہ ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے جبکہ مریم نواز ملکی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعلٰی پنجاب ہوں گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ مسلم لیگ ن یہ پیغام دے رہی ہے کہ نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنیں گے لیکن یہ دعوے محض انتخابی مہم چلانے اور انتخابات جیتنے کے لیے ہیں۔تاہم انتخابات میں فتح کے بعد ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ نواز شریف خود ہی وزارت عظمیٰ سنبھالتے ہیں یا وزارت عظمیٰ کیلئے بھائی شہباز شریف کو آگے کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور مریم نواز کے ترجمان سابق گورنر کراچی محمد زبیر کے مطابق ’اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ مریم نواز اگلی وزیراعلٰی پنجاب ہوں۔‘اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن کی حکومت بننے کی صورت میں مریم نواز کے پاس کوئی بڑا عہدہ ہو گا اور اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پنجاب کی وزیراعلٰی بھی بن سکتی ہیں۔‘محمد زبیر کا کہنا ہے کہ ’مریم نواز نے پارٹی کو آگے بڑھانے کے لیے بہت جدوجہد کی ہے اور وہ اس قابل بھی ہیں کہ وزیراعلٰی پنجاب یا کوئی بھی دوسری بڑی ذمہ داری نبھائیں۔‘تاہم محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ’ابھی پارٹی کے عام کارکنوں یا عہدیداروں کی سطح پر اس طرح کی کوئی بات نہیں کی گئی اور اس بارے میں پارٹی کا واضح موقف انتخابات کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد ہی آئے گا۔‘
گذشتہ کئی دہائیوں سے شریف خاندان کے قریب رہنے والے سینیئر صحافی سلمان غنی کے مطابق ’مریم نواز کی وزارت اعلٰی کا انحصار اس بات پر ہے کہ نواز شریف وزیراعظم بنتے ہیں کہ نہیں۔‘’اگر پارٹی انتخابات جیت جاتی ہے اور نواز شریف کسی وجہ سے وزیراعظم منتخب نہیں ہوتے تو پھر شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے اور مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب۔‘ان کے مطابق ’اگر نواز شریف وزیراعظم بنتے ہیں تو پھر شاید مریم نواز وزیراعلٰی نہ بن سکیں، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ انتخابات کے نتائج کے بعد ہی کیا جائے گا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کا وزیراعلٰی بننا اس حوالے سے کوئی حیران کن بات نہیں ہو گی کیونکہ انہوں نے گذشتہ برسوں میں پارٹی کے لیے بہت محنت کی ہے۔’وہ نواز شریف کا پرچم لے کر اُس وقت شہر شہر، قریہ قریہ گئیں جب کوئی اور مسلم لیگ ن کا نام تک نہیں لے رہا تھا اور ہم صحافیوں کو بھی کہہ دیا گیا تھا کہ 100 دن تک خاموشی اختیار کریں۔‘تاہم سلمان غنی نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے امکانات کے بارے میں شاکی دکھائی دیتے ہیں۔ سلمان غنی کے مطابق ’نواز شریف کی ابھی مقبولیت ہوئی ہے قبولیت نہیں ہوئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ مخصوص حلقوں کی جانب سے نواز شریف کی قبولیت بھی ہوتی ہے کہ نہیں۔ وہ اسی صورت میں وزیراعظم بنیں گے جب ان کی قبولیت ہو گی۔‘سلمان غنی کے خیال میں وزارت عظمیٰ اور دوسرے عہدوں کے بارے میں حتمی فیصلہ بدستور نواز شریف کا ہی ہو گا اور وہ جو کہیں گے اس کو شہباز شریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز من و عن تسلیم کریں گے۔
دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق ’اگرچہ شریف خاندان پر اعتراضات آتے رہتے ہیں کہ وہ سارے عہدے گھر میں ہی بانٹ لیتے ہیں۔ تاہم پھر بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ نواز شریف خود وزیراعظم بننے کے باوجود وزیراعلٰی پنجاب کے لیے مریم نواز کے حق میں ہی فیصلہ کریں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ماضی میں جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو شہباز شریف کے وزیراعلٰی بننے کے خلاف پارٹی کے اندر اور باہر سے بہت سی آوازیں اُٹھی تھیں۔‘مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کہ ’پھر بھی ایک بھائی وزیراعظم بنا اور دوسرا وزیراعلٰی، لہٰذا اس مرتبہ ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ باپ وزیراعظم ہو اور بیٹی وزیراعلٰی۔‘
کچھ سیاسی مبصرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کی وطن واپسی کا مقصد وزیراعظم بننا نہیں بلکہ پارٹی کو دوبارہ زندہ کرنا ہے کیونکہ وہ اب مریم نواز کا سیاسی مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔
