کیا پاکستانی ٹیم کی ناقص پرفارمنس کے ذمہ دار صرف بابراعظم ہیں؟

کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت اور افغانستان سے شکست کے بعد قومی کپتان بابراعظم تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، سوشل میڈیا صارفین سمیت سابق کرکٹرز بھی ان پر خوب بھڑاس نکال رہے ہیں۔پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے بابر اعظم کا موازنہ کوہلی کے اس دور کپتانی سے کیا جب ان پر ڈریسنگ روم میں کسی کی بات نہ سننے کا الزام لگتا تھا تو سابق فاسٹ باولر عاقب جاوید نے کہا کہ بابر سے بہتر کپتان شاہین شاہ آفریدی ہو سکتے ہیں۔ایسے میں سوشل میڈیا سمیت ٹی وی شو میں بھی کپتان کو بدلنے کی بحث عروج پر ہے حالانکہ ابھی کرکٹ ورلڈ کپ جاری ہے، کرکٹ میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ کوئی بھی کپتان اتنا ہی اچھا ہوتا ہے جتنے اس کی ٹیم میں شامل کھلاڑی ہوتے ہیں۔بابر اعظم کی ٹیم کو دیکھیں تو اگر ہم آسٹریلیا کے خلاف اننگز میں شاہین شاہ آفریدی کی پانچ وکٹوں کو چھوڑ دیں تو وہ انڈیا اور یہاں تک کہ افغانستان کے خلاف بھی بہت متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا پائے۔ محمد رضوان اور عبداللہ شفیق کو چھوڑ کر کسی دوسرے بلے باز نے اتنے رنز نہیں بنائے کہ اسے پلیئنگ الیون میں شمولیت کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جائے۔لیکن، بابر کو اس شعبے میں زیادہ بڑے مسائل کا سامنا ہے جو پاکستانی کرکٹ کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔ پاکستانی باؤلنگ اٹیک کی کارکردگی دیکھ کر سابق کپتان اور تیز گیند باز وسیم اکرم اور وقار یونس بھی مایوس نظر آئے ہیں، آفریدی نے اب تک 10 وکٹیں تو حاصل کی ہیں، لیکن ان کا اکانومی ریٹ تقریباً چھ رنز فی اوور ہے، حسن علی اور حارث رؤف کے پاس بھی آٹھ، آٹھ وکٹیں ہیں، لیکن ان کا اکانومی ریٹ بھی اچھا نہیں۔سپنر کے نام پر پاکستان کے پاس شاداب خان اور محمد نواز جیسے کھلاڑی ہیں جنھوں نے اب تک صرف دو وکٹیں حاصل کی ہیں، ان کا اکانومی ریٹ بھی بہت مہنگا ہے، سابق کپتان اور بیٹنگ کوچ محمد یوسف نے بابر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شکستوں کے لیے اکیلے بابر کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں، پاکستان صرف بابر کی وجہ سے نہیں ہارا اور ایسی صورتحال میں وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔اسی سال، بابر ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین 5000 رنز بنانے والے بلے باز بنے، اور انھوں نے ہاشم آملہ اور ویو رچرڈز جیسے عظیم بلے بازوں کو پیچھے چھوڑا ہے، کوہلی اور روہت شرما جیسے کھلاڑی بھی حالیہ برسوں میں ان کی نمبر ون رینکنگ کو چیلنج کرنے میں ناکام رہے ہیں، انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد بابر واحد پاکستانی بلے باز ہیں جنھوں نے اپنے بلے کے بل بوتے پر دنیا میں شہرت حاصل کی لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کرکٹ انھیں وہ عزت نہیں دے رہی جس کے وہ حقدار ہیں۔
