ایران جنگ پر مؤثر سفارت کاری نہ ہونے سے خلیجی اتحادی ٹرمپ سے مایوس، امریکی اخبار
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، یو اے ای، قطر، کویت اور بحرین میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر بے چینی بڑھ رہی ہے، بعض ممالک دفاعی انحصار کے متبادل راستوں پر بھی غور کرنے لگے

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر سفارتی پیش رفت نہ ہونے پر امریکا کے اہم خلیجی اتحادی ممالک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے مایوس اور بے چین ہونے لگے ہیں۔
ایک امریکی اخبار نے عرب، مغربی اور امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کی حکومتوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے موجودہ طرزِعمل پر تشویش پائی جارہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اتحادی ممالک کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ امن کے لیے درکار سفارتی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو پارہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔
ایک مغربی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون بھی واشنگٹن کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھا جارہا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سکیورٹی کے لیے صرف امریکا پر انحصار برقرار رکھنے کے بجائے متبادل شراکت داریوں کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر سفارت کاری میں پیش رفت نہ ہونے نے خلیجی اتحادیوں میں صدر ٹرمپ کے حوالے سے مایوسی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض ممالک نے اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی مستقبل میں جاری رکھنے یا اس پالیسی پر نظرثانی کرنے کے امکانات پر غور شروع کردیا ہے۔
تاہم رپورٹ میں شامل یہ تمام نکات متعلقہ حکام اور ذرائع سے منسوب کیے گئے ہیں اور خلیجی حکومتوں کی جانب سے ان تمام امور پر یکساں باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
