پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی، نیٹلی بیکر

امریکی ناظم الامور کا لاہور کا دو روزہ دورہ، تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھانے پر زور

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 2025 میں 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا، جبکہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

نیٹلی بیکر نے لاہور کے دو روزہ دورے کے دوران کاروباری شخصیات، ٹیکنالوجی ماہرین، سرکاری عہدیداروں اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان اور امریکا کے درمیان معاشی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

Lahore visit 2

امریکی ناظم الامور نے نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور دونوں ممالک میں مشترکہ خوشحالی کے لیے امریکی اختراع اور ٹیکنالوجی کے کردار پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے امریکا پاکستانی مصنوعات کی اہم ترین برآمدی منڈیوں میں شامل ہے اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا بھی ایک بڑا ذریعہ رہا ہے۔

نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکا پاکستان کے نجی شعبے، اختراع کاروں، جامعات اور حکومت کے ساتھ مل کر تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گا۔ انہوں نے ایسی شراکت داریوں کی ضرورت پر زور دیا جو دونوں ممالک کے لیے طویل مدتی معاشی فوائد پیدا کرسکیں۔

دورے کے دوران امریکی ناظم الامور نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پنجاب کے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات کے مشیر علی ڈار سے بھی ملاقاتیں کیں۔

968188 14682442

ان ملاقاتوں میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، اعلیٰ تعلیم، جدت طرازی، کاروبار اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

لاہور میں پی ایف چنگ کے نئے ریستوران کے افتتاح کے موقع پر نیٹلی بیکر نے پاک امریکا تجارتی تعلقات کے فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان مجموعی تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔

انہوں نے نیٹ سول ٹیکنالوجیز، کوڈ ننجا اور گیم ڈسٹرکٹ کا بھی دورہ کیا، جہاں پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ٹیکنالوجی شعبے اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل سروسز اور مصنوعی ذہانت میں تعاون کے نئے امکانات پر گفتگو ہوئی۔

نیٹلی بیکر نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں طلبہ سے ملاقات کے دوران این آئی ٹی اور ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے درمیان تعلیمی شراکت داری کا بھی ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی شراکت داریاں طلبہ کے لیے نئے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع پیدا کرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے معاشی اور تعلیمی تعلقات کو بھی مضبوط بنا سکتی ہیں۔

دورہ لاہور کے اختتام پر نیٹلی بیکر نے ایک گول میز اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قابل اعتماد شراکت داریوں کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز میں ہونے والی جدت کو معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور پاکستان و امریکا کی مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط اور قابل اعتماد شراکت داریاں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

Back to top button