تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ غیر مشروط امداد سے نہیں اٹھایا جاسکتا: علی پرویز ملک

وزیر پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوتے ہی پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی، جبکہ آنے والے مہینوں کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والی صورتحال کا مقابلہ غیر مشروط امداد کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس بحران کا حجم ہزاروں ارب روپے تک پہنچتا ہے۔

اپنے حلقے میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ وسائل اکٹھے کیے بغیر اخراجات جاری رکھنے کا نتیجہ ماضی جیسا نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں پاکستان دیوالیہ پن کے قریب پہنچ گیا تھا اور ملک کو مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں جیسے ہی کم ہوں گی، پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ آئندہ ہفتے سعودی عرب کا دورہ کریں گے، جہاں تیل کی فراہمی میں تعاون پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ مشکل حالات میں اظہار یکجہتی بھی کریں گے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ اس وقت خطے کو ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیاسی قیادت کو عسکری قیادت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، کیونکہ پاکستان کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھنے کیلئے قومی یکجہتی ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ دسمبر، جنوری اور فروری میں درپیش ممکنہ چیلنجز کے حوالے سے وزیراعظم کو ایک نشست میں آگاہ کیا جاچکا ہے۔ ان کے مطابق جو بھی فیصلہ عوام اور ملک کے مفاد میں ہوگا، وہی کیا جائے گا، جبکہ سردیوں سے قبل کیے جانے والے ضروری اقدامات سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ گیس بحران سے نمٹنے کیلئے بروقت ایل پی جی درآمد کی جائے گی۔ ایل پی جی کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70 برس سے قیمتوں کا تعین اوگرا کرتا آرہا ہے۔

Back to top button