خواجہ آصف کا پی ٹی آئی بانی پر کے پی میں دہشتگردی کو فروغ دینے کا الزام
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی لانے اور دہشتگردوں کو صوبے میں بسانے کی حمایت بانی پی ٹی آئی نے کی، جبکہ صوبائی قیادت پر دہشتگردوں کو بھتہ دینے کا بھی الزام عائد کیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی بانی پی ٹی آئی کے دور میں آئی اور وہ دہشتگردوں کو صوبے میں بسانے کے سب سے بڑے حامی تھے۔
ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ جن معصوم شہدا کا ذکر کیا جا رہا ہے، ان کی قربانیوں کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فوجی شہدا کو چھوڑ کر کسی ایک سویلین شہید کے گھر بھی فاتحہ خوانی کیلئے گئے ہیں؟
وزیر دفاع کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشتگردی لائے جانے کے حوالے سے اسمبلی کی تقاریر اور میڈیا کا ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ٹی وی پر براہِ راست مناظرہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید الزام عائد کیا کہ مرکز سے اقتدار ختم ہونے کے بعد خیبرپختونخوا کے ہر وزیراعلیٰ نے وفاق پر حملہ کیا، جبکہ 9 مئی کا واقعہ اس کے علاوہ ہے۔
انہوں نے صوبائی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ سرکاری وسائل سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کو بھتے کی صورت میں حصہ بھی دیتی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دہشتگردوں کے ساتھ مبینہ تعاون کے باعث خیبرپختونخوا میں بہنے والے خون کی ذمہ داری سے صوبائی قیادت بری الذمہ نہیں ہوسکتی اور قوم اور اللہ کے سامنے اس کا حساب دینا ہوگا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اسلام آباد پاکستان کی وحدت اور وفاق کی علامت ہے اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی شناخت بھی اسی سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ شہدا اپنے خون سے ملک کی حفاظت اور استحکام کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایک سال قبل اپنے ازلی دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا، جبکہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور حوصلہ رکھتی ہیں۔
