ایران کے نئے صدر ڈاکٹرمسعود کون ہیں اور کیوں منتخب ہوئے؟

ایران میں صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں اصلاح پسند امیدوار مسعود پزشکیان اپنے حریف اور سخت گیر رہنما سعید جلیلی کو شکست دے کرایران کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق اصلاح پسند مسعود پزشکیان کی جیت کے باوجود ایرانی پالیسیوں میں تبدیلی ناممکن نظر آتی ہے۔ مسعود پزشکیان ملک میں داخلی اصلاحات پر تو کام کرینگے تاہم امور خارجہ میں وہ سابقہ ریاستی پالیسیوں کو ہی لے کر چلیں گے جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں ایران کے اسرائیل یا یورپی ممالک سے حالات کی بہتری کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے الیکشن ہیڈکوارٹر کی جانب سے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے نتائج کے مطابق تین کروڑ افراد نے الیکشن کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جن میں سے ایک کروڑ 63 لاکھ سے زیادہ افراد نے مسعود پزشکیان کو ووٹ دیا جبکہ سعید جلیلی کو ایک کروڑ 35 لاکھ سے زیادہ ووٹ پڑے۔ یوں الیکشن کے دوسرے مرحلے کے دوران ووٹر ٹرن آؤٹ 49 فیصد رہا۔

یاد رہے کہ 28 جون کو ایران میں صدارتی انتخاب منعقد ہوئے تھے، تاہم انتخاب میں کوئی بھی امیدوار مطلوبہ 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کر سکا جس کے بعد پانچ جولائی کو صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

تاہم ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے صدر منتخب ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ نو منتخب ایرانی صدر کون ہیں اور کیا اصلاح پسند صدر ایران کو سیاسی تنہائی اور محاذ آرائی سے نکالنے میں کامیاب ہونگے؟ مبصرین کے مطابق ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایران کے سخت گیر اور قدامت پسند حلقوں سے باہر ایک ایسے رہنما ہیں جو ملک کے اندرونی اور بیرونی محاذ پر الگ حکمت عملی اپنانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔70 سالہ مسعود پزشکیان ایران کے علاقے ماہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ارمیا میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، انھوں نے ایران کے اسلامی انقلاب سے پہلے تبریز یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی۔وہ ایک ہارٹ سرجن ہیں اور سابق وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ مغرب سے تعلقات بہتر کریں گے اور جوہری مذاکرات کو بحال کریں گے تاکہ ملک کی معیشت کو کمزور کرنے والی عالمی پابندیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔مسعود کو عوامی سطح پر دو سابق اصلاح پسند صدور کی حمایت بھی حاصل ہے جن میں حسن روحانی اور محمد خاتمی شامل ہیں۔ سابق وزیر خزانہ جواد ظریف بھی ان کے حامیوں میں شامل ہیں۔مسعود پزشکیان خواتین کو حجاب پہننے پر مجبور کرنے والی ایران کی اخلاقی پولیس کو ’غیر اخلاقی‘ قرار دے چکے ہیں۔

۔70 سالہ مسعود پزشکیان سمجھتے ہیں کہ ’اگر مخصوص کپڑے پہننا گناہ ہے تو خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ اختیار کیا جانے والا یہ رویہ 100 گنا بڑا گناہ ہے۔ مذہب میں کسی کے لباس کی وجہ سے ان سے سختی کی اجازت نہیں۔‘

مسعود پزشکیان دوسری اصلاحاتی حکومت میں صحت اور طبی تعلیم کے وزیر تھے۔وہ پانچ بار ایران کی پارلیمنٹ کے رکن اور ایک بار اس کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔انتخابی مہم کے دوران مسعود پزشکیان کے وعدے سماجی انصاف، متوازن ترقی اور اصلاحات پر مرکوز رہے۔انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا کہ وہ ایک شفاف معاشی نظام تشکیل دے کر اور بدعنوانی سے لڑ کر، اقتصادی ترقی کے لیے بنیاد فراہم کریں گے، اور ان کا خیال ہے کہ اقتصادی ڈھانچے میں اصلاحات کر کے اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مناسب پلیٹ فارم تیار کر کے، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بدعنوانی کو کم کرنا ممکن ہے۔انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں صحت کے نظام میں اصلاحات، طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانا اور علاج کے اخراجات کو کم کرنا سمیت ملک میں تعلیمی حالات کو بہتر کرنے اور سکولوں اور یونیورسٹیوں کے معیار کو بڑھانے کے وعدے بھی کیے ہیں۔

Back to top button