عمران اورمولانا فوجی آپریشن کی مخالفت میں اکٹھے کیوں ہو گئے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ حکومت نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف عزم استحکام نامی فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ تو کر لیا لیکن تحریک انصاف نے بھی شاطر چال چلتے ہوئے پیٹ کے نچلے حصے پر ضرب لگائی ہے اور اسکی مخالفت کر دی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کے پی میں اس کی حکومت ہے لہذا اسکی مرضی کے بغیر کوئی آپریشن نہیں ہو سکتا۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان نیازی اور مولانا فضل الرحمان پاکستانی طالبان کیساتھ کھڑے ہیں جسکا مطلب یہ ہوا کہ پختونخوا کی غالب اکثریت اس وقت طالبان سے جنگ کے خلاف رائے دے گی، لہازا جب تک آپریشن کے لیے رائے عامہ ہموار نہیں ہو جاتی تب تک افغانستان کے اندر گھس کر کوئی بھی ایکشن کرنا فائدہ مند نہیں ہوگا ، ہمیں پہلے اپنے گھر کے اندرونی معاملات سلجھانے چاہیئں اور بیرونی حکمت عملی بعد میں بنائی جائے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ تحریک انصاف نے ایک زبردست چال چلتے ہوئے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی ہے جو کہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک کاری ضرب ہے، تحریک انصاف کا خیال ہے کہ آپریشن کے معاملے میں حکومت اور فوج کو لچک دکھانا پڑے گی بلکہ جھکنا پڑے گا، دیکھیں ایسا ہو پاتا ہے یا نہیں؟ سہیل وڑائچ کے بقول پاکستان کے افغانستان سے تعلقات کا معاملہ بھی گھمبیر ہوتا جا رہا ہے، ایک طرف افغانستان کے اندر پاکستانی طالبان پر حملے کی تیاری ہو رہی ہے تو دوسری طرف افغانستان سے سڑک گزار کر وسطِ ایشیا تک جانے کے منصوبے کو قطر میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ میری ناقص رائے میں افغانستان سے تجارتی روٹ بالخصوص وسطِ ایشیا تک زمینی راستے کا کھلنا بالآخر افغان سوچ کو بدل دے گا۔ جنگ شاید اتنی فائدہ مند نہ ہو جتنا یہ تجارتی روٹ ہوگا۔

سہیل وڑائچ کے مطابق حالات کے تیور پڑھیں تو صاف لگ رہا ہے کہ فوج اور تحریک انصاف کے درمیان اگر کبھی مفاہمت پر ہل چل ہوئی بھی تھی تو اب وہ تمام کوششیں دم توڑ چکی ہیں، فوج اور اسکے ساتھ شریک اقتدار مسلم لیگ کو ابھی کوئی فوری خطرہ نظر نہیں آ رہا، حاکم کوئی سیاسی بیانیہ بنائے بغیر صرف اور صرف معاشی ترقی پر فوکس کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر اس حوالے سے کامیابی ملی تو اسے ہی بیانیے کے طور پر پیش کیا جائے گا، یہی وجہ ہے کہ کابینہ کی ساخت بھی سیاسی نہیں بلکہ پروفیشنل اور ٹیکنوکریٹک ہے۔

سہیل وڑایچ کہتے ہیں کہ کابینہ کے سب سے اہم وفاقی وزیر احد چیمہ ہیں جو بیورو کریٹ ہیں لیکن شہباز شریف کا ساتھ دینے کی وجہ سے لمبی سزا بھگت چکے ہیں، وہ اچھے منیجر تو ہوں گے مگر انہوں نے نہ کبھی سیاست کا ذائقہ چکھا ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی حلقے کی سیاست کرنی ہے ۔ محسن نقوی ، مصدق ملک اور اعظم نذیر تارڑ ایوان بالا کے رکن ہیں، گویا روزمرہ کی سیاست سے دورہیں۔ عطا اللہ تارڑ گو سیاسی بیان بازی میں طاق ہیں مگر وہ بھی بنیادی طور پر ٹیکنو کریٹ ہیں۔ وزیر خزانہ اورنگزیب رمدے کا تعلق سیاسی خاندان سے ضرور ہے مگر وہ بھی ٹیکنو کریٹ ہیں، آ جا کر پنجاب سے خواجہ آصف، رانا تنویر، اویس لغاری اور ریاض پیرزادہ بچتے ہیں جو زمینی سیاست کرتے ہیں اور اپنے حلقے کے ووٹرز کو جوابدہ ہیں۔ کابینہ کی ساخت سے ہی انداز ہوگیا تھا کہ شہباز شریف سیاسی اور عوامی نہیں ٹیکنوکریٹ کابینہ بنا کر چلانا چاہتے ہیں، اسی ٹیم کی وجہ سے ابھی تک کوئی سیاسی بیانیہ نہیں بنا۔ اس کابینہ کو طاقت صرف اورصرف تیر اور تلوار سے مل رہی ہے، بیانیہ نہ ہو تو اخلاقی اور سیاسی بنیادیں تشکیل نہیں پاتیں، حکومت چلتی رہتی ہے مگر اخلاقی اور سیاسی خلا رہ جاتا ہے اب بھی ایسا ہی ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پڑوسی ملک بھارت میں انتخابات کے بعد پارلیمان کی کارروائی دیکھیں تو یہاں اور وہاں کی جمہوریت میں آزادیوں کافرق صاف نظر آ جاتا ہے۔ امریکی انتخابات میں جس طرح ٹرمپ اور بائیڈن کا مباحثہ ہوا ہے اور پھر اس کے حوالے سے بائیڈن پر جو تنقید ہو رہی ہے اس سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ برطانیہ میں لیبر پارٹی نے 15سال اپوزیشن میں گزارے لیکن بالآخر اسے اقتدار مل رہا ہے، ان ملکوں کے انتخابات ، مباحثے اور لوگوں کی شرکت دیکھ کر رشک آتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان یے جہاں ایک طرف تو حکمرانوں کے گلے میں مہنگائی کا طوق پڑا ہے اور دوسری طرف جیل میں قید کپتان کو اصلاحِ احوال کی کوئی جلدی نظر نہیں آتی۔ ان کا خیال ہے کہ جتنا وقت گزرے گا حکومت اور معیشت اتنی ہی کمزور ہوتی چلی جائے گی، ان کی سوچ یہ ہے کہ بین الاقوامی دبائو، مہنگائی اور بے چینی بالآخر تحریک انصاف کا راستہ ہموار کردے گی اور یوں حکومت ان کی جھولی میں آ گرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کوئی مصالحتی فارمولا تسلیم کرنے کے بجائے’’ انتظار کرو کہ سب کچھ گرنے والا ہے ‘‘کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔

بقول سہیل وڑائچ ایک طرف طاقت ور کو ناز ہے کہ طاقت اور اختیار اس کے پاس ہے جس کے چیلنج ہونے کا کوئی امکان نہیں، دوسری طرف جیل والے کو یقین ہے کہ معیشت اور سیاسی گورننس کا یہ ماڈل چل نہیں سکے گا۔ دونوں اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں لیکن 24 کروڑ عوام کا کیا قصور ہے کہ وہ بے چارے تب تک ظلم، غربت، استحصال اور محرومیوں کی چکی میں پستے رہیں جب تک ان میں سے کوئی ایک فریق فتح یاب نہیں ہو جاتا۔؟ لہازا میرا وہی موقف ہے کہ سیاسی مصالحت اور مفاہمت اس بحران سے نکلنے کا واحد پرامن حل ہے، باقی سب حل خونیں ہیں، جن کے بارے میں ہمیں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ محمود خان اچکزئی والا راستہ تحریک انصاف اور حکومت دونوں کیلئے بہترہے لیکن یہ راستہ بھی تبھی اختیار ہو سکے گا جب حکومت کچھ سیٹوں کی قربانی دینے کو تیار ہو اور تحریک انصاف موجودہ حکومت کو دل و جان سے تسلیم کرنے پر رضا مند ہو۔ بظاہر اس حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔

Back to top button