پرزے بنانے والے کا بیٹا سٹامر برطانیہ کا وزیراعظم کیسے بن گیا؟

عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی کامیابی کے بعد ایک ٹول میکر اور نرس کا بیٹا سر کیئر سٹامر برطانیہ کا نیا وزیر اعظم بن گیا ہے۔

خیال رہے کہ لیبر پارٹی کی موجودہ انتخابات میں فتح کے نتیجے میں 14 برس بعد اقتدار میں آئی ہے اور اس سیاسی جماعت کو بائیں بازو سے مرکز کی جانب لانے کے لیے سٹامر نے کافی کوشش کی تاکہ وہ الیکشن میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے۔

برطانیہ کے نئے وزیر اعظم سٹامر نے50 کے پیٹے میں پہلی بار برطانوی دارالعوام کا رکن بننے سے پہلے  وکالت کے شعبے میں اپنا نام بنایا تھا تاہم انھیں ہمیشہ سے سیاست میں دلچسپی تھی اور اپنی جوانی میں وہ بائیں بازو کی سخت گیرسیاست کے حامی تھے۔وہ سنہ 1962 میں لندن میں پیدا ہوئے اور ان کا بچپن جنوب مشرقی انگلینڈ میں سری کاؤنٹی میں گزرا۔ ان کی دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔

سٹامر اکثر کہتے ہیں کہ وہ مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد ایک کارخانے میں اوزار بناتے تھے اور ان کی والدہ ایک نرس تھیں۔ان کے گھر والے لیبر پارٹی کے پرانے حامی تھے سٹامر کے گھر میں سکون نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کہ والد سرد مہر تھے اور زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ ان کی والدہ کی زیادہ تر زندگی بیماریوں سے لڑتے ہوئے گزری۔بیماری سے لڑتے لڑتے بالآخر وہ چلنے اور بولنے سے قاصر ہو گئیں اور بیماری کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹنی پڑی۔

سٹامر نے 16 سال کی عمر میں لیبر پارٹی کی مقامی یوتھ برانچ میں شمولیت اختیار کی۔ سٹامر اپنے خاندان میں یونیورسٹی جانے والے پہلے فرد تھے۔ انھوں نے لیڈز اور آکسفرڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر انسانی حقوق کے ماہر وکیل کی حیثیت سے کام کیا۔سنہ 2008 میں سٹامر کو پبلک پراسیکیوشن کا ڈائریکٹر اور کراؤن پراسیکیوشن سروس کا سربراہ بنایا گیا جس کے بعد وہ برطانیہ اور ویلز میں سب سے سینیئر پراسیکیوٹر بن گئے تھے۔سنہ 2013 میں انھوں نے یہ ملازمت ترک کی جبکہ سنہ 2014 میں انھیں ’سر‘ کا خطاب دیا گیا۔سٹامر سنہ 2015 میں لندن کے حلقے ہولبرن اور سینٹ پینکریاز سے رکن پارلیمنٹ کے طور پر دارالعوام کا حصہ بنے۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں ووٹ دینے کے بعد سٹامر کو بریگزٹ کا ’شیڈو سیکرٹری‘ بنا دیا گیا۔ اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے انھوں نے دوسرا ریفرینڈم کروانے کی کوشش کی۔سٹامر کو سنہ 2019 میں عام انتخابات کے بعد لیبر پارٹی کا سربراہ بننے کا موقع ملا جب عام انتخابات میں سنہ 1935 کے بعد پارٹی کو اب تک کی بدترین شکست ملی۔ اسی شکست نے جیریمی کوربن کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔

سٹامر نے بھی لیبر پارٹی کی قیادت بائیں بازو کے پلیٹ فارم سے ہی حاصل کی۔ انھوں نے توانائی اور پانی کی کمپنیوں کو قومیانے اور یونیورسٹی کے طلبا کے لیے مفت تعلیم کی وکالت کی تھی جبکہ کوربن نے لیبر کو بائیں بازو اور اعتدال پسندوں کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔تاہم بعد میں سٹامر نے کوربن کو لیبر پارٹی کی پارلیمانی پارٹی سے معطل کر دیا تھا کیونکہ کوربن کی قیادت کے دور میں ایک یہود مخالف تنازع سامنے آیا تھا۔

سٹامر کے مخالفین اکثر ’سست رو‘ ہونے پر ان کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن سٹامر خود کو قواعد و قوانین کے سخت پابند کے طور پر پیش کرنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے ایک ساتھی نے انھیں ’مسٹر رولز‘ کہہ کر پکارا۔انھوں نے صرف ایک بار قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ جوانی میں انھیں پولیس نے بغیر ٹریڈ پرمٹ کے آئس کریم بیچتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔ وہ آئس کریم ضبط کر لی گئی تھی تاہم مزید کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔انٹرویوز میں وہ اپنی شخصیت کو زیادہ نمایاں نہیں ہونے دیتے لیکن اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان میں مقابلے کا جذبہ خوب موجود ہے۔برطانوی اخبار گارڈیئن سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’مجھے شکست سے نفرت ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ صرف شرکت بھی معنی رکھتی ہے لیکن میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں۔‘ اپنے اسی جذبے کی وجہ سے ایک عام کارکن کا بیٹا آج برطانیہ کا وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

Back to top button