کیا جیل میں بند کپتان اپنی پی ٹی آئی کو ٹوٹنے سے بچا پائے گا؟

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران کو جیل میں تقریباً ایک برس ہو چکا ہے جس کے وجہ سےجماعت کا تنظیمی ڈھانچہ متاثر ہونے، سیاسی قیادت میں تبدیلی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے سوال سمیت کئی عوامل کی وجہ سے پارٹی اختلافات کا شکار ہو چکی ہے۔اس عرصے میں جہاں کئی سیاسی رہنما تحریک انصاف کو خیرباد کہہ گئے وہیں کئی اہم رہنما نو مئی کے واقعے کے بعد گرفتاریوں اور مقدمات سے بچنے کے لیے روپوش ہوئے اور ایک نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی۔عام انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کے بعد بہت سارے روپوش رہنما بھی منظر عام پر آ گئے تاہم متعدد مقدمات میں قانونی ریلیف حاصل کرنے کے باوجود عمران خان جیل سے باہر نہ آ سکے اور اس دوران تحریک انصاف میں اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمرانڈو رہنماؤں کے آپسی اختلافات کی نوعیت کیا ہے اور ان کی وجہ سے تحریک انصاف کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟ پی ٹی آئی کے اندر اختلافی آوازیں کب اور کیسے بلند ہونا شروع ہوئیں اور آیا جیل میں قید عمران خان کے لیے ان اختلافات کو دور کرنا ممکن ہو گا یا نہیں؟
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت گذشتہ کئی مہینوں سے واضح تقسیم کا شکار نظر آ رہی ہے۔ماضی میں پارٹی چھوڑ کر جانے والے فواد چوہدری حال ہی میں منظرِ عام پر آئے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے جماعت کے اندر رسہ کشی مزید شدت اختیار کر گئی۔تاہم یہ اختلافات نئے نہیں ہیں۔
انتخابی امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی ماجد نظامی کے مطابق تحریک انصاف کا پہلے بھی کوئی مضبوط تنظیمی سٹرکچر نہیں تھا۔ ’یہ جماعت پہلے دن سے لے کر آج تک عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے۔‘ان کے مطابق اس سے پہلے ہمارے پاس ایم کیو ایم کی مثال تھی جس جماعت کے پاس ایک مقبول شخصیت کے علاوہ ایک مضبوط تنظیمی سٹرکچر بھی موجود تھا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کا معاملہ مختلف ہے۔ ’جب عمران خان پر مشکل پڑی تو پھر پارٹی کا تنظیمی سٹرکچر نظر نہیں آیا اور بہت سارے لوگ پارٹی چھوڑ گئے۔‘
تاہم سینئر تجزیہ کار عارفہ نورکے مطابق ’تحریک انصاف جب برسراقتدار تھی تو بھی اس جماعت کے لیے ڈسپلن ایک مسئلہ رہا اور اس طرح کے معاملات تحریک انصاف کے اندر بہت نمایاں تھے اور ایسے اختلافات پر حکومت میں ہوتے ہوئے بھی کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔‘ان کی رائے میں ابھی جو پارٹی میں اختلافات اور گروپنگ نظر آ رہی ہے ’یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کیونکہ اب پارٹی کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔‘عارفہ نور کے مطابق ’ابھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی جیل میں ہیں۔ بہت سے لوگ پہلے ہی پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں اور کسی نہ کسی صورت ابھی بھی کریک ڈاؤن ہو رہے ہیں تو ایسے میں پارٹی میں اختلافات ایک فطری امر ہے۔‘ایسے اختلافات سے پارٹی کو ممکنہ طور پر پہنچنے والے نقصان سے متعلق ایک سوال پر عارفہ نور نے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں میں اس طرح کے مسئلے رہتے ہیں مگر شاید تحریک انصاف میں زیادہ مسئلے نظر آنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جماعت بہت جلد ‘گرو’ کی ہے یعنی پھلی پھولی ہے۔‘ان کے مطابق تحریک انصاف کی بنیاد تو ضرور سنہ 1996 میں رکھی گئی مگر یہ جماعت سنہ 2011 تک ایک چھوٹی سی جماعت تھی۔ ’تاہم یہ سنہ 2011 کے بعد سے مقبول ہونا شروع ہوئی اور اس وقت یہ مقبول ترین جماعت ہے۔‘ان کے مطابق ’تحریک انصاف میں کارکن کی بھی ایک جگہ ہے اور یہاں کارکن کی بھی ایک رائے ہوتی ہے جس وجہ سے اختلافات زیادہ نظر آتے ہیں مگر یہ کوئی نقصان دہ نہیں ہیں یہ تو پارٹی کی مقبولیت کی علامت ہیں۔‘
پارٹی میں ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتے اختلافات کے بعد عمران خان نے خود پارٹی میں گروپنگ ختمن کروانے میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان جیل سے پارٹی کے اختلافات دور کر سکیں گے؟
مبصرین کے مطابق اگر جیل سے عمران خان اپنی پارٹی میں پیدا ہونے والے اختلافات دور کرنا چاہیں تو اس کے لیے پہلی شرط تو یہی ہے کہ وہ جب جس سے ملنا چاہیں وہ ملاقات ہو جائے۔ مگر بظاہر اس کے امکانات بھی زیادہ نہیں ہیں۔تاہم تجزیہ کار عارفہ نور کا ماننا ہے کہ عمران خان پارٹی کے اندر اختلافات دور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ اب عمران خان بہت مقبول ہیں۔‘عارفہ نور کے مطابق ’شیر افضل مروت بہت مشہور ہو گئے تھے مگر جب عمران خان نے انھیں کنارہ کش کیا تو پھر وہ حقیت میں کنارے پر چلے گئے۔‘ان کے مطابق ’عمران خان پر اب ان اختلافات کو دور کرانے سے متعلق کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہو گا۔ ہاں البتہ ان پر کارکن کی رائے کا دباؤ ضرور ہو گا باقی جو بھی وہ فیصلہ کریں گے خود کریں گے۔‘
دوسری جانب ماجد نظامی کے خیال میں عمران خان کے لیے پارٹی کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو دور کرانا آسان نہیں ہوگا۔’ان کی مجبوری ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں تا کہ پارٹی میں دراڑ کا تاثر نہ رہے۔‘تاہم ان کے مطابق ’عمران خان کو یہ اختلافات دور کرنے کی ایسی بڑی فکر بھی نہیں ہے کیونکہ آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مقبولیت صرف عمران خان کی ہی ہے۔‘
تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران کو جیل میں تقریباً ایک برس ہو چکا ہے جس کے وجہ سےجماعت کا تنظیمی ڈھانچہ متاثر ہونے، سیاسی قیادت میں تبدیلی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے سوال سمیت کئی عوامل کی وجہ سے پارٹی اختلافات کا شکار ہو چکی ہے۔اس عرصے میں جہاں کئی سیاسی رہنما تحریک انصاف کو خیرباد کہہ گئے وہیں کئی اہم رہنما نو مئی کے واقعے کے بعد گرفتاریوں اور مقدمات سے بچنے کے لیے روپوش ہوئے اور ایک نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی۔عام انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کے بعد بہت سارے روپوش رہنما بھی منظر عام پر آ گئے تاہم متعدد مقدمات میں قانونی ریلیف حاصل کرنے کے باوجود عمران خان جیل سے باہر نہ آ سکے اور اس دوران تحریک انصاف میں اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمرانڈو رہنماؤں کے آپسی اختلافات کی نوعیت کیا ہے اور ان کی وجہ سے تحریک انصاف کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟ پی ٹی آئی کے اندر اختلافی آوازیں کب اور کیسے بلند ہونا شروع ہوئیں اور آیا جیل میں قید عمران خان کے لیے ان اختلافات کو دور کرنا ممکن ہو گا یا نہیں؟
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت گذشتہ کئی مہینوں سے واضح تقسیم کا شکار نظر آ رہی ہے۔ماضی میں پارٹی چھوڑ کر جانے والے فواد چوہدری حال ہی میں منظرِ عام پر آئے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے جماعت کے اندر رسہ کشی مزید شدت اختیار کر گئی۔تاہم یہ اختلافات نئے نہیں ہیں۔
انتخابی امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی ماجد نظامی کے مطابق تحریک انصاف کا پہلے بھی کوئی مضبوط تنظیمی سٹرکچر نہیں تھا۔ ’یہ جماعت پہلے دن سے لے کر آج تک عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے۔‘ان کے مطابق اس سے پہلے ہمارے پاس ایم کیو ایم کی مثال تھی جس جماعت کے پاس ایک مقبول شخصیت کے علاوہ ایک مضبوط تنظیمی سٹرکچر بھی موجود تھا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کا معاملہ مختلف ہے۔ ’جب عمران خان پر مشکل پڑی تو پھر پارٹی کا تنظیمی سٹرکچر نظر نہیں آیا اور بہت سارے لوگ پارٹی چھوڑ گئے۔‘
تاہم سینئر تجزیہ کار عارفہ نورکے مطابق ’تحریک انصاف جب برسراقتدار تھی تو بھی اس جماعت کے لیے ڈسپلن ایک مسئلہ رہا اور اس طرح کے معاملات تحریک انصاف کے اندر بہت نمایاں تھے اور ایسے اختلافات پر حکومت میں ہوتے ہوئے بھی کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔‘ان کی رائے میں ابھی جو پارٹی میں اختلافات اور گروپنگ نظر آ رہی ہے ’یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کیونکہ اب پارٹی کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔‘عارفہ نور کے مطابق ’ابھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی جیل میں ہیں۔ بہت سے لوگ پہلے ہی پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں اور کسی نہ کسی صورت ابھی بھی کریک ڈاؤن ہو رہے ہیں تو ایسے میں پارٹی میں اختلافات ایک فطری امر ہے۔‘ایسے اختلافات سے پارٹی کو ممکنہ طور پر پہنچنے والے نقصان سے متعلق ایک سوال پر عارفہ نور نے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں میں اس طرح کے مسئلے رہتے ہیں مگر شاید تحریک انصاف میں زیادہ مسئلے نظر آنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جماعت بہت جلد ‘گرو’ کی ہے یعنی پھلی پھولی ہے۔‘ان کے مطابق تحریک انصاف کی بنیاد تو ضرور سنہ 1996 میں رکھی گئی مگر یہ جماعت سنہ 2011 تک ایک چھوٹی سی جماعت تھی۔ ’تاہم یہ سنہ 2011 کے بعد سے مقبول ہونا شروع ہوئی اور اس وقت یہ مقبول ترین جماعت ہے۔‘ان کے مطابق ’تحریک انصاف میں کارکن کی بھی ایک جگہ ہے اور یہاں کارکن کی بھی ایک رائے ہوتی ہے جس وجہ سے اختلافات زیادہ نظر آتے ہیں مگر یہ کوئی نقصان دہ نہیں ہیں یہ تو پارٹی کی مقبولیت کی علامت ہیں۔‘
پارٹی میں ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتے اختلافات کے بعد عمران خان نے خود پارٹی میں گروپنگ ختمن کروانے میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان جیل سے پارٹی کے اختلافات دور کر سکیں گے؟
مبصرین کے مطابق اگر جیل سے عمران خان اپنی پارٹی میں پیدا ہونے والے اختلافات دور کرنا چاہیں تو اس کے لیے پہلی شرط تو یہی ہے کہ وہ جب جس سے ملنا چاہیں وہ ملاقات ہو جائے۔ مگر بظاہر اس کے امکانات بھی زیادہ نہیں ہیں۔تاہم تجزیہ کار عارفہ نور کا ماننا ہے کہ عمران خان پارٹی کے اندر اختلافات دور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ اب عمران خان بہت مقبول ہیں۔‘عارفہ نور کے مطابق ’شیر افضل مروت بہت مشہور ہو گئے تھے مگر جب عمران خان نے انھیں کنارہ کش کیا تو پھر وہ حقیت میں کنارے پر چلے گئے۔‘ان کے مطابق ’عمران خان پر اب ان اختلافات کو دور کرانے سے متعلق کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہو گا۔ ہاں البتہ ان پر کارکن کی رائے کا دباؤ ضرور ہو گا باقی جو بھی وہ فیصلہ کریں گے خود کریں گے۔‘
دوسری جانب ماجد نظامی کے خیال میں عمران خان کے لیے پارٹی کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو دور کرانا آسان نہیں ہوگا۔’ان کی مجبوری ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں تا کہ پارٹی میں دراڑ کا تاثر نہ رہے۔‘تاہم ان کے مطابق ’عمران خان کو یہ اختلافات دور کرنے کی ایسی بڑی فکر بھی نہیں ہے کیونکہ آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مقبولیت صرف عمران خان کی ہی ہے۔‘
