ایران-امریکا مذاکرات: پزشکیان ٹرمپ ملاقات پر ڈیڈلاک برقرار

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے دورۂ امریکا کے دوران ملاقات کے امکانات تقریباً ختم ہوگئے ہیں،تاہم بعض ممالک اب بھی دونوں صدور کی ملاقات کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق بظاہر ملے جلے پیغامات دیے جا رہے ہیں، تاہم عملی طور پر واشنگٹن کی پالیسیاں جارحانہ ہیں۔
اہلکار بتایا کہ ایرانی صدر پزشکیان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا امکان اس لیے نہیں ہے کیوں کہ امریکی صدر کا رویہ انتہائی سخت ہے اور وہ حالیہ تجاویز پر یکطرفہ پوزیشن اختیار کیےہوئے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار نے صدر پزشکیان کی روانگی کے موقع پر دونوں صدور کی ممکنہ ملاقات سے متعلق سوال پر کہا کہ اس کے امکانات انتہائی کم ہیں تاہم اب اسے تقریباً خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔
مصدقہ ذرائع کا کہنا ہےکہ صدر پزشکیان کی امریکا سے وطن واپسی اتوار کو طے ہےاور بعض ممالک کی کوشش ہےکہ اس سے پہلے دونوں صدور کی ون آن ون ملاقات کا اہتمام کیا جائے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی: امریکی اخبار
ذرائع کاکہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات کسی مرحلے پر اگر ہوگی بھی تو اس کےلیے صدر پزشکیان کو ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کی اجازت اور ہدایات کی ضرورت ہوگی۔
سفارتی ذرائع کاکہنا ہےکہ ایران نے جنگ ختم کرنے اور دنیا کو یہ پیغام دینے کےلیے کہ وہ امن کا خواہاں ہے،اقوام متحدہ کے دورے سے پہلے ہی سات نکاتی امن تجاویز ثالثوں میں سے ایک قطر کے ذریعے امریکا کو بھجوادی تھیں اور اب اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کےتحت 7 روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کا لائحہ عمل بھی پیش کردیا تھا۔
