پنجاب کے نشئیوں نے خیبرپختونخوا میں ڈیرے کیوں ڈال لئے؟

پنجاب میں منشیات فروشوں کے خلاف کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں میں تیزی اور مختلف مقابلوں میں مبینہ منشیات فروشوں کی ہلاکتوں کے بعد منشیات کے منظم نیٹ ورک نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا شروع کر دی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث مافیا نے اپنے رابطوں اور سہولت کاروں کو متحرک کرتے ہوئے نیٹ ورک کے بعض حصے خیبرپختونخوا منتقل کر دیے ہیں، جبکہ بلوچستان تک بھی اس نیٹ ورک کے رابطوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
پنجاب میں منشیات کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ حالیہ عرصے میں خاصا وسیع ہوا ہے۔ سی سی ڈی نے منشیات فروشوں اور سپلائرز کے خلاف سخت کارروائی اور تعلیمی اداروں کے گرد منشیات کی فروخت روکنے کے لیے بھی خصوصی منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ستمبر میں مختلف کارروائیوں کے دوران مبینہ منشیات فروشوں کے ساتھ مقابلوں میں ہلاکتوں کی متعدد اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایک حالیہ کارروائی میں فیصل آباد کے ایک مبینہ بڑے آئس ڈیلر کے بارے میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس سے بڑی مقدار میں آئس، افیون اور چرس برآمد ہوئی، جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور دیگر علاقوں میں بھی سی سی ڈی کے مبینہ مقابلوں میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق پنجاب میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے پہلے سے مرتب فہرستوں کی بنیاد پر کارروائی شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں لاہور سمیت مختلف اضلاع میں منشیات کے کاروبار سے منسلک کئی افراد قانون کی گرفت میں آئے یا مقابلوں میں مارے گئے۔ تاہم کارروائیوں کے باوجود یہ مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور بعض علاقوں میں نیٹ ورک نے وقتی دباؤ کے بعد دوبارہ سرگرمیاں شروع کرنے کی کوشش کی۔ اسی پس منظر میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ منشیات کے بڑے گروہوں نے پنجاب میں براہ راست سرگرمیاں کم کرکے اپنے بعض رابطے خیبرپختونخوا اور بلوچستان منتقل کر دیے ہیں، جبکہ پنجاب کے اندر موجود کارندوں کو بھی زیادہ محتاط انداز میں کام کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
منشیات کے اس مبینہ نیٹ ورک کی علاقائی نوعیت کا ایک پہلو حالیہ ایک دوسری پولیس کارروائی سے بھی سامنے آتا ہے۔ کراچی پولیس نے ستمبر میں افغانستان سے منسلک ایک مبینہ منشیات نیٹ ورک کے دو افراد کو گرفتار کرنے اور 19 کلوگرام سے زائد آئس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ نیٹ ورک مختلف راستوں کے ذریعے لاہور اور پنجاب تک منشیات پہنچاتا اور پھر ملک کے دوسرے حصوں میں تقسیم کرتا تھا۔ اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ منشیات کی ترسیل محض ایک شہر یا صوبے تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ مختلف صوبوں اور سرحد پار رابطوں پر مشتمل پیچیدہ نیٹ ورک بھی موجود ہیں، اگرچہ ہر کارروائی کو ایک ہی نیٹ ورک سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں بھی منشیات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ صوبائی محکمہ ایکسائز کے مطابق ستمبر میں پشاور، چارسدہ، مردان، ایبٹ آباد، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر علاقوں میں چرس، ہیروئن اور آئس کی بڑی مقدار برآمد کرکے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ایک کارروائی میں چارسدہ سے 23.46 کلوگرام ہیروئن برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ ایک اور کارروائی میں آئس، چرس، افیون اور ہیروئن سمیت مختلف منشیات برآمد کرکے ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اس لیے اگر پنجاب سے کسی منشیات نیٹ ورک کے خیبرپختونخوا منتقل ہونے کا دعویٰ درست بھی ہو تو اسے ایسے ماحول کا سامنا ہوگا جہاں صوبائی ادارے پہلے ہی منشیات کی ترسیل کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
اس پورے معاملے کا سب سے حساس پہلو مقابلوں میں منشیات فروشوں کی ہلاکتیں ہیں۔ پولیس کا مؤقف عموماً یہ رہا ہے کہ کارروائی کے دوران مسلح ملزمان نے فائرنگ کی اور اہلکاروں نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔ حالیہ واقعات میں بھی پولیس نے بعض ہلاک ہونے والے ملزمان کے بارے میں دعویٰ کیا کہ انہیں ان کے اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے گولیاں لگیں، جبکہ بعض واقعات میں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے یا ہلاک ہوئے۔ ایسے واقعات میں ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں، اس لیے ہلاکتوں کی نوعیت اور قانونی جواز کا تعین متعلقہ تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج ہونے اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث فیلڈ میں موجود اہلکاروں پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ تاہم یہ تاثر کہ کسی زیرحراست ملزم کی موت لازماً قدرتی وجہ، مثلاً دل کا دورہ، سے ہوئی، یا یہ کہ پولیس کارروائی کے دوران جان بوجھ کر کسی اور طریقے سے ہلاکت ہوئی، ایسے دعوے ہیں جن کی تصدیق کے لیے پوسٹ مارٹم، طبی ریکارڈ، عدالتی تحقیقات اور دیگر شواہد ضروری ہوتے ہیں۔ محض ذرائع کے دعوے کی بنیاد پر ان میں سے کسی ایک مؤقف کو حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سی سی ڈی کے ترجمان واحد چودھری نے منشیات فروشوں سمیت جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کو محکمہ کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کارروائی کے دوران کوئی ملزم اہلکار پر گن تانے تو قانون کے مطابق جوابی کارروائی کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیوں کے نتیجے میں جرائم میں کمی اور جرائم پیشہ عناصر میں خوف پیدا ہوا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ پنجاب میں سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں منشیات کے کاروبار کو واقعی توڑا جا رہا ہے یا منظم گروہ صرف اپنے راستے، سہولت کار اور جغرافیائی مراکز تبدیل کر رہے ہیں۔ اگر ایک صوبے میں دباؤ بڑھنے سے نیٹ ورک دوسرے صوبوں میں منتقل ہوتا ہے تو صرف مقابلوں اور گرفتاریوں کے بجائے منشیات کی مالی معاونت، ترسیل کے راستوں، سہولت کاروں، سرحد پار رابطوں اور منی لانڈرنگ کے خلاف بھی مربوط کارروائی ضروری ہوگی۔ ورنہ ایک علاقے میں دباؤ بڑھنے کے بعد یہی کاروبار دوسرے علاقے میں نئی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں شفاف تحقیقات، قانونی نگرانی اور شواہد پر مبنی مقدمات بھی اس لیے اہم ہیں کہ منشیات کے خلاف جنگ مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ قانونی تقاضوں کے مطابق بھی آگے بڑھے۔
