مارچ، دھرنے اور احتجاج: عام آدمی کا کباڑہ کیسے نکالتے ہیں؟

پاکستان میں سیاسی احتجاج، دھرنے اور مارچ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے رہے ہیں کہ کیا سڑکوں کی بندش اور معمولاتِ زندگی میں خلل حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مؤثر ذریعہ بن چکا ہے، یا اس کی قیمت بالآخر معیشت اور عام شہری کو ادا کرنا پڑتی ہے؟ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مارچ، دھرنوں، ہڑتالوں، سڑکوں کی بندش اور معاشی سرگرمیوں کے تعطل سے معیشت کو روزانہ تقریباً 120 ارب روپے تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب سوال یہ ہے کہ اس نقصان کی ذمہ داری صرف احتجاج کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے یا حکومت کی جانب سے سڑکیں بند کرنے، کنٹینرز لگانے اور نقل و حرکت محدود کرنے کے فیصلے بھی معاشی نقصان میں برابر کا کردار ادا کرتے ہیں؟
اسلام آباد میں حالیہ سیاسی کشیدگی کے دوران حکومت نے بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے، شاہراہوں پر کنٹینرز رکھے گئے، بعض راستے بند کیے گئے اور اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی۔ پنجاب میں بھی اجتماعات پر پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ مخصوص علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس محدود کرنے کی درخواست کی گئی۔ ایسے اقدامات کا مقصد حکومت کے مطابق امن و امان برقرار رکھنا ہے، لیکن ان کے نتیجے میں کاروبار، ٹرانسپورٹ، روزگار اور شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
احتجاج کا فوری معاشی بوجھ سب سے زیادہ عام شہری، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، چھوٹے دکاندار اور چھوٹے کاروبار برداشت کرتے ہیں۔ راستے بند ہونے سے کاروباری سرگرمیاں محدود ہوتی ہیں، ٹرانسپورٹ متاثر ہوتی ہے اور روزانہ کمانے والے افراد کی آمدنی رک جاتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کو بھی اضافی سکیورٹی، پولیس، کنٹینرز، رہائش اور دیگر انتظامات پر خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ یوں احتجاج اور اسے روکنے کے حکومتی اقدامات، دونوں ہی معاشی سرگرمیوں پر دباؤ ڈالتے ہیں۔
سیاسی طور پر دیکھا جائے تو سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے دباؤ کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اپوزیشن کے لیے بڑے احتجاج کا مقصد حکومت کو مذاکرات پر آمادہ کرنا اور اپنے مطالبات کو قومی سیاسی بحث کا مرکز بنانا ہوتا ہے، جبکہ حکومت کا جواب سکیورٹی انتظامات، راستوں کی بندش اور قانونی پابندیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یوں ایک ایسا دائرہ بنتا ہے جس میں سیاسی کشمکش بڑھنے کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کا نقصان بھی بڑھتا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کا 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ اب 4 اکتوبر تک مؤخر ہو چکا ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق فیصلہ سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر کیا، جبکہ بعض پارٹی ذرائع نے راستوں کی بندش اور حکومتی سکیورٹی اقدامات کو بھی اس فیصلے کے پس منظر میں بیان کیا ہے۔ حکومت پہلے ہی وفاقی دارالحکومت اور اہم راستوں پر بڑے پیمانے پر انتظامات کر چکی تھی۔
یہ صورت حال اس بنیادی سوال کو مزید اہم بنا دیتی ہے کہ احتجاج آخر کس حد تک مؤثر سیاسی ہتھیار ہے؟ اگر احتجاج مکمل طور پر پرامن رہے اور شہریوں کی نقل و حرکت اور معاشی سرگرمیوں کو کم سے کم متاثر کرے تو یہ سیاسی اختلاف کے اظہار کا آئینی ذریعہ رہتا ہے۔ لیکن جب احتجاج یا اسے روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات شہری زندگی، کاروبار اور روزگار کو بڑے پیمانے پر متاثر کرنے لگیں تو اس کی معاشی قیمت بھی سیاسی عمل کا حصہ بن جاتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلاف اکثر مذاکرات کے بجائے سڑکوں تک پہنچ جاتا ہے۔ نتیجتاً سیاسی دباؤ تو بڑھتا ہے، لیکن اس کے ساتھ معاشی بے یقینی، کاروباری نقصان اور عام شہری کی مشکلات بھی بڑھتی ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال سامنے رکھ دیا ہے کہ کیا سیاسی مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں کو بند کرنا ضروری ہے، یا ایسا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے جس میں احتجاج کا حق بھی برقرار رہے اور ملک کی معاشی سرگرمیاں بھی کم سے کم متاثر ہوں۔
