افغانستان میں ملا عمر کی رہائش گاہ پاکستانی حملوں کا نشانہ کیسے بنی؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران قندھار میں طالبان کے بانی ملا محمد عمر کی سابق رہائش گاہ ’’سرائے عمر‘‘ بھی مبینہ پاکستانی فضائی حملے کی زد میں آنے کی اطلاعات نے خطے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس فوجی کمپاؤنڈ کے بعض ہینگرز کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ حملے کے بعد علاقے سے آگ اور دھویں کے مناظر بھی سامنے آئے۔ تاہم طالبان حکومت نے اس مخصوص مقام کو نشانہ بنائے جانے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور پاکستان نے بھی اپنے حملوں کے تمام اہداف کی تفصیلات جاری نہیں کیں، اس لیے سرائے عمر کو براہِ راست نشانہ بنائے جانے کی اطلاع کو فی الحال حتمی طور پر ثابت شدہ واقعہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
پاکستان نے 24 ستمبر کو تصدیق کی تھی کہ اس نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے، جنہیں اسلام آباد کے مطابق ان مقامات کے خلاف کارروائی قرار دیا گیا جہاں سے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرونز کو لانچ یا ذخیرہ کیا جا رہا تھا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق کارروائیاں مخصوص فوجی اہداف تک محدود تھیں اور انہیں پاکستان کے خلاف مبینہ ڈرون حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے قندھار، پکتیا اور خوست میں حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے 4 شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا اور جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔
قندھار میں سرائے عمر کا معاملہ اس لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ یہ مقام طالبان کی تاریخ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ملا محمد عمر نے 1994 میں قندھار سے طالبان تحریک کا آغاز کیا تھا اور یہ شہر طویل عرصے تک طالبان کی سیاسی، انتظامی اور نظریاتی سرگرمیوں کا مرکزی مقام رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر سرائے عمر واقعی کسی فوجی تنصیب یا عسکری مرکز کی حیثیت سے استعمال ہو رہا تھا اور اسے حملے میں نقصان پہنچا ہے تو اس واقعے کی اہمیت محض ایک فوجی تنصیب تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے تاریخی اور علامتی پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔
سرائے عمر کی اہمیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ماضی میں اس مقام کا استعمال غیر ملکی افواج کے ہاتھ میں بھی رہا۔ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد یہ علاقہ دوبارہ طالبان کے کنٹرول میں آیا اور بعد ازاں اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اسی تناظر میں بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اگر یہاں موجود فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے تو ممکنہ ہدف اس جگہ کی تاریخی نسبت نہیں بلکہ اس کی موجودہ عسکری اہمیت ہو سکتی ہے۔
اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حملے کا اصل ہدف کیا تھا۔ پاکستان نے اپنے بیان میں 10 ایسے مقامات کو نشانہ بنانے کی بات کی جو مبینہ طور پر ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے، لیکن ان مقامات کے نام یا مکمل تفصیلات نہیں بتائیں۔ دوسری طرف افغانستان نے حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس لیے سرائے عمر کے بارے میں سامنے آنے والی سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی اطلاعات کو اس وسیع تر فوجی کارروائی کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
قندھار کا انتخاب بھی اس پوری صورتحال میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہی شہر طالبان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ منسلک ہے اور موجودہ طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کا سیاسی و انتظامی مرکز بھی اسی خطے میں سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اب تک ایسی کوئی باضابطہ اطلاع سامنے نہیں آئی کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ سرائے عمر میں موجود تھے یا انہیں براہِ راست حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح طالبان کی اعلیٰ قیادت کو جانی نقصان پہنچنے کی اطلاعات کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان سے ہونے والی ڈرون سرگرمیوں اور سرحد پار عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، جبکہ طالبان حکومت پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتی اور پاکستانی فضائی حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ حالیہ حملوں سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور عسکری کارروائیاں بڑھ چکی تھیں، جبکہ علاقائی ممالک کی سفارتی کوششیں بھی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اس لیے سرائے عمر پر مبینہ حملہ محض ایک عمارت کو پہنچنے والے نقصان کی خبر نہیں بلکہ اس میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری دباؤ، قندھار کی غیر معمولی سیاسی و نظریاتی اہمیت اور طالبان کی عسکری تنصیبات کے ممکنہ اہداف بننے کے کئی پہلو شامل ہیں۔ تاہم جب تک پاکستان اس مخصوص مقام کو اپنے حملے کا ہدف قرار نہیں دیتا، طالبان حکومت اس کی تصدیق نہیں کرتی اور سیٹلائٹ شواہد کی مکمل آزادانہ جانچ سامنے نہیں آتی، اس واقعے کو ’’ملا عمر کی رہائش گاہ پر براہِ راست حملہ‘‘ قرار دینا محتاط صحافتی معیار کے مطابق درست نہیں ہوگا۔ فی الحال زیادہ درست بات یہی ہے کہ قندھار میں ملا عمر سے منسوب سابق کمپاؤنڈ کے قریب یا اس سے وابستہ عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ اصل ہدف اور نقصان کی مکمل نوعیت ابھی بھی زیرِ بحث ہے۔
