دہشتگردوں کے سہولتکار افغان طالبان انھیں اپنا ماننے سے انکاری کیوں؟

افغانستان میں طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا سب سے پیچیدہ مسئلہ سرحد پار دہشت گردی بن چکا ہے۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جبکہ طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کو پناہ یا سرپرستی فراہم کرنے کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ اب پاکستان میں ہلاک ہونے والے افغان دہشت گردوں کی شناخت، ان کے آبائی علاقوں میں جنازوں اور ان جنازوں میں طالبان عہدیداروں کی شرکت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے اس تنازعے کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہلاک کیے گئے 260 افغان دہشت گردوں کی نام، پتے اور خاندانی شناخت سمیت تفصیلات حاصل کی جاچکی ہیں، جبکہ غیر شناخت شدہ اور فعال دہشت گرد اس تعداد میں شامل نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے ہلاک ہونے والے بعض افراد کے جنازے افغانستان میں ان کے آبائی علاقوں میں ہوئے اور طالبان حکومت کے عہدیدار بھی ان جنازوں میں شریک ہوئے۔ اگر یہ معلومات درست ہیں تو اس سے کم از کم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہوں اور مقامی یا حکومتی حلقوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور طالبان حکومت ان گروہوں کے خلاف عملی طور پر کس حد تک کارروائی کر رہی ہے۔

تاہم یہاں ایک بنیادی فرق ضروری ہے۔ کسی ہلاک شخص کے جنازے میں کسی سرکاری اہلکار کی شرکت بذاتِ خود کسی دہشت گرد تنظیم کی ریاستی سرپرستی کا حتمی ثبوت نہیں بنتی۔ کسی بھی الزام کو ثابت کرنے کے لیے اس شخص کے تنظیمی تعلق، کارروائیوں، سہولت کاری، مالی معاونت، تربیتی ڈھانچے اور ریاستی اداروں سے ممکنہ رابطوں کے بارے میں الگ الگ شواہد درکار ہوتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کے دعووں اور طالبان حکومت کے مؤقف کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔

پاکستان کا اعتراض تاہم صرف جنازوں تک محدود نہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان، جسے پاکستان فتنۃ الخوارج کہتا ہے، کی افغانستان میں موجودگی اور وہاں سے پاکستان کے خلاف حملوں کا الزام مسلسل سامنے آتا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ اس گروہ کے ارکان افغان سرزمین پر موجود محفوظ پناہ گاہوں، تربیتی مراکز اور دیگر سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ طالبان حکومت اس الزام کو قبول نہیں کرتی۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں دراندازی کرنے والے گروہوں میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن کا تعلق افغانستان سے ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ تناسب بعض مقامات پر 70 فیصد تک بتایا گیا ہے۔ اس دعوے کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ اگر سرحد پار سے آنے والے جنگجوؤں کی بڑی تعداد واقعی افغانستان سے آ رہی ہے تو مسئلہ صرف پاک افغان سرحد کی نگرانی کا نہیں رہتا بلکہ افغانستان کے اندر موجود دہشت گرد نیٹ ورک، نقل و حرکت، بھرتی، تربیت اور سہولت کاری کا بھی بن جاتا ہے۔

اسی طرح امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد چھوڑے گئے اسلحے کے دہشت گرد گروہوں تک پہنچنے کا معاملہ بھی تشویش کا باعث ہے۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق امریکی ساختہ ایم فور رائفلیں، ریمِنگٹن اور سنائپر رائفلیں اور رات میں دیکھنے کے آلات دہشت گردوں کے استعمال میں ہیں۔ اگر یہ دعویٰ شواہد سے ثابت ہوتا ہے تو یہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم سکیورٹی مسئلہ ہے، کیونکہ جدید ہتھیار اور نگرانی کے آلات دہشت گرد گروہوں کی کارروائی کی صلاحیت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

پاکستانی مؤقف میں بھارت کی مبینہ پشت پناہی کا الزام بھی شامل ہے اور پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کو افغانستان سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ تاہم ایسے الزامات کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے ان کے لیے قابلِ تصدیق شواہد اور آزادانہ تحقیقات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ محض الزام اور ثابت شدہ ریاستی معاونت ایک ہی چیز نہیں، اور علاقائی سیاست میں ایسے دعووں کو شواہد کی بنیاد پر جانچنا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ سے منسوب اعداد و شمار بھی اس معاملے کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں فتنۃ الخوارج کی تعداد تقریباً 6000 سے 6500 تک ہے اور 2025 میں اس گروہ نے 600 سے زائد دہشت گرد حملے کیے۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروہ محض چند درجن یا چند سو افراد کا محدود نیٹ ورک نہیں بلکہ ایک منظم مسلح ڈھانچے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس کے باوجود اصل سوال یہی ہے کہ اس گروہ کی افغانستان میں موجودگی، اس کی نقل و حرکت اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کو روکنے کے لیے طالبان حکومت کیا عملی اقدامات کررہی ہے۔

پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان اختلاف کی جڑ بھی یہی ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، جبکہ طالبان حکومت بارہا یہ کہتی رہی ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ دونوں مؤقفوں کے درمیان اصل خلا دعووں کا نہیں بلکہ عملی نتائج کا ہے۔ اگر پاکستان میں حملے جاری رہتے ہیں اور ان حملوں کے تانے بانے افغانستان تک پہنچتے ہیں تو صرف تردید کافی نہیں ہوگی؛ مؤثر کارروائی، قابلِ تصدیق معلومات کا تبادلہ اور سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف عملی اقدامات ہی اعتماد بحال کرسکتے ہیں۔

یہ صورتحال پاکستان کے لیے بھی آسان نہیں۔ سرحد تقریباً 2600 کلومیٹر طویل ہے اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے لے کر شہری گزرگاہوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ محض سرحدی نگرانی سے ایسے نیٹ ورک کو مکمل طور پر روکنا مشکل ہے جو دوسری طرف محفوظ پناہ گاہیں، مقامی رابطے اور تربیتی ڈھانچے رکھتا ہو۔ اسی لیے پاکستان کے لیے فوجی اور سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سفارتی دباؤ، انٹیلی جنس تعاون، سرحدی انتظام اور عالمی سطح پر افغانستان سے متعلق مسلسل رابطہ بھی اہم ہے۔

دوسری طرف طالبان حکومت کے لیے بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر وہ واقعی اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہتی تو اسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایسے قابلِ تصدیق اقدامات کیوں نہیں کرنے چاہییں جن کے نتائج پاکستان سمیت عالمی برادری کے سامنے واضح ہوں۔ کسی گروہ سے تعلق نہ رکھنے کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن اگر وہ گروہ کسی ملک کے خلاف مسلسل حملے کرتا رہے اور اس کی قیادت یا جنگجو افغانستان میں موجود ہوں تو عملی اقدامات کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسئلہ اب صرف دو حکومتوں کے درمیان سفارتی اختلاف نہیں رہا۔ اس کے اثرات دونوں ملکوں کی سرحدی آبادی، تجارت، آمدورفت اور علاقائی امن تک پھیل رہے ہیں۔ مسلسل بداعتمادی سے نہ صرف سکیورٹی تعاون متاثر ہوتا ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود اقتصادی اور سماجی رابطے بھی دباؤ میں آتے ہیں۔

اصل امتحان اب بیانات کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ پاکستان کو دہشت گرد حملوں کے حوالے سے اپنے شواہد عالمی سطح پر پیش کرتے رہنا ہوں گے، جبکہ طالبان حکومت کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ افغان سرزمین سے کسی ہمسایہ ملک کے خلاف مسلح کارروائی کی اجازت نہیں دی جارہی۔ اگر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، تربیتی مراکز اور سرحد پار کارروائیوں کے شواہد مسلسل سامنے آتے رہے تو صرف انکار سے یہ بحران ختم نہیں ہوگا۔

افغانستان میں طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا مستقبل اسی بات سے جڑا ہے کہ دونوں فریق الزام تراشی سے آگے بڑھ کر قابلِ تصدیق عملی اقدامات پر کس حد تک اتفاق کرتے ہیں۔ دہشت گردی کا مسئلہ کسی ایک بیان، کسی ایک آپریشن یا کسی ایک سرحدی کارروائی سے حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے مسلسل انٹیلی جنس تعاون، مؤثر سرحدی نظام، دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی اور واضح سفارتی رابطے ضروری ہوں گے۔

بالآخر پاکستان کے لیے بنیادی سوال یہی ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو کس طرح روکا جائے، جبکہ طالبان حکومت کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اپنے اس دعوے کو عملی طور پر کیسے ثابت کرتی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا رخ اسی عملی فرق سے متعین ہوگا کہ دعووں کے مقابلے میں زمین پر کیا اقدامات سامنے آتے ہیں۔

Back to top button