کیا PTIاحتجاجی مارچ موخر کر کے کوئی ریلیف حاصل کر پائے گی؟

پاکستان تحریک انصاف کا 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ہونے والا لانگ مارچ اب 4 اکتوبر تک مؤخر ہوچکا ہے، لیکن اس ایک ہفتے کی تاخیر نے اس احتجاج کی سیاسی اہمیت کم کرنے کے بجائے کئی نئے سوالات پیدا کردیے ہیں۔ یہ محض ایک احتجاج کی نئی تاریخ کا معاملہ نہیں بلکہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ تقریباً 3 سال سے جیل میں موجود عمران خان اپنی جماعت کو کس حد تک متحرک رکھ سکتے ہیں، تحریک انصاف اپنی سڑکوں کی سیاست کو کسی واضح سیاسی نتیجے میں تبدیل کرسکتی ہے یا نہیں، اور حکومت اس مسلسل کشیدگی کا جواب انتظامی اقدامات سے دیتی ہے یا سیاسی رابطے کا کوئی راستہ تلاش کرتی ہے۔
تحریک انصاف نے اس احتجاج کے بنیادی مطالبات میں عمران خان اور زیرحراست سیاسی کارکنوں کی رہائی، عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی اور عمران خان کو مناسب طبی سہولیات کی فراہمی کو نمایاں کیا ہے۔ پارٹی معاشی مشکلات، مہنگائی اور عوام کو درپیش مسائل کو بھی اپنے سیاسی بیانیے کا حصہ بنا رہی ہے۔ تاہم موجودہ احتجاج کو صرف ان مطالبات کی فہرست سے سمجھنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے پس منظر میں عمران خان کی مسلسل گرفتاری، پارٹی قیادت پر مقدمات اور گرفتاریاں، خاندان کے بعض افراد کی حراست اور حکومت و تحریک انصاف کے درمیان طویل سیاسی کشیدگی بھی موجود ہے۔
یہ احتجاج اس لیے بھی اہم ہے کہ عمران خان خود میدان میں موجود نہیں۔ ان کی سیاسی جماعت کو اب یہ ثابت کرنا ہے کہ قیادت کی عدم موجودگی کے باوجود وہ ملک کے مختلف حصوں سے کارکنوں کو منظم کرکے دارالحکومت تک لاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 4 اکتوبر کا مارچ تحریک انصاف کے لیے صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ تنظیمی صلاحیت اور عوامی متحرک کاری کا عملی امتحان بھی بن گیا ہے۔
خیبر پختونخوا اس احتجاج میں مرکزی کردار ادا کررہا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ابتدا میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی قیادت کرنے کا اعلان کیا تھا اور اسے آئینی و قانونی دائرے میں پرامن احتجاج قرار دیا تھا۔ بعد میں 25 ستمبر کو انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مارچ پشاور سے روانہ ہوگا۔ ان کے مطابق سیاسی کمیٹی نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا۔
تاہم مارچ مؤخر ہونے کی وجوہات کے بارے میں مختلف بیانیے سامنے آئے ہیں۔ تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں نے راستوں کی بندش، کنٹینرز اور حکومتی انتظامات کو اہم وجہ قرار دیا، جبکہ ڈان کی رپورٹ میں پارٹی کے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ پارٹی کے اندر تیاری، ٹرانسپورٹ اور رکاوٹیں ہٹانے کے لیے مطلوبہ وسائل کی دستیابی سے متعلق خدشات موجود تھے۔ اس کے برعکس وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سیاسی کمیٹی کے فیصلے کو متفقہ قرار دیا۔
حکومت نے احتجاج سے پہلے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی سخت کی۔ پنجاب میں اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی، اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ رہی اور وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور پنجاب کے بعض اضلاع میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دی۔ پنجاب حکومت نے راولپنڈی اور اٹک کے بعض علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس محدود کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
حکومت ان اقدامات کو امن و امان اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق انتظامات قرار دے رہی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی کہا کہ احتجاج آئینی حق ہے، لیکن اس کے ساتھ شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کی ذمہ داری بھی موجود ہے۔ حکومت نے فوج کی تعیناتی کی ضرورت سے بھی انکار کیا۔ دوسری طرف تحریک انصاف ان انتظامات کو اپنے سیاسی احتجاج کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔ یوں ایک ہی اقدام کو دونوں فریق مختلف سیاسی زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی سیاسی دباؤ میں ہے یا وہ محض ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے انتظامی حکمت عملی اختیار کررہی ہے؟ بی بی سی سے گفتگو میں صحافی اور تجزیہ کار شاہ زیب جیلانی نے حکومت کے دباؤ میں ہونے کی تعبیر سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں حکومت کو عمران خان کی برقرار سیاسی مقبولیت کے باعث خوف ضرور ہے۔ یہ ان کی سیاسی تشریح ہے، کوئی غیر متنازعہ ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے سخت سکیورٹی اقدامات کو محض سیاسی خوف کی علامت قرار دینا بھی ایک سیاسی تعبیر ہوگی، کیونکہ حکومت ان اقدامات کو امن و امان اور شہری تحفظ کے تناظر میں پیش کررہی ہے۔
عمران خان کی سیاسی مقبولیت کا سوال اس احتجاج کے مرکز میں ضرور ہے، لیکن اسے جانچنے کے لیے صرف جلسے میں شریک افراد کی تعداد کافی نہیں ہوگی۔ اگر تحریک انصاف بڑی تعداد میں کارکنوں کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو پارٹی کے سیاسی بیانیے کو تقویت مل سکتی ہے، جبکہ محدود شرکت یا مارچ کی تنظیمی مشکلات اس کے برعکس سوالات پیدا کرسکتی ہیں۔ تاہم کسی ایک احتجاج کی تعداد کو پورے ملک میں عوامی رائے کا حتمی پیمانہ سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔
تحریک انصاف کے لیے ایک اور اہم سوال احتجاج کے سیاسی مقصد کا ہے۔ 2014 کے دھرنے کے دوران پارٹی کا بیانیہ انتخابی نظام اور حکمرانی میں تبدیلی جیسے وسیع مطالبات کے گرد بھی گھومتا تھا، جبکہ موجودہ احتجاج میں عمران خان کی رہائی اور ان سے ملاقات و طبی سہولیات جیسے مطالبات نمایاں ہیں۔ شاہ زیب جیلانی کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ سڑکوں کی سیاست بڑی حد تک اپنے قائد کی رہائی کے گرد مرکوز ہوگئی ہے۔
اس کے باوجود پارٹی کے اندر یہ مؤقف بھی موجود ہے کہ معاملہ صرف عمران خان کی رہائی تک محدود نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور سیاسی حقوق کا بھی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مارچ مؤخر کرنے کے اعلان کے وقت بھی انہی نکات کو تحریک کا مقصد قرار دیا تھا۔
یہاں مذاکرات کا پہلو سب سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ اگر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کوئی قابلِ عمل سیاسی رابطہ قائم ہوتا ہے تو احتجاج کی شدت کم کرنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔ لیکن اس وقت دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا فقدان موجود ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج قانون اور امن و امان کے دائرے میں ہونا چاہیے، جبکہ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ قانونی اور آئینی راستوں سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی صورت میں احتجاج اس کا حق ہے۔
زلفی بخاری کی جانب سے یہ اشارہ بھی سامنے آیا کہ عمران خان کی رہائی کی صورت میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی اختیار نہ کرنے اور مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اگر یہ مؤقف پارٹی کی وسیع تر حکمت عملی کی نمائندگی کرتا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاج اور مفاہمت کے راستے ایک دوسرے کے مکمل متبادل نہیں بلکہ بیک وقت زیر غور ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب حکومت کے لیے بھی یہ سوال آسان نہیں کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے احتجاج کا جواب صرف انتظامی اقدامات سے دیا جائے یا کسی سیاسی فارمولے کی تلاش کی جائے۔ سڑکیں بند کرکے کسی مخصوص دن کا احتجاج روکنا ایک انتظامی نتیجہ ہوسکتا ہے، لیکن اس سے بنیادی سیاسی اختلاف لازماً ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح تحریک انصاف کا بار بار احتجاج کرنا بھی اس وقت تک حتمی سیاسی نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا جب تک احتجاج کے ساتھ کوئی قابلِ عمل سیاسی حکمت عملی موجود نہ ہو۔
4 اکتوبر اب اگلا اہم مرحلہ ہے۔ تحریک انصاف کو ایک ہفتے میں دوبارہ تنظیم، کارکنوں کی متحرک کاری، ٹرانسپورٹ اور مختلف راستوں کے انتظامات سمیت کئی عملی مسائل حل کرنا ہوں گے۔ حکومت کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس دوران سکیورٹی اقدامات کو کس سطح پر برقرار رکھتی ہے اور کیا سیاسی رابطے کے لیے کوئی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف نے مارچ کے لیے پشاور سے روانگی کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ حکومت پہلے ہی ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کرچکی ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ 4 اکتوبر کے فوراً بعد 5 اکتوبر عمران خان کی سالگرہ ہے، جسے تحریک انصاف سیاسی سرگرمی کے لیے ایک اضافی موقع کے طور پر استعمال کرسکتی ہے، اگر پارٹی قیادت ایسا فیصلہ کرتی ہے۔ تاہم یہ ایک ممکنہ سیاسی حکمت عملی ہے، حتمی اعلان نہیں، اس لیے اسے موجودہ فیصلے کا حصہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
موجودہ صورتحال میں اصل امتحان صرف عمران خان کی مقبولیت یا تحریک انصاف کی تنظیمی طاقت کا نہیں۔ حکومت کے لیے بھی یہ ایک سیاسی امتحان ہے کہ وہ احتجاج کے حق، شہریوں کے تحفظ اور ریاستی نظم و نسق کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔ تحریک انصاف کے لیے سوال یہ ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو پرامن رکھ کر اپنے مطالبات کو کس حد تک مؤثر انداز میں پیش کرسکتی ہے۔ دونوں فریقوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو ایسے مرحلے تک نہ پہنچنے دیا جائے جہاں تصادم خود سیاسی مطالبات پر غالب آجائے۔
بالآخر 4 اکتوبر کا لانگ مارچ صرف یہ نہیں بتائے گا کہ کتنے لوگ اسلام آباد پہنچتے ہیں۔ اس سے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ تحریک انصاف اپنی سیاسی قوت کو کس طرح استعمال کرتی ہے، حکومت اس کے جواب میں کیا راستہ اختیار کرتی ہے اور کیا دونوں فریق احتجاج، گرفتاریوں، راستوں کی بندش اور سیاسی بیانات کے مسلسل چکر سے نکل کر کسی قابلِ عمل سیاسی رابطے کی طرف بڑھتے ہیں۔
اس وقت پاکستان کا سیاسی بحران کسی ایک دن، ایک مارچ یا ایک فیصلے تک محدود نہیں۔ عمران خان کی رہائی تحریک انصاف کا مرکزی مطالبہ ہے، لیکن اس کے ساتھ آئینی بالادستی، عدلیہ، سیاسی آزادی، معاشی مشکلات اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی موجود ہے۔ اسی لیے 4 اکتوبر کا احتجاج اگر ہوتا ہے تو اسے صرف عمران خان کی رہائی کی مہم سمجھنا بھی ادھورا ہوگا اور اسے محض حکومت کے خلاف طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھنا بھی۔ یہ دونوں بڑے سیاسی فریقوں کی حکمت عملی، تنظیمی صلاحیت، مذاکراتی گنجائش اور ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے آئندہ رخ کا ایک اہم مرحلہ ہوگا۔
