کیا سہیل آفریدی لانگ مارچ موخر کرنے کے بعد اپنی کرسی بچا پائیں گے؟

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت اس وقت ایک ایسے سیاسی اور انتظامی دباؤ سے گزر رہی ہے جس نے صرف 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا معاملہ ہی پیچیدہ نہیں کیا بلکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی پوزیشن پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان، وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے سخت انتظامی اقدامات، مختلف علاقوں میں رینجرز کی تعیناتی، راستوں کی بندش اور اس کے بعد اچانک مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ محض احتجاج کی ایک تاریخ آگے بڑھانے تک محدود نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئی تاریخ مقرر کرنے سے وہ سیاسی تعطل ختم ہوسکے گا جس کا سامنا تحریک انصاف کو ہے، یا پھر احتجاجی حکمت عملی کے بنیادی طریقہ کار پر ہی نظر ثانی کرنا ہوگی؟

روزنامہ جنگ سے وابستہ صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کے بجائے 4 اکتوبر کی تاریخ مقرر کرنے سے بنیادی سیاسی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اگر تحریک انصاف دوبارہ سیاسی گنجائش حاصل کرنا اور سیاسی رابطوں کے ذریعے کسی بامعنی ریلیف کی توقع رکھتی ہے تو اسے بار بار لانگ مارچ، سڑکوں کی بندش اور وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کی کوششوں سمیت اپنی وسیع تر احتجاجی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ یہ مؤقف رپورٹ میں ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے، اس لیے اسے حکومتی یا ریاستی پالیسی کا حتمی فیصلہ سمجھنے کے بجائے موجودہ سیاسی صورت حال کی ایک رپورٹ شدہ تشریح کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

لانگ مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب تحریک انصاف کی جانب سے کئی دن سے 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے تیاریوں کا سلسلہ جاری تھا۔ وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے بھی بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے، اسلام آباد اور پنجاب کے بعض اضلاع میں رینجرز تعینات کی گئی اور اہم شاہراہوں پر آمدورفت محدود کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ ایسے ماحول میں تاریخ کی تبدیلی اس بات کا اشارہ ضرور دیتی ہے کہ سیاسی حکمت عملی کے اندر بھی مختلف آرا موجود ہیں۔ ایک طرف پارٹی کا وہ مؤقف سامنے آتا رہا کہ احتجاج آئینی اور پرامن ہوگا، جبکہ دوسری طرف انتظامی اقدامات اور ممکنہ تصادم کے خدشات نے صورت حال کو مزید حساس بنا دیا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے معاملہ اس لیے زیادہ اہم ہے کہ وہ صرف تحریک انصاف کے ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کے سامنے بیک وقت دو ذمہ داریاں ہیں: ایک طرف اپنی جماعت کی سیاسی حکمت عملی اور احتجاجی مؤقف کے ساتھ کھڑا ہونا، اور دوسری طرف صوبے کی انتظامیہ، پولیس، امن و امان اور شہریوں کے معمولات کو آئینی و قانونی دائرے میں برقرار رکھنا۔ یہی دوہری ذمہ داری ان کی سیاسی پوزیشن کو موجودہ کشیدگی میں زیادہ حساس بنا دیتی ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے لیے احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے انتظامی اختیار استعمال کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور پولیس و ضلعی انتظامیہ اس انداز میں عمل نہیں کر رہی جس کی تحریک انصاف کی قیادت توقع کرتی ہے۔ بعض صوبائی وزرا کی رہائش گاہوں پر چھاپوں اور بعض پارٹی رہنماؤں و ارکان صوبائی اسمبلی کی حراست کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کو الگ سے سرکاری طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش کرنے کے بجائے سیاسی ذرائع کے مؤقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

اصل بحران یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ اگر کسی صوبے میں حکومت ایک جماعت کی ہو، مگر اسی جماعت کی مرکزی سیاسی حکمت عملی وفاقی حکومت کے ساتھ براہ راست تصادم کی طرف جارہی ہو، تو صوبائی حکومت کے لیے اپنی انتظامی ذمہ داری اور جماعتی سیاست کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ کو اپنی جماعت کے سیاسی فیصلوں کا حصہ بھی رہنا ہوتا ہے اور اسی وقت پولیس، انتظامیہ، سرکاری مشینری اور شہری امن و امان کی ذمہ داری بھی نبھانی ہوتی ہے۔

اسی لیے سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کو صرف لانگ مارچ کے فیصلے سے جوڑنا کافی نہیں ہوگا۔ اصل معاملہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت، مرکزی قیادت اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیار اور سیاسی حکمت عملی کے تعلق کا ہے۔ اگر مرکزی قیادت سڑکوں پر احتجاج کو اپنی بنیادی سیاسی حکمت عملی سمجھتی ہے تو وزیراعلیٰ کے لیے انتظامی سطح پر اس پالیسی کو عملی شکل دینا ایک الگ چیلنج ہے۔ اگر صوبائی حکومت شہری نظم و نسق کو ترجیح دیتی ہے تو اسے اپنی ہی جماعت کے بعض سیاسی حلقوں کی توقعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

4 اکتوبر کی نئی تاریخ نے اس لیے ایک نیا مرحلہ ضرور پیدا کیا ہے، لیکن اس سے بنیادی سوال ختم نہیں ہوا۔ اگر احتجاج دوبارہ اسی انداز میں ہوتا ہے، راستے بند ہوتے ہیں، وفاقی دارالحکومت کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کے مقابل انتظامی اقدامات کرتی ہیں تو چند دنوں کی تاخیر سے سیاسی کشیدگی ختم ہونے کا امکان محدود رہے گا۔ مسئلے کا اصل حل تاریخ بدلنے کے بجائے سیاسی حکمت عملی کے طریقہ کار پر منحصر ہوگا۔

یہاں تحریک انصاف کے لیے بھی ایک اہم سیاسی سوال موجود ہے کہ وہ احتجاج کو کس حد تک پرامن، منظم اور شہری زندگی کو کم سے کم متاثر کرنے والی شکل میں رکھ سکتی ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر کیے جانے والے اقدامات سیاسی سرگرمی کے قانونی حق اور شہریوں کی معمول کی زندگی کے ساتھ کس طرح متوازن رہیں گے۔ کسی بھی فریق کے لیے محض طاقت یا دباؤ پر انحصار طویل مدتی سیاسی تعطل کو ختم کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

خیبر پختونخوا کی موجودہ صورت حال میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی حیثیت کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ وہ جماعتی سیاسی مطالبات اور صوبائی آئینی ذمہ داریوں کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتے ہیں۔ اگر لانگ مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ پارٹی کے اندر موجود اختلافات اور مختلف سیاسی آرا کا نتیجہ ہے تو آنے والے دنوں میں یہ اختلافات مزید واضح ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ فیصلہ وسیع تر سیاسی حکمت عملی پر نظر ثانی کی ابتدا ہے تو پھر 4 اکتوبر محض نئی تاریخ نہیں بلکہ احتجاجی سیاست کے طریقہ کار میں تبدیلی کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔

اس پورے معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 27 ستمبر یا 4 اکتوبر خود اصل مسئلہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے سیاسی مطالبات کے حصول کے لیے سڑکوں کی سیاست، مذاکرات اور پارلیمانی و آئینی راستوں کے درمیان کیا توازن اختیار کرتی ہے، اور وفاقی حکومت اس سیاسی اختلاف کا جواب انتظامی اقدامات کے ذریعے دیتی ہے یا سیاسی رابطوں کے ذریعے۔ اسی کشمکش میں خیبر پختونخوا حکومت کا کردار اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی سمت بھی واضح ہوگی۔

لانگ مارچ مؤخر ہوگیا ہے، لیکن سیاسی بحران مؤخر نہیں ہوا۔ تاریخ بدلنے سے صرف کیلنڈر بدلتا ہے؛ اگر حکمت عملی، مطالبات اور فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات اپنی جگہ موجود رہیں تو سیاسی کشیدگی بھی اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ 4 اکتوبر تک تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان کوئی سیاسی راستہ نکلتا ہے یا احتجاجی سیاست دوبارہ اسی کشیدگی کو جنم دیتی ہے۔ اور اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ سہیل آفریدی اپنی جماعتی وابستگی اور وزیراعلیٰ کی آئینی ذمہ داریوں کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتے ہیں۔

Back to top button