عمران کو نواز شریف جیسی رہائی ملنے کا کتنا امکان ہے؟

 

 

 

 

تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا وفاقی حکومت دو کرپشن کیسز میں عدالتوں سے سزائیں پانے والے عمران خان کو رہا کرنے کا قانونی حق رکھتی ہے یا نہیں؟ وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا بنیادی مقصد ہی عمران خان کی رہائی یقینی بنانا ہے۔ بظاہر تو پاکستانی قانون میں کسی سزا یافتہ مجرم کو عدالتی بریت کے بغیر رہا کرنا ممکن نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جنرل مشرف اور عمران خان کے ادوار حکومت میں دو مرتبہ عدالتوں سے سزائیں ملنے کے باوجود پہلے جدہ اور پھر لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

 

ایسے میں اگلا سوال یہ بنتا ہے کہ کیا ماضی میں نواز شریف کے معاملے میں دی جانے والی رعایت عمران خان کے ساتھ بھی کسی سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکتی ہے؟ اسلام آباد میں باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الوقت ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جس کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ کارکن اسلام آباد پہنچ کر عمران کی رہائی کے مطالبے کو اجاگر کریں گے جبکہ حکومت نے مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانون اور امن و امان کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام آباد میں جلسوں اور اجتماعات پر دفعہ 144 بھی نافذ ہے۔

 

آئینی ماہرین کے مطابق عدالت کی جانب سے عمران خان کی بریت ان کی رہائی کا واحد راستہ نہیں ہے، بلکہ ایک راستہ اور بھی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 45 اس معاملے میں سب سے اہم شق ہے۔ اس کے تحت صدر مملکت کو کسی عدالت، ٹریبونل یا دوسرے مجاز ادارے کی طرف سے دی گئی سزا کے بارے میں معافی، ریلیف یا سزا میں تخفیف کا اختیار حاصل ہے۔ صدر کسی سزا کو معاف، مؤخر یا معطل کر سکتے ہیں جبکہ سزا کو مکمل یا جزوی طور پر کم یا دوسری سزا میں تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے قانونی طور پر یہ کہنا درست نہیں کہ سزا یافتہ شخص کو ہر صورت پہلے عدالت سے بری کرانا ہی ضروری ہے۔

 

تاہم آرٹیکل 45 کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وزیراعظم یا وفاقی حکومت براہ راست جیل حکام کو حکم دے کر عدالتی سزا ختم کر سکتی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 48 صدر کے آئینی فرائض کی انجام دہی کو کابینہ یا وزیراعظم کے مشورے سے جوڑتا ہے، جس کے تحت صدر کو دیے گئے آئینی اختیار کا استعمال بھی مقررہ آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونا ہوتا ہے۔ چنانچہ سزا یافتہ شخص کی رہائی، معافی یا سزا میں تخفیف کے لیے باقاعدہ آئینی کارروائی ضروری ہے۔

اس کے علاوہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 401 بھی اہم ہے۔ اس کے تحت صوبائی حکومت بعض حالات میں سزا یافتہ شخص کی سزا کے نفاذ کو معطل یا پوری سزا یا اس کے کسی حصے کو معاف کر سکتی ہے، بعض صورتوں میں متعلقہ عدالت کے جج سے رائے بھی طلب کی جا سکتی ہے۔ قانون میں صدر مملکت اور وفاقی حکومت کے متعلقہ اختیارات کو بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے قانونی طور پر سزا یافتہ شخص کو عدالتی بریت کے بغیر ریلیف ملنے کا راستہ موجود ہے، لیکن وہ راستہ قانون اور آئین کے اندر سے نکلتا ہے، کسی سیاسی جماعت کے احتجاجی مطالبے سے ازخود نہیں۔

 

قانونی ماہرین کے مطابق یہاں ایک بنیادی فرق بھی سمجھنا ضروری ہے کہ سزا معاف ہونا اور بری ہونا ایک چیز نہیں۔ اگر کسی سزا یافتہ شخص کی سزا صدر مملکت معاف کر دیں یا قانون کے تحت معطل یا کم کر دی جائے تو اس سے لازماً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ متعلقہ عدالت کا فیصلہ غلط تھا یا ملزم بری ہو گیا۔ بریت عدالتی عمل کے ذریعے ہوتی ہے جبکہ معافی، سزا میں تخفیف یا سزا کی معطلی آئینی یا قانونی اختیار کے استعمال سے ممکن ہوتی ہے۔

 

پاکستانی تاریخ میں نواز شریف کا 2000 کا معاملہ اس حوالے سے سب سے نمایاں مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے نواز شریف کے خلاف طیارہ اغوا اور دیگر الزامات کے مقدمے کے بعد انہیں عمر قید کی سزا کے مرحلے تک پہنچایا۔ سندھ ہائی کورٹ نے بھی اکتوبر 2000 میں انسداد دہشت گردی عدالت کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ اس کے بعد نواز شریف سعودی عرب روانہ ہوئے اور مشرف حکومت کے ساتھ ہونے والے انتظام کے تحت دس سالہ جلاوطنی اختیار کی۔ تب کی دستاویزات اور بعد کی عدالتی کارروائی میں اس معاہدے اور مشروط معافی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔

 

اس واقعے کی اہمیت یہ ہے کہ نواز شریف کو سعودی عرب روانہ کرتے وقت ان کی عدالتی سزا کسی نئے عدالتی بریت کے فیصلے سے ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ مشرف حکومت کی جانب سے سزا میں تبدیلی یا معافی کے انتظام کے نتیجے میں وہ جیل سے باہر آئے اور جلاوطنی اختیار کی۔ بعد میں سپریم کورٹ کے سامنے بھی اس معافی اور دس سالہ معاہدے سے متعلق دستاویزات کا معاملہ آیا۔

 

نواز شریف کا دوسرا معاملہ اس سے بھی مختلف قانونی نوعیت رکھتا ہے۔ پاناما کیس کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں آئین کے آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت نااہل قرار دیا تھا، جبکہ بعد میں ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں احتساب عدالتوں نے بھی انہیں سزائیں سنائیں۔ تاہم ان سزاؤں کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران ضمانت، سزا کی معطلی اور دیگر عدالتی ریلیف کے راستے اختیار کیے گئے۔ بالخصوص 2019 میں العزیزیہ کیس کی سزا کے دوران انہیں طبی بنیادوں پر بیرون ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت ملی۔ اس لیے اس واقعے کو محض یہ کہہ دینا کہ ’وزیراعظم نے اپنی مرضی سے سزا یافتہ نواز شریف کو رہا کر دیا‘ قانونی صورت حال کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔

 

عمران خان کے معاملے میں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماضی کی ان مثالوں کی بنیاد پر آج بانی پی ٹی آئیبکے ساتھ کسی سیاسی سمجھوتے یا ڈیل کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ بظاہر آئینی طور پر راستہ موجود ہے، لیکن کسی مخصوص شخص کے لیے ایسی ڈیل کا وجود یا اس کا امکان ایک الگ سیاسی معاملہ ہے جس کے بارے میں اس وقت کسی مستند معاہدے یا فیصلے کے بغیر حتمی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عمران خان کو عدالتی بریت کے بغیر سزا سے ریلیف دینا ہو تو اسے آرٹیکل 45، ضابطۂ فوجداری یا کسی دوسرے قابل اطلاق قانونی راستے کے ذریعے عملی شکل دینا ہوگی۔

چنانچہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگر احتجاج کے نتیجے میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں اور عمران خان کی رہائی ان مذاکرات کا مرکزی مطالبہ رہتی ہے تو اصل سوال صرف سیاسی رضامندی کا نہیں بلکہ اس رضامندی کو قانونی شکل دینے کے طریقہ کار کا ہوگا۔

 

قانونی ماہرین کے مطابق حکومت عدالت کے فیصلے کو محض ایک سیاسی اعلان سے ختم نہیں کر سکتی، لیکن آئین اور قانون میں سزا یافتہ شخص کو معافی، سزا میں تخفیف یا معطلی کے راستے ضرور موجود ہیں۔

اسی لیے نواز شریف کے 2000 کے معاملے کو عمران خان کے لیے ایک سیاسی مثال کے طور پر ضرور پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے خودکار قانونی نظیر نہیں کہا جا سکتا۔

کیا PTI کو ایک اور ناکام لانگ مارچ کا سامنا ہے؟

ویسے بھی 2000 کا سیاسی اور آئینی ماحول، جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت، سعودی ثالثی اور دس سالہ جلاوطنی کا معاہدہ اپنی نوعیت میں غیر معمولی تھا۔ دوسری طرف عمران خان کے معاملے میں اگر کبھی کوئی سیاسی سمجھوتا سامنے آتا ہے تو اسے بھی آئینی اور قانونی طریقہ کار سے گزارنا ہوگا۔ فی الوقت 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے جو چیز واضح ہے وہ تحریک انصاف کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ اور حکومت کی جانب سے احتجاج کو روکنے کے لیے کیے گئے انتظامات ہیں؛ کسی ایسی ’’ڈیل‘‘ یا رہائی کے معاہدے کا کوئی فوری امکان نظر نہیں آتا۔

 

 

Back to top button