کیا PTI کو ایک اور ناکام لانگ مارچ کا سامنا ہے؟

 

 

 

تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے تحریک انصاف کی جانب اسلام آباد کی جانب کیے جانے والے لانگ مارچوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ناکامیوں سے اٹی نظر آتی ہے۔ 25 مئی 2022 سے شروع ہونے والی سیاسی مزاحمت اب ایک مرتبہ پھر 27 ستمبر 2026 کے مجوزہ لانگ مارچ تک پہنچ چکی ہے، تاہم وفاقی حکومت نے اس لانگ مارچ کو روکنے کے لیے جتنے سخت سیکیورٹی  انتظامات کیے ہیں ان سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ اس مرتبہ بھی تحریک انصاف کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

 

اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد تحریک انصاف نے وفاقی حکومت پر قبل از وقت عام انتخابات کرانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کی اور اس سلسلے میں پہلا بڑا لانگ مارچ 25 مئی 2022 کو کیا گیا۔ 25 مئی 2022 کے آزادی مارچ میں عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کے کارکن اسلام آباد پہنچے اور ڈی چوک جانے کی کوشش کی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، آنسو گیس استعمال ہوئی اور مختلف مقامات پر رکاوٹیں عبور کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے احتجاج کے لیے ایچ نائن اور جی نائن کے درمیان مقام مقرر کیا تھا، تاہم عمران خان نے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی کال دی۔ بعد ازاں عمران خان نے ڈی چوک پہنچنے کے بجائے جناح ایونیو پر مارچ ختم کرتے ہوئے حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے اور انتخابات کا اعلان کرنے کے لیے چھ دن کی مہلت دی۔

 

اس کے بعد تحریک انصاف نے 28 اکتوبر 2022 کو لاہور کے لبرٹی چوک سے اسلام آباد کی طرف دوسرا بڑا لانگ مارچ شروع کیا۔ اس مارچ کا مقصد بھی قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ منوانا تھا۔ وزیر آباد میں عمران خان پر فائرنگ کے واقعے کے بعد مارچ کا تسلسل متاثر ہوا، تاہم تحریک انصاف نے نومبر کے آخر تک اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیاسی سرگرمی جاری رکھی۔ 26 نومبر کو راولپنڈی میں عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان کیا اور اسلام آباد کی طرف مارچ ختم کردیا۔

یوتھیوں کو سپائڈر مین والے جال میں جکڑنے کا منصوبہ تیار

اس کے بعد 2023 اور 2024 میں تحریک انصاف کی جانب سے مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیاں، دھرنے اور اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی کالز دی گئیں، تاہم تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور کم ہو جانے کے باعث 2022 کے دونوں لانگ مارچز جیسا جوش اور جذبہ دیکھنے کو نہ مل سکا۔ مئی 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا، جس کے دوران فوجی تنصیبات سمیت متعدد سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا اور بڑی تعداد میں کارکن گرفتار ہوئے۔

 

2024 میں تحریک انصاف نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کو احتجاج کا مرکز بنایا اور نومبر میں عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات کے لیے ’’فائنل کال‘‘ دی۔ 24 نومبر کو شروع ہونے والا یہ مارچ خیبر پختونخوا سے علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف بڑھا اور 25 نومبر کو مرکزی قافلہ وفاقی دارالحکومت میں داخل ہوگیا۔ 26 نومبر کو مظاہرین ڈی چوک کے قریب پہنچ گئے جبکہ حکومت نے ریڈ زون اور اہم سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی سخت کردی۔

 

26 اور 27 نومبر کی درمیانی شب صورت حال اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی جب سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد کے بلیو ایریا، جناح ایونیو اور ڈی چوک سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی شروع کی۔ آنسو گیس کی شدید شیلنگ ہوئی، مظاہرین پیچھے ہٹنے لگے اور اس دوران تحریک انصاف کی قیادت بشمول بشری بی بی اور تب کے وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈاپور موقع سے فرار ہو گے۔ اگلے روز پتہ چلا کہ یہ دونوں ایک ہی گاڑی پر خیبر پختون خواہ کی طرف نکل گئے تھے۔

 

بعد میں سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی بشریٰ بی بی کو گنڈاپور کی گاڑی میں منتقل ہوتے دیکھا گیا۔ تاہم بشریٰ بی بی نے بعد میں اپنے فرار کی وضاحت دیتے ہیں ہوئے کہا کہ وہ احتجاجی مقام پر کافی دیر تک موجود رہی تھیں اور انہیں پارٹی قیادت نے اکیلا چھوڑ دیا تھا جس کے بعد علی امین گنڈا پور نے زبردستی اپنی گاڑی میں لے کر خیبر پختون خواہ کی طرف نکل گئے۔ بالآخر 27 نومبر 2024 کو تحریک انصاف نے اسلام آباد میں جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

 

یوں پی ٹی آئی کا ایک اور لانگ مارچ ناکامی پر منتج ہوا۔ اس تین روزہ احتجاج کے دوران کم از کم چھ افراد جاں بحق ہوئے جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ یوں تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر عمران خان کی رہائی سمیت اپنے بنیادی مطالبات منوانے میں ناکام رہی، جس کے باعث یہ احتجاج سیاسی طور پر تحریک انصاف کے لیے ایک بڑی ناکامی قرار دیا گیا۔ نومبر 2024 کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی متعدد کالز سامنے آئیں، تاہم پارٹی 2022 جیسی وسیع اور مسلسل سٹریٹ موبلائزیشن دوبارہ پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کے لیے ہمدردیاں اور ان کے حامیوں میں سیاسی وابستگی اب بھی موجود ہے، لیکن اس حمایت کو بڑی تعداد میں لوگوں کو مسلسل سڑکوں پر لانے کی عملی طاقت میں تبدیل کرنا تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اب تحریک انصاف نے ایک مرتبہ پھر 27 ستمبر 2026 کو عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ حکومت نے اس مرتبہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے سخت انتظامات شروع کردیئے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کو روکنے کے لیے ’’ہر ممکن طریقہ‘‘ اختیار کرے گی، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے اضافی اہلکاروں، کنٹینرز، انسدادِ ہنگامہ آرائی کے سامان اور ممکنہ گرفتاریوں کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔

 

27 ستمبر کے احتجاج سے پہلے تحریک انصاف کی اہم شخصیات اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں بھی شروع ہوچکی ہیں۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں گرفتار کرکے 30 روز کے لیے حراست میں لیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے، جبکہ دیگر اہل خانہ اور کارکنوں کے خلاف بھی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے ان اقدامات کو احتجاج روکنے کی حکومتی کوشش قرار دیا ہے۔ یوں 27 ستمبر کا لانگ مارچ تحریک انصاف کے لیے ایک اور بڑا سیاسی امتحان بن چکا ہے جس میں اس کی کامیابی مشکل نظر آتی ہے۔ 2022 کے دو بڑے لانگ مارچوں اور نومبر 2024 کے ’’فائنل کال‘‘ کے تجربے کے بعد اب اصل سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے کارکنوں اور ہمدردوں کو کس حد تک دوبارہ اسلام آباد تک متحرک کر پاتی ہے۔

 

وفاقی حکومت کے سخت سکیورٹی انتظامات اور اسلام آباد میں راستوں کی بندش کے باعث مارچ کے لیے ڈی چوک تک پہنچنا کافی مشکل نظر آتا ہے۔

 

Back to top button