کیا عمران خان 2042 سے پہلے رہائی حاصل کر پائیں گے؟

تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج تو کیا جا رہا ہے لیکن اگر انکی طاقتور فیصلہ سازوں سے ڈیل نہ ہو پائی تو سال 2042 سے پہلے ان کے جیل سے باہر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
عمران خان اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں درج درجنوں مقدمات کے ساتھ ساتھ دو اہم مقدمات میں سنائی جانے والی قید کی سزاؤں کے باعث اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات کی آخری واضح صوبہ وار تفصیل کے مطابق پنجاب میں 99، اسلام آباد میں 76 اور خیبر پختونخوا میں 2 مقدمات درج ہیں جبکہ ایف آئی اے کے پاس 7 مقدمات یا انکوائریز اور قومی احتساب بیورو کے پاس 3 مقدمات موجود تھے، یوں دسمبر 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش کی گئی سرکاری تفصیل کے مطابق مجموعی تعداد 188 بنتی ہے۔
ان کیسز کا بڑا حصہ 9 مئی 2023 کے واقعات، احتجاجی مظاہروں، جلاو گھیراو، توڑ پھوڑ اور مختلف سرکاری و فوجی تنصیبات پر حملوں سے جڑے مقدمات کا ہے۔ اس کے علاوہ 2022 کے لانگ مارچ اور دیگر احتجاجی سرگرمیوں کے مقدمات بھی عمران خان کے خلاف درج کیے گئے۔ ان میں سے کئی کیسز میں ان پر براہ راست شرکت کے بجائے کارکنوں کو اکسانے کی ہدایت دینے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم ہر مقدمے کے الزامات اور قانونی حیثیت الگ ہے اور محض مقدمہ درج ہونا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔
عمران خان کو مختلف مقدمات میں متعدد مرتبہ قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں، تاہم ان میں سے کئی سزائیں بعد میں معطل یا ختم ہوئیں۔ سائفر کیس میں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے انہیں اس مقدمے میں بری کر دیا۔ اسی طرح توشہ خانہ کے پہلے ریفرنس میں سنائی جانے والی 14 سال قید کی سزا بھی اپریل 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کردی تھی۔ عدت کیس میں بھی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سات، سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم بعد میں عدالت نے انہیں اس کیس میں بری کر دیا۔ اسی طرح احتجاجی مقدمات میں بھی عمران خان کو ریلیف مل چکا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے خلاف درج تمام مقدمات اس وقت عملی طور پر ان کی قید کا باعث نہیں ہیں۔
دراصل عمران خان کی موجودہ مسلسل قید کی بنیادی وجہ 190 ملین پاؤنڈز کیس یا القادر ٹرسٹ کیس میں سنائی جانے والی 14 سال قید کی سزا ہے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 17 جنوری 2025 کو عمران خان کو 14 سال جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ دونوں نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے اور ان کی اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کی سزا معطل کرنے کی درخواست بھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے مئی 2026 میں مسترد کردی تھی، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اصل اپیل کا فیصلہ بھی ہو چکا ہے۔ اصل سزا کے خلاف اپیل پر کارروائی جاری رہی اور جولائی 2026 میں عدالت نے عمران خان کے وکیل کو مزید ایک آخری مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر دلائل مکمل نہ کیے گئے تو دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر اپیل کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
اس مقدمے کے باعث عمران دیگر مقدمات میں ضمانت یا ریلیف ملنے کے باوجود جیل سے باہر نہیں آ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف درج مقدمات کی مجموعی تعداد اور ان کی قید کی قانونی وجہ کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ سینکڑوں کیسز کا اندراج اپنی جگہ ہے، مگر اس وقت ان کی مسلسل قید کی بنیادی بنیاد 190 ملین پاؤنڈ کیس کی 14 سالہ سزا ہے، جس کے خلاف اپیل ابھی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچی۔
عمران کو نواز شریف جیسی رہائی ملنے کا کتنا امکان ہے؟
اسکے علاوہ عمران خان کو دسمبر 2025 میں توشہ خانہ ٹو کیس میں بھی 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ مقدمہ مئی 2021 میں سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران ملنے والے بلغاری جیولری سیٹ سے متعلق تھا۔ خصوصی عدالت نے عمران خان کو مجموعی طور پر 17 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جبکہ بشریٰ بی بی کو بھی اسی مقدمے میں 17 سال قید سنائی گئی۔ توشہ خانہ ٹو کیس میں حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کی 17 سالہ سزا 190 ملین پاؤنڈ کیس کی 14 سالہ سزا مکمل ہونے کے بعد شروع ہوگی، یعنی دونوں سزائیں مسلسل چلیں گی۔ تاہم یہ معاملہ حتمی طور پر طے شدہ نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ توشہ خانہ ٹو کی سزا بھی اپیل کے مرحلے میں ہے اور اعلیٰ عدالتیں اس سزا کو برقرار رکھنے، تبدیل کرنے یا ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔
تحریک انصاف کے وکلا کے مطابق اس قانونی صورتِ حال کے باعث یہ کہنا درست نہیں کہ عمران خان لازماً 2042 تک جیل میں قید رہیں گے۔ اگر دونوں سزائیں اسی صورت میں برقرار رہیں تو انکی قید کی مدت طویل ہو سکتی ہے، لیکن اپیلوں کے فیصلے، سزا میں تبدیلی، معطلی یا بریت اور قانون کے تحت ملنے والے دیگر فوائد اس حساب کتاب کو بدل سکتے ہیں۔
