پاکستان نے دوبارہ افغانستان پر فضائی حملے کیوں کیے؟

فوجی قیادت نے پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے دہشت گرد حملوں میں اضافے اور افغان سرزمین سے ڈرون حملوں کے بعد سرحد پار افغانستان میں ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر فضائی اور ڈرون حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق سرحد پار 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں ٹی ٹی پی کے ٹھکانے تھے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اپنے دفاع اور ان اہداف کے خلاف کی گئیں جو پاکستان پر حملوں سے براہِ راست منسلک تھے، جبکہ کابل نے پاکستانی حملوں کو افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مناسب جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق 23 ستمبر کو افغانستان سے آنے والے آٹھ ڈرونز کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک کر تباہ کیا گیا، جس کے بعد 24 ستمبر کو افغانستان کے اندر ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں پاکستان کے مطابق ڈرونز کو ذخیرہ اور لانچ کیا جا رہا تھا۔ پاکستانی حکومت نے کارروائی کو ’’درست، محدود اور متناسب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملوں کا دائرہ صرف ان فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جو پاکستان کے خلاف حالیہ کارروائیوں سے براہِ راست منسلک تھے۔
پاکستانی کارروائیوں کی اطلاعات افغانستان کے صوبوں قندھار، پکتیا اور خوست سے سامنے آئیں، جبکہ قندھار شہر میں بھی ایک حملے کی اطلاع دی گئی۔ افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں چار شہری جاں بحق ہوئے اور اسے افغان سرزمین پر جارحیت قرار دیتے ہوئے مناسب جواب دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ڈرون انفراسٹرکچر کے خلاف تھی۔ یوں ایک ہی واقعے کے بارے میں اسلام آباد اور کابل کے مؤقف میں بنیادی اختلاف برقرار ہے۔
تازہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں ستمبر کے دوران دہشت گردی کے بڑے واقعات نے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ کے قریب خودکش حملے اور فائرنگ کے واقعے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، جبکہ پاکستان نے دہشت گردوں کے افغان سرزمین پر موجود سہولت کار نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر دوبارہ زور دیا۔ تاہم اس مخصوص کوہاٹ حملے کی ذمہ داری کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آئے اور ٹی ٹی پی نے بھی اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بعض دوسرے مسلح گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں جہاں سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تربیت اور بعض کارروائیوں میں معاونت کی جاتی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت کو متعدد مرتبہ ان مبینہ ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کے بارے میں آگاہ کیا گیا، لیکن پاکستان کے مطابق ان کے خلاف مؤثر، قابلِ تصدیق اور مستقل کارروائی نہیں کی گئی۔ افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو اس کا داخلی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
حالیہ صورتحال میں معاملہ صرف ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈرون حملوں نے تنازع کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ 23 ستمبر کو افغانستان سے آنے والے ڈرونز نے اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی، جس کے جواب میں اگلے روز 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون کارروائی کی گئی۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مزید حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور تعمیری سفارتی رابطے کا خواہاں ہے۔
دوسری طرف افغانستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ تازہ کارروائیوں میں قندھار کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو طالبان حکومت کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ افغان حکام نے حملوں کو اپنی خودمختاری کے خلاف کارروائی قرار دیتے ہوئے جوابی اقدام کا عندیہ دیا ہے۔ اگر دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بڑھتا ہے تو چند مخصوص دہشت گرد اہداف کے خلاف شروع ہونے والی کارروائی وسیع تر پاک افغان عسکری کشیدگی میں تبدیل ہونے کا خطرہ رکھتی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ تازہ کشیدگی رواں سال فروری میں ہونے والی شدید لڑائی کے بعد طے پانے والے جنگ بندی انتظام کے باوجود دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ اس کے بعد چین، ترکیہ، قطر اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کی سفارتی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دہشت گرد گروہوں کی افغان سرزمین پر موجودگی، سرحد پار حملوں اور سکیورٹی ضمانتوں کے معاملے پر بنیادی اختلاف ختم نہیں ہو سکا۔ تازہ فضائی کارروائیاں اسی وسیع تر تنازع کا ایک نیا مرحلہ دکھائی دیتی ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر پاکستان کے اندر ہونے والے حملوں کے منصوبہ ساز، سہولت کار یا تربیتی نیٹ ورک واقعی سرحد پار موجود ہیں تو صرف ہر حملے کے بعد فضائی کارروائی مستقل حل فراہم نہیں کر سکتی۔ اسی طرح اگر کابل پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتا ہے تو اس کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا اہم ہوگا کہ افغان سرزمین کسی گروہ کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جا رہی۔ اس بنیادی تنازع کا حل محض بیانات، الزامات اور جوابی کارروائیوں سے ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستان نے افغان طالبان کی دھلائی اور ٹھکائی کا فیصلہ کیوں کیا؟
پاکستان کے لیے چیلنج بیک وقت دو سطحوں پر موجود ہے۔ ایک طرف ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو دہشت گردی سے تحفظ دینا ہے، دوسری طرف افغانستان کے اندر فوجی کارروائیوں کو ایسے مرحلے تک پہنچنے سے روکنا بھی اہم ہے جہاں دونوں ممالک ایک طویل عسکری محاذ آرائی میں داخل ہو جائیں۔ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس، دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت کا سدباب، داخلی سکیورٹی اقدامات اور سفارتی دباؤ کو ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ بنانا اسی لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔
