ایف اے ٹی ایف معاملے پربھارت اور اپوزیشن ایک پیج پر ہیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق اپوزیشن اور بھارت ایک پیج پر ہیں۔ تاہم ایف اے ٹی ایف قوانین ہر صورت منظور کروائیں گے.
وزیراعظم عمران خان کے زیرصدارت حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق حکومتی اقدامات اور ترجمانوں کو کراچی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق بریفنگ دی گئی، جبکہ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فٹیف قانون سازی میں اپوزیشن کے کردار سے متعلق بات کی۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) قانون سازی روکنے پر اپوزیشن کا کردار قوم کے سامنے رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دشمن ملک بھارت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہو جبکہ اپوزیشن نے حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے فیٹف کی قانون سازی روکی۔ ایف اے ٹی ایف سے متعلق اپوزیشن اور بھارت ایک پیج پر ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہر جمہوریت میں اپوزیشن کا ملک کے لیے اہم کردار ہوتا ہے، موجودہ اپوزیشن صرف اپنی کرپشن بچانے کے لیے ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے، اپوزیشن انسداد منی لانڈرنگ قانون میں اپنے مفاد کی ترامیم چاہتی ہے، یہ لوگ کس طرح کس طرح ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دے رہے ہیں۔ نواز شریف سے متعلق انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی، حکومت احتساب کے منشور پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف قوانین ہر صورت منظور کروائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان سے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے ملاقات کی جس میں اہم آئینی، قانونی اور ملکی امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ بابر اعوان نے وزیراعظم کو ایف اے ٹی ایف کے اہداف کی روشنی میں کی جانے والی قانون سازی سے متعلق بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے پیر سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور عوامی مفاد کی قانون سازی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، ایف اے ٹی ایف قوانین ہر صورت منظور کروائیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے اپنی مکمل توجہ معاشی اور سماجی حالات کی بہتری پر مرکوز کر رکھی ہے، عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے دیئے گئے اہداف کی روشنی میں حکومت نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 منظور کرایا تھا تاہم اسے سینیٹ میں منظوری نہیں مل سکی تھی۔
