ایف بی آر ناکام،ریونیو شارٹ فال 387 ارب روپے سے تجاوزکر گیا

وفاقی بورڈ آف ریونیو ایف بی آرکو ریونیو اہداف کے حصول میں مسلسل ناکامی کا سامنا ہے. رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں اہداف کے مقابلے میں محصولات کا شارٹ فال 387 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے.
مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 20-2019 کے پہلے 7 ماہ میں ایف بی آر 27 کھرب 92 ارب سے زائد کے ہدف کے مقابلے میں صرف 24 کھرب 10 ارب روپے جمع کرنے میں کامیاب رہا ہے جس کی وجہ سے وفاقی ادارے کو 387 ارب روپے کے ریونیوشارٹ فال کا سامنا ہے.تاہم ایف بی آر کی طرف سے وصولیوں کی اعداد و شمارمیں 16.8 فیصد ترقی دکھائی دی گئی کیونکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ایف بی آر 20 کھرب 70 ارب روپے جمع کیا تھا.
واضح رہے کہ جنوری میں ٹیکس ادارے نے ریونیو کلیکشن میں گزشتہ سال کے 425 ارب روپے کے مقابلے میں 321 ارب روپے کے ساتھ 104 ارب روپے کا شاٹ فال دیا تھا۔ ٹیکس حکام نے بک ایڈجسمنٹ میں مزید 3 سے 5 ارب روپے وصولی کا تخمینہ لگایا ہے کیونکہ سالانہ ہدف تک پہنچنے کے لیے موجودہ ترقی کی دوگنی شرح درکار ہو گی۔
حکام کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان جن میں زیادہ تر برآمد کنندگان تھے انہیں 69 ارب روپے ریفنڈ کی مد میں ادا کیے گئے ہیں.
دوسری طرف ایف بی آر نے سال 2019 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ میں 28 فروری تک توسیع کردی ہے اور یہ تمام افراد (تنخواہ دار اور غیرتنخواہ دار)، افراد اور کمپنیوں کی ایسوسی ایشنز کے لیے دستیاب ہے۔
31 جنوری تک ایف بی آر کو 23 لاکھ 39 ہزار ریٹرنز موصول ہوئے جبکہ مزید 5 لاکھ کی وصولی کی لیے تاریخ کو بڑھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس ریٹرنز جمع کرانے کی تعداد 18 لاکھ تھی جو سب سے زیادہ تھی۔
خیال رہے کہ بین الاقوامی مانیٹری فنڈ آئی ایم ایف کی ٹیم آئندہ ہفتےایف بی آر کی ٹیکس اصلاحات اور ریونیو کلیکشن کا جائزہ لے گی، تاہم آئی ایم ایف نے سالانہ محصولات کی وصولی کا ہدف بجٹ کے تخمینہ 55 کھرب 3 ارب روپے سے کم کرکے 52 کھرب 70 ارب روپے کر دیا تھا جس کو بھی ایف بی آر حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے.
دوسری طرف محکمہ کسٹم بھی مالی سال 2020 کے 7 ماہ میں 488 ارب 10 کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں 373 ارب 20 کروڑ روپے وصولیاں کرنے میں کامیاب رہا ہے یعنی محکمہ کسٹم کو114 ارب 90 کروڑ روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے.
اسی طرح گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں انکم ٹیکس کی مجموعی وصولی 10 کھرب 5 ارب روپے کے مقابلے میں 895 ارب 80 ارب روپے رہی ہے. علاوہ ازیں پہلے 7 ماہ میں اشیا پر سیلز ٹیکس وصولی 11 کھرب 28 ارب روپے کے مقابلے میں 10 کھرب 50 ارب روپے رہا اور اس طرح 122 ارب 80 کروڑ روپے کا شارٹ فارل رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button