ایمپائرنگ کرنے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ فریق کیوں بنی؟


حکومت اور اپوزیشن کے مابین تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدہ تر ہوتے چلے جا رہے ہیں اور دونوں فریقین میں مذاکرات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کیونکہ ملکی سیاست دو انتہاؤں میں تقسیم ہو گئی ہے اور ماضی میں ایمپائر اور بروکر کا کردار ادا کرنے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ خود حکومت کے ساتھ ایک فریق بن کر اپوزیشن کے خلاف کھڑی نظر آتی ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کیساتھ مذاکرات کی کوششوں کا آغاز تو کیا ہے لیکن دوسری جانب عمران خان اپنی بدزبانی سے باز نہیں آرہے اور مسلسل نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف چور اور ڈاکو کی گردان لگائے ہوئے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کو سیاسی کشیدگی کا ماحول سوٹ کرتا ہے جس میں وہ ہر وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے طالب ہوتے ہیں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی باہمی مفاد کے تحت ہر لمحہ ان کی مدد کو تیار ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی ناکام حکومت کو پچھلے ڈھائی برسوں میں تمام بڑے سیاسی بحرانوں سے اسٹیبلشمنٹ نے ہی نکالا ہے ورنہ اس کا کب کا دھڑن تختہ ہو چکا ہوتا۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تمام تر عوامی تنقید اور دباؤ کے باوجود عمران کو بچانا موجودہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بھی مجبوری ہے کیوں کہ اپوزیشن نے اسکے خلاف ایک خوفناک سیاسی بیانیہ اپنا رکھا ہے۔ لہازا اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ عمران خان اقتدار سے نکلے اور نون لیگ پاور میں آ کر فوجی قیادت کے خلاف انتقامی کاروائیاں شروع کردے۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نام لے کر پاکستانی فوجی قیادت کے سیاسی کردار پر تنقید کر رہے ہیں جس کا نقصان یہ ہے کہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے پاس بھی ڈٹ کر عمران کے ساتھ کھڑے ہونے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ یعنی جب اپوزیشن سلیکٹرز اور سلیکٹڈ دونوں کو ٹارگٹ کرے گی تو پھر ان کا باہمی مفاد مشترک ہو کر ان کو اکٹھا کر دے گا۔ یوں اپوزیشن اتحاد کی کپتان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی منزل اور دور ہوتی نظر آتی ہے۔
موجودہ سیاسی حالات میں تو اب نون لیگ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھی مذاکرات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔حکومت اور حزبِ اختلاف میں جاری کشیدگی اور لفظی جنگ کے ختم ہونے کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات سیاسی ماحول کو مزید آلودہ کررہے ہیں۔ پریس کانفرنسوں میں اپنے سیاسی مخالفین پر گھناؤنے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور پارلیمانی کارروائی کے دوران ایک دوسرے کو غدار کہنے اور جارحانہ حرکات کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ حالیہ سیاسی بحران سے نکلنے کے باوجود وزیراعظم عمران خان کا اپوزیشن کیلئے لب و لہجہ تبدیل نہیں ہوا اور ان کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ بھی نہیں مل رہا کہ وہ پہل کرکے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ مل بیٹھیں گے اور قوم کو درپیش سنگین مسائل کے حل پر بات کریں گے۔ چند روز قبل ہی، وزیراعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا تھا کہ وہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں جس میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل ہوں تاکہ انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اتفاق رائے حاصل ہو سکے۔ تاہم وزیراعظم بذات خود اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار نہیں اور ایسا کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ عمران خان کی اپوزیشن بالخصوص شریف فیملی، زرداری اور مولانا فضل الرحمان سے غصہ اور نفرت کم نہیں ہو رہی جس کا اظہار کرنے سے وہ کبھی بھی باز نہیں آئے۔ اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کے متعلق سنا گیا ہے کہ وہ اپوزیشن کو بڑے مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے لیکن ان کی بات میں اس وقت تک وزن نہیں ہو گا جب تک عمران اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے الزامات پر مبنی توہین آمیز گفتگو کرنا بند نہیں کرتے۔
سیاسی لحاظ سے عمران کو یہ خوش فہمی ہے کہ ان کے مداح اور ووٹرز اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک وہ اپوزیشن کو اوئے توئے کر کے لعن تان جاری رکھیں گے اور انہیں ’’چور‘‘ یا ’’ڈاکو‘‘ قرار دیتے رہیں گے۔ عمران اس بات پر قائل نظر آتے ہیں کہ اگر وہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ گئے تو وہ سیاسی طور پر ہار جائیں گے، یہی چھوٹی سوچ ملک میں سیاسی کشیدگی اور عدم اعتمادی بڑھانے کا باعث یے۔ عمران کا خیال ہے کہ سیاسی کشیدگی ان کو سوٹ کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی صورتحال اپوزیشن سے زیادہ حکومت کیلئے نقصان دہ ہے خصوصا جب اپنے ڈھائی برس کے اقتدار میں وہ کسی بھی محاذ پر ڈلیور کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
وزیراعظم کے قریبی ذرائع کہتے ہیں کہ یہ بات انکے کپتان کو سمجھ نہیں آتی اور وہ اسی لیے اپنی جماعت میں ایسے لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو ان کی طرح انتہا پسند رویہ رکھتے ہو اور جنہیں زبان درازی میں مہارت حاصل ہو۔ فردوس عاشق اعوان، شبلی فراز، شہباز گل اور فیاض الحسن چوہان ایسی ہی چند مثالیں ہیں جو اپنے سیاسی قد کاٹھ کی بجائے زبان کے زور پر یہاں تک پہنچے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کے نزدیک نون لیگ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدہ تعلقات ان کی سیاست کیلئے سازگار ہیں۔ دوسری جانب نواز لیگ نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی اور وہ بھی فوجی قیادت کے خلاف تقریریں کر کے عمران خان کا مقصد پورا کر رہی ہے۔ حال ہی میں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ پر الزام عائد کیا کہ وہ مریم نواز کو دھمکیاں دے رہی ہے، لیکن بجائے کہ حکومت یا اسٹیبلشمنٹ اس الزام کا کوئی نوٹس لیتی، الٹا مریم نواز کے خلاف نیب کے مزید مقدمات کھول دیئے گئے۔ اور سب جانتے ہیں کہ نیب کو جسٹس جاوید اقبال نہیں چلاتے بلکہ اس کا براہ راست کنٹرول آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ہاتھ میں ہے۔ لہازا نیب کی تمام تر کارروائیاں اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر ہوتی ہیں جو اس ملک کی اصل حکمران ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ آرمی سیاسی معاملات میں ملوث نہیں ہے لیکن اپوزیشن کے علاوہ خلق خدا بھی ان دعووں کو مسترد کرتی ہے اور اصرار کرتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نہ تو غیر جانبدار ہے اور نہ ہی غیر سیاسی اور نہ ہی اس کا مستقبل قریب میں ایسا کوئی ارادہ ہے۔ ایسی صورت حال پاکستان کیلئے پریشان کن ہے کیوں کہ اس میں پاکستان اور اس کے عوام ہار رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ وہ جیت رہی یے۔ ان حالات میں عوام سوال کرتے ہیں کہ کیا پاکستان ایسے ہی چلتا رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button