اختلافات کے باوجود اپوزیشن ڈاؤن تو ہے لیکن آؤٹ نہیں ہوئی

اس عمومی تاثر کو رد کرتے ہوئے کہ پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد اختلافات کے بعد اپنے خاتمے کی طرف گامزن ہے، سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں گیلانی کی شکست اور استعفوں پر اختلافات کے باوجود اپوزیشن کی گیم آن ہے اور آج نہیں تو کل، تیزی سے غیر مقبول ہوتی کپتان حکومت کو گھر جانا ہی ہوگا۔
پی ڈی ایم کے حالیہ اجلاس میں پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے سامنے آنے والے اختلاف رائے کے بعد حکومتی صفوں میں شہنائیاں بجائی جا رہی ہیں جبکہ اپوزیشن رہنما بار بار اس بات کا برملا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں کہ پی ڈی ایم اتحاد قائم ہے اور یہ حکومت کے خاتمے کے بعد ہی منتج ہو گا تاہم حکومتی وزراء کی طرف سے مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کیا جا رہا ہے کہ مفادات کے تحفظ کیلئے تشکیل دیا گیا اپوزیشن اتحاد اپنی ناکامیوں سمیت ختم ہو چکا ہے۔ تاہم نجم سیٹھی حکومتی مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حالیہ اختلافات سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کوجھٹکا تو لگا ہے لیکن یہ ایک ووتی جھٹکا ہے کیونکہ سیاست میں نشیب و فراز اور اتار چڑھاؤ تو آتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فرض کریں سینٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ تسلیم کر لیے جاتے تو سنجرانی کی ہار حکومت کے لیے کتنا بڑا جھٹکا ثابت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شعبے میں ناکام حکومت کی تمام سیاسی کامیابیاںاسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت ہیں لیکن عوام میں اسکا امیج تیزی سے خراب ہو رہا ہے اور اب معاملات مزید اس طرح نہیں چلائے جا سکتے کیونکہ زبان خلق نقارہ خدا ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ آصف زرداری کی جانب سے پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں، خاص طور پر نواز لیگ سے، استعفوں پر اختلاف سامنے آنے کے بعد 24 مارچ کا لانگ مارچ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے اراکین پارلیمینٹ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دے کر اس ہائبرڈ نظام کو قانونی بحران میں دھکیل دیں۔ اُنہیں یقین ہے کہ حکومت جو بھی کرلے، وہ استعفوں کے بعد 450 حلقوں میں آزادانہ اور پرامن ضمنی انتخابات نہیں کرا سکتی۔ اس لیے جلد یا بدیر، حکومت عوام سے تازہ مینڈیٹ لینے پر مجبور ہوجائے گی اور عام انتخابات میں پی ڈی ایم میں شریک جماعتیں مسلم لیگ ن کی قیادت میں بھاری انتخابی کامیابی حاصل کرلیں گی کیوں کہ تحریک انصاف اپنی چمک کھو چکی ہے۔ سیٹھی کے مطابق نواز شریف اور مولانا استعفوں کا آخری حربہ اس لیے بھی آزمانا چاہتے ہیں کہ اب انہیں فوجی اسٹیبلشمینٹ کے نیوٹرل ہونے کے دعوے پر اعتبار نہیں۔ وہ اشارہ کرتے ہیں کہ شہباز شریف اور حتیٰ کہ آصف زرداری کے ساتھ کئی ایک ”ڈیلز“ کی گئیں لیکن ایفائے عہد نہ ہوا۔
نجم سیٹھی کے مطابق زرداری کی پارلیمنٹ کے اندر رہ کر سیاسی جنگ لڑنے کے حق میں دلیل یہ ہے کہ اگر استعفوں کی حکمت عملی کام نہیں کرتی تو پی ڈی ایم کے پاس کھونے کے لیے اور کچھ باقی نہیں بچے گا۔ زرداری کے مطابق اس وقت اپوزیشن اتحاد کی دس میں سے نو جماعتیں حکومت سے باہر ہیں اور انہیں استعفے دینے سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہو گا لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ دوسری جانب اگر اپوزیشن اتحاد اسمبلیوں سے استعفے دے کر حکومت کو گرانے میں کامیاب ہوجائے تو فوری انتخابات کی صورت میں ن لیگ کی فتح کے امکانات روشن ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کو تو پھر سندھ کی حد تک ہی حکومت ملنی ہے۔ ان حالات میں سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو نئے الیکشن کا کیا فائدہ جب کہ ابھی تک پی ڈی ایم کو الیکشن لائسنس بنانے کا بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی مرکز میں بھی نواز لیگ کے ساتھ اقتدار کا حصہ بن سکے۔ موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی اپوزیشن اتحاد کی واحد جماعت ہے جس کی ایک صوبے میں مستحکم حکومت موجود ہے اور وہ اسے کھونا نہیں چاہتی۔ اس نے ابھی حال ہی میں سینیٹ میں بھی بڑی تعداد میں سیٹیں حاصل کی ہیں اور وہ اب بھی قانونی جنگ کیلے نتیجے میں اس کی چیئرمین شپ حاصل کرسکتی ہے۔
ان حالات میں پیپلز پارٹی کی قیادت یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ اگر اسمبلیوں سے استعفوں کے ذریعے حکومت گرانے کی حکمت عملی ناکام ہوتی ہے تو وہ اسکے نتیجے میں اپنی موجودہ پوزیشن کو کھو دے گی۔ اس لیے استعفوں کی سیاست میں پیپلز پارٹی کے لیے کچھ نہیں رکھا، تاوقتیکہ نواز شریف اگلی قائم ہونے والی حکومت میں اسے کچھ اضافی سیاسی فائدہ پہنچانے کا وعدہ کریں۔ لیکن یہ فائدہ کیا ہوسکتا ہے؟ نجم سیٹھی کے مطابق آصف زرداری کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ اس سے پی ڈی ایم 2023 تک حکومتیں بنا سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے نواز شریف کو تحریک انصاف کی صفوں سے نکل کر آنے والے ان منخرفین کو ضمانت دینی پڑے گی کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر، یا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں تو ن لیگ اُن کے مقابل امیدوار کھڑے نہیں کرے گی۔ لیکن نواز شریف اس پر راضی نہیں کیوں کہ اس کا مطلب ہوگا کہ وہ آئندہ انتخابات میں پنجاب اسمبلی یا قومی اسمبلی کے حلقوں سے اکثریت نہیں لے سکیں گے اور اُنہیں آصف زرداری کے ساتھ اقتدار شیئرکرنا پڑے گا۔ نواز شریف اسمبلی کی باقی مدت کے لیے مخلوط حکومتیں بنانے کے آصف زرداری کے تصور کے بھی حامی نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ ان مشکل حالات میں حکومت سنبھالتے ہیں اور کارکردگی نہیں دکھا سکتے تو اُنہیں عوام کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نجم سیٹھی کے مطابق آصف زرداری پی ڈی ایم کی قیادت کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کھڑی تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ گوریلا جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے وہ اس کی فصیلوں میں نقب لگا کر اس کے بندے توڑنے اور اسے کمزور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اُنہوں نے حالیہ ضمی اور سینیٹ انتخابات میں بہت کامیابی سے یہی کچھ کیا ہے۔ اس کھیل میں پہلے پنجاب اور پھر اسلام آباد میں تحریک عدم اعتماد لاکر طاقت کے ان اہم مراکز پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ سٹریٹیجی نواز شریف کے لیے سازگار نہیں۔ وہ ایسے کسی غیر موثر کولیشن کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو مسلم لیگ ن کو اگلے عام انتخابات میں اچھی ساکھ سے محروم کردیں۔ نیز ایسے کسی وسط مدتی بندوبست میں عوامی مقبولیت رکھنے والی دونوں اہم شخصیات، نواز شریف اور مریم نواز، باہر ہوں گی۔
دوسری طرف زرداری صاحب کو توقع ہے کہ بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی ایسے بندوبست سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ سینیٹ کامیابی کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے بھی طرفین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگرپیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی سینٹ چیئرمین نہیں بن سکتے تو پیپلز پارٹی قائد حزب اختلاف کا عہدہ چاہتی ہے کیوں کہ اس کے پاس کسی بھی جماعت سے زیادہ نشستیں ہیں۔ لیکن ن لیگ کا کہنا ہے کہ اصل منصوبے میں اس عہدے کا وعدہ اس سے کیا گیا تھا۔ وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی مسلم لیگ ن کے امیدوارں، اعظم تارڑ اور سعدیہ عباسی سے زیادہ موثر اور طاقت ور قائد حزب اختلاف ثابت ہوں گے۔ پیپلز پارٹی شریف خاندان کے وکیل، اعظم تارڑ کوبھی سخت ناپسند کرتی ہے کیوں کہ وہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں ملزم پولیس مین کا دفاع کرنے والے وکیل تھے۔ چنانچہ اسلام آباد یا پنجاب میں مخلوط حکومت سازی کے لیے یہ ماحول کسی طور بھی سازگار نہیں ہے۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں ان حالات میں توقع کی جاسکتی ہے کہ دونوں فریق قدم پیچھے ہٹا کر غور وفکر کریں گے۔ ایک بات طے ہے کہ آنے والے کچھ ماہ تک لانگ مارچ اور استعفوں کا باب بند رہے گا تاوقتیکہ پی ڈی ایم پیپلز پارٹی کے بغیر ہی قدم بڑھانے کا فیصلہ کرلے۔ انکا کہنا یے کہ کرونا سے متاثرہ کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔ رمضان کا مہینہ بھی قریب ہے۔ اس کے بعد عید کی تعطیلات ہوجائیں گی۔ پھر گرمی اور موسم برسات کی شدت ستمبر اور اکتوبر تک جاری رہے گی۔ تو کیا نواز شریف اور مولانا صاحب ایسے حالات میں پارلیمنٹ سے باہر نکلنے میں کوئی فائدہ دیکھتے ہیں؟ سیٹھی کا کہنا ہے کہ استعفے دینے والے اراکین اُس وقت تک پارلیمنٹ میں رہ سکتے ہیں جب تک متعلقہ سپیکرز اُن کے استعفے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ہنگامہ برپا کرتے ہوئے کارروائی کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس دوران وہ ”اصولوں“ کی بنیاد پر مستعفی ہونے کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر تحریک انصاف کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتے ہیں، یا اگر پیپلز پارٹی تحریک انصاف کے لیے نرم گوشہ رکھتی دکھائی دی تو اسے شرمندہ بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے اندر رہنا ضروری ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق اس تمام کاوش میں اُنہیں کھونے کی بجایے کچھ حاصل ہی ہوگا۔ اس صورت حال میں پیپلز پارٹی متحارب قوتوں کے درمیان ہوگی۔ تحریک انصاف اس کا گلا دبانے کی کوشش جاری رکھے گی۔ اسٹیبلشمنٹ اس کے ساتھ چالیں چلتی رہے گی۔ اس دوران عوام بھی اس کی موقع پرستی سے بدظن ہوجائیں گے۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ان حالات میں یقینا ہر فریق کو بہت کچھ سوچنا ہے۔ اگر مسلم لیگ ن فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اعلیٰ قیادت کا نام لے کر دوبارہ حملے شروع کردیتی ہے تو فوجی قیادت لازمی طور بے چینی محسوس کرے گی۔ اسکی اپنے گھر کی طرف بھی نگاہ جائے گی۔ عمران خان سے کہا جائے گا کہ حزب اختلاف کا ناطقہ بند کرنے کی بجائے گڈ گورننس پر توجہ دیں۔ اس کے نتیجے میں اختلافات کی لکیر گہری ہوگی۔ آصف زرداری بھی اتحادیوں سے الگ ہوکر دشمنوں کے نشانے پر آنا پسند نہیں کریں گے۔ اس لیے پی ڈی ایم کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود گیم آن ہے اور آج نہیں تو کل، تیزی سے غیر مقبول ہوتی کپتان حکومت کے خلاف عوامی غیظ و غضب اور اپوزیشن کی تحریک زور پکڑے جس کے نتیجے میں اسے گھر جانا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button