ایم کیو ایم پاکستان کے تمام دھڑے ضم ہوگئے

فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کی جماعت پاک سرزمین پارٹی خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں شامل ہوگئی اور اس موقع پر اعلان کیا گیاکہ 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیں گے۔

خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج مصطفیٰ کمال اور اس کے ساتھی ایک اور ہجرت کرنے آئے ہیں، اور وہ ہجرت ہم پاک سرزمین پارٹی سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی طرف کررہے ہیں، نہ یہ ہماری ذات کا مسئلہ ہے، نہ یہ ہماری آرگنائزیشن کا مسئلہ ہے، یہ پاکستان کا مسئلہ ہے، آصف علی زرداری سے مؤدبانہ بات کرتا ہوں، ان کا ارادہ ہے کہ بلاول بھٹو کو وزیراعظم پاکستان بنائیں لیکن وہ اپنے وزیروں کو سمجھائیں کہ وہ اپنی چند سیٹوں کی خاطر کراچی پر قبضہ کرکے اگر انہوں نے پورے کراچی کو پیپلز پارٹی کا مخالف بنا لیا تو کیا بلاول بھٹو افورڈ کرسکیں گے کہ کراچی کو اپنے خلاف کھڑا کرلیں اور وزیر اعظم بن جائیں۔

انہوں نے کہا اگر بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانا ہے تو سندھ کے شہری علاقے کے لوگوں کی داد رسی کرنی پڑے گی، ان کے دکھوں پر مرہم رکھنا پڑے گا، اپنے دلوں کو بڑا کرنا پڑے گا، میں کوئی مخالف نہیں کررہا، میں پاکستان چلانے والوں سے گزارش کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے، اس کراچی کے دکھوں کا اب مداوا کیا جائے، میں ساتھ بیٹھ کر کہتا ہوں کہ ہاں، ہم میں اختلاف تھا، ہم نے کھل کا اختلاف بھی کیا ہے، میں نے منافقت نہیں کی، میں حالات کو دیکھ کر میں آج مفاہمت کی بات کر رہا ہوں تو اس میں بھی منافقت نہیں ہے، کراچی کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ ان کو امن کے ساتھ اپنے اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا پڑے گا، آپ نے دیکھ لیا کہ پی ٹی آئی کچھ نہیں کرسکی، پیپلز پارٹی 15 سالوں سے کچھ نہیں کرسکی، اس شہر کو پہلے بھی بنایا تھا دوبارہ بھی بنائیں گے۔

انکا کہنا تھاپاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کی حکومت سے بھی کہنا چاہتا ہوں، ایک دفعہ اس شہر کے نوجوانوں کو معافی دی جائے، آج بھی جو لاپتا ہیں، ان کو ان کی ماؤں کے حوالے کیا جائے، آپ نے 7 سالوں سے دیکھا لیا، اس شہر میں ایک بھی پتھر نہیں پڑا، آج شہر میں امن ہے تو ان تمام نوجوانوں کی کنٹری بیوشن کی وجہ سے امن ہے، ان کا حصہ ہے امن ہے، ایک سوال کا پہلے ہی جواب دے دوں کہ ہم خالد مقبول صدیقی کے ماتحت کام کریں گے، نادرا کا ریکارڈ جا کر چیک کریں کہ کراچی کے پتے والے شناختی کارڈ دیکھیں کہ کتنے لوگ 18 سال سے بڑی عمر کے ہیں، 2012 میں جو ریکارڈ جمع ہوا ہے، ایک کروڑ 80 لاکھ افراد تو صرف 18 سال زیادہ عمر کے لوگ ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جب یہی نوجوان جس کو آپ نہ پینے کا پانی دے رہے ہیں، نہ نوکری دے رہے ہیں، نہ رات کو لائٹ اور صبح میں گیس دے رہے ہیں، وہ جب زندگی سے مایوس ہو کر کوئی غلط راستہ اختیار کرے گا، تمام پاکستان اس کے اوپر کیمرے بھی لگا دے گا، ریاست بھی آ جائے گی، بندوق بھی آ جائے گی، لاپتا بھی کردیں گے، مار دیں گے کہ بھائی دہشت گرد مارا گیا، آج آپ دہشت گرد بنانے رہے ہیں، اس دہشت گرد بنانے والوں کو پکڑنا چاہیے، پاکستان میں دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔

اس موقع پرسینئر سیاست دان فاروق ستار نے کہا کہ آج کا دن صرف سندھ کے شہروں، پورے سندھ اور پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل نہیں ہے، یہ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی بحران میں باقی سیاسی جماعتوں کے کردار کے سامنے جو سندھ کے شہروں میں جو منقسم قیادت تھی، یہ ان کی سیاسی بردباری اور پختگی کا مظاہرہ ہے کہ آج پورے ملک کے معاشی و سیاسی بحران میں پاکستان کے 24 کروڑ کو امید کی کوئی کرن نظر آتی ہے تو وہ ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز میں، جو آج ہم پریس کانفرنس کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جو بھی اختلافات تھے، ان کو ایک طرف رکھ کر آج ایک متحد، منظم اور متحرک ایم کیو ایم پاکستان قائم کرنے جا رہے ہیں، میرے خیال میں یہ پورے پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے لیے ہوا کا تازہ جھونکا ہے، ایم کیو ایم پاکستان جو مڈل کلاس پڑھے لکھے نوجوانوں کی سیاسی جماعت ہے، اسے اگر پاکستانی قوم کی تشکیل کا موقع دیا جائے تو 10 ارب ڈالر کراچی اکیلا آپ کو کما کر دے سکتا ہے، 12 جنوری کے بعد ہمارا عمل بتائے گا کہ ہم آج کیوں یکجا ہو رہے ہیں، اور ایم کیو ایم پاکستان کو ایک بار پھر اس تقسیم اور انتشار سے باہر نکال کر پورے ملک کے لیے ایک مڈل کلاس اور پڑھے لکھے نوجوانوں کا سیاسی عمل بنا رہے ہیں۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آج ہم جمع ہوئے ہیں، اور ہمیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ یہ تقسیم زہر قاتل تھی، ایم کیو ایم کا ووٹ بینک تقسیم ہوا، ایم کیو ایم پاکستان کی سیٹیں چھین لی گئیں، ایم کیو ایم پاکستان تقسیم ہو گئی، ہم بانیان پاکستان اور ان کی موجودہ نسل ہیں، ہم نے یہ فرق کرکے بتادیا کہ پورے ملک سے کیا صدا آرہی ہے، پورے ملک میں پولارائزیشن، سیاسی کشیدگی، اقتدار، اقتدار، اقتدار اس کے علاوہ کچھ نہیں، اور 10 ارب ڈالر کا قرضہ جو جنیوا سے اٹھایا گیا، یہ پاکستان کا مقدر ہے، اور ہم یہاں بتا رہے ہیں کہ کراچی کو ایک موقع دیں، ہمیں ہمارا قومی کردار ادا کرنے دو، ایم کیو ایم پاکستان کو اس کا قومی کردار ادا کرنے دو قسم خدا کی پورے ملک میں ایک مڈل کلاس پڑھے لکھے نوجوانوں کا سیاسی عمل اور قیادت ہم اگلے چند مہینوں اور چند سالوں میں نہ دیں، تو ہماری وہی سزا جو چور کی سزا۔

انہوں نے کہا کراچی والے 4 ہزار ارب روپے سالانہ دیتے ہیں، اور ہمیں 40 ارب کی خیرات ملتی ہے، خالد مقبول صدیقی نے کہا نا کہ جب ایوانوں میں فیصلے نہیں ہوں گے تو روڈ پر ہوں گے، اس ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا ایم اے جناح روڈ پر نہیں، شارع فیصل پر ہم کر کے دکھائیں، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ 15 جنوری کے انتخابات کیسے ہوتے ہیں، کراچی کا سیاسی خلا پر نہیں ہوا، اور یہ خلا صرف لندن والوں کو گالیاں دینے سے بھی پُر نہیں ہوگا، یہ خلا اپنے عمل، متحد، منظم اور متحرک ہونے سے پُر ہوگا، ہم آج یہ دعویٰ کرتے ہیں، جرائم، تشدد اور عسکریت پسندی کے لیے زیرو ٹالرینس ہوگی، اسی طرح پاکستان مخالف اور ریاست مخالف جذبات اور ایکٹیوٹی کے لیے زیرو ٹالرینس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں 140 اے کے تحت اختیارات چاہیئں، بلدیاتی وسائل اور اختیارات ہمارا حق ہے، سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ صوبائی حکومت حلقہ بندیاں کرتی ہے، جیری مینڈرنگ صرف حلقہ بندیوں میں نہیں ہوئی، واٹر بورڈ اگر بلدیاتی قانون سے نکال کر 140 اے کی خلاف ورزی کی گئی، آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی کی گئی وہ جیری مینڈرنگ ہے، صوبے نے 140 اے کے اختیارات غصب کرلیے یہ قبل از وقت انتخابات دھاندلی ہے، صرف یہ دھاندلی نہیں ہے کہ 8ہزار، 20 ہزار کا یا 30 ہزار کا ایک حلقہ اور دوسرا حلقہ 90 ہزار کا، بانیان پاکستان کی اولادوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ تمہاری گنتی نہیں ہوگی، تمہیں گنا نہیں جائے گا، تم چوتھے، پانچویں اور چھٹے درجے کے پاکستانی ہو، یہ پیغام دیا جائے گا تو اصل میں آج کا چیلنج ہے۔

فاروق ستار نے کہاسرفراز دھوکا نہیں دیتا، ہاں سرفراز نے دھوکا کھایا ہے، آج ہم سب کے یہاں بیٹھنے کا مقصد یہ ہے کہ سرفراز جب دھوکا نہیں دے گا تو آج یہ فیصلہ کررہا ہے کہ اب سرفراز دھوکا کھائے گا بھی نہیں، اس کی بحالی ہوئی ہے، کرکٹ کی بحالی ہوئی ہے، عزت نفس کی بحالی ہوئی ہے، ہمارے ڈومیسائل پر ہمیں نوکریاں نہ ملیں، دنیا جہاں کو نوکری ملے، ویتنامی، برمی، بنگالی اور افغانی کراچی میں اور کراچی والے کراچی سے باہر، ہمیں بتایا جائے کہ ہمیں پاکستان میں نہیں گنا جائے گا تو کہاں گنا جائے گا، یہ میرا ریاست، حکومت اور عدالت سے بھی سوال ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ہونے والے رویے، سیاسی آزادیوں پر لگائی جانے والی قدغن، مردم شماری، حلقہ بندی، ووٹر لسٹ، نوکریوں ، شناخت پہچان، عزت نفس یہ سب زد میں رہی ہے، ہم پریس کانفرنسز اور عوامی جلسوں میں اپیل کرتی رہی ہے کہ حالات سنگین سے سنگین تر ہو رہے ہیں، ہم سب کو اس کی سنگینی کا احساس ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام لوگ، اپنی آواز میں آواز ملائیں، اور کراچی کو منی پاکستان کہا جاتا ہے، ہر مسلک اور فرقے سے تعلق رکھنے والے یہاں بستے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس حالات میں ہم سب نے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں، ہماری اس اپیل کر، اس دعوت شمولیت اور شراکت پر تمام لوگوں نے آپس نے خاص طور پر جو نیا مرحلہ شروع کیا تھا، جس میں کراچی کو اس کے اصل وارثوں سے چھیننے کی جو سازش اور منصوبہ بنایا گیا تھا، اس کو ناکام بنانے کے لیے ہم سب کو اکھٹا ہو کر آگے بڑھنے اور آواز بلند کرنے کی جو ضرورت تھی، آج ہم سب کی مشترکہ کوششیں اور کاوشیں رنگ لائی ہیں، میں پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال، انیس کمال اور ان کے کارکنان اور فاروق ستار اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں آئے ہیں، اور بہت سے خواب اور بہت سی امید اور بہت سے یقین آپ کی موجودگی میں اس قوم کو مل رہا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 23 اگست 2016 بھی بڑا تاریخی اور فیصلہ کن موڑ ہے، اس وقت یہاں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے پر یقین رکھنے والے تمام لوگ بیٹھے ہیں، پاکستان کو زندہ اور مضبوط رکھنا چاہتے ہیں، ہم نے پاکستان مردہ باد کے نعرے اور نعرے لگانے والے دونوں کو مسترد کیا ہے، ہم بار بار وضاحتیں پیش نہیں کریں گے، ہم نے کر کے دکھایا ہے، جو بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ اور پاکستان مردہ باد کے نعرے کے خلاف ہے، اس کو ہماری صفوں میں ہم ہمیشہ خوش آمدید کہتے رہیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ اب ایسی امید اور یقین کہ کراچی کے ذریعے پاکستان کی ٹرین اپنی منزل تک پہنچ کر دکھائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 15 جنوری کو انتخابات نہیں ہونے دیں گے، اگر آج رات کو بھی حلقہ بندیوں کو ٹھیک کر دیں گے تو کل الیکشن لڑ لیں گے، ورنہ پھر اپنے حق اور اپنی شناخت اور اپنی نمائندگی کے لیے لڑیں گے،ان سے سوال پوچھا گیا کہ آفاق احمد بھی آپ کے ساتھ آ جائیں گے؟ اس کے جواب میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ دعوت عام ہے، جس جس کو آنا ہے وہ درد لے کر آئے گا، اور درد کا علاج یہیں سے مل پائے گا۔

خالد مقبول صدیقی  کا کہنا تھا کہ جب پشاور میں پشاور کی، راولپنڈی میں راولپنڈی کی، لاڑکانہ میں لاڑکانہ کی پولیس ہے تو کراچی میں کہیں اور کی پولیس کیوں ہے؟ کیونکہ ڈاکو اور پولیس دونوں یہاں کے نہیں ہیں، دونوں کے درمیان رشتے داریاں ہیں، پارٹنرشپ ہے، یہ نہیں چلےگا۔

Back to top button