ایم کیو ایم کے کھاتے میں فروغ نسیم گورنر سندھ لگنے والے ہیں؟

اسلام آباد کے حکومتی حلقوں میں یہ خبر گردش میں ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کو منانے کی خاطر گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جگہ بیرسٹر فروغ نسیم کو گورنر بنائے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ کو سندھ حکومت کا حصہ بننے کی آفر کے بعد وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم کو رام کرنے کےلیے ایک نیا فارمولا دیا ہے جس کے تحت سندھ کی گورنری ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے فروغ نسیم کو دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت گورنر سندھ عمران اسماعیل کا تعلق تحریک انصاف سے ہے جن کی کارکردگی سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کے بعد بیرسٹر فروغ نسیم کو عمران اسماعیل کی جگہ گورنر سندھ مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ فروغ نسیم کو آج کے دور کا شریف الدین پیرزادہ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جنرل مشرف کے بھی قریب تھے اور جنرل باجوہ کے بھی قریب سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم ایم کیو ایم ذرائع کے مطابق ان کے ساتھ ابھی وفاقی حکومت نے فروغ نسیم کو گورنر تعینات کرنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم تو اب فروغ نسیم کو اپنی جماعت کا بندہ تصور ہی نہیں کرتے۔ ہمارے کاغذوں میں تو وہ اب پی ٹی آئی کو پیارے ہو چکے ہیں۔ تاہم اگر ایسی کوئی تجویز آئی تو ہم ضرور غور کریں گے۔
دوسری طرف کراچی میں پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران اسماعیل پی ٹی آئی کے بانیوں میں سے ہیں، کپتان کے دوست ہیں اور انہیں تبدیل کرنے کی کوئی تجویز ان کے علم میں نہیں ہے۔ لیکن وفاق میں پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اپنے انداز سیاست کو مکمل طور پر بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ممکنہ طور پر آنے والے دنوں میں عمران خان ملک کے وسیع تر مفاد میں اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں اور جلد ہی وہ کچھ بہت بڑے فیصلے کرنے والے ہیں جن سے ان کے اتحادی خوش ہو جائیں گے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم کو گورنر بنانے کا فیصلہ اس لیے بھی کیا جارہا ہے کہ جو کردار مشرف دور اور پھر اس کے بعد پی پی پی اور نوازشریف ادوار میں عشرت العباد نے بطور گورنر ادا کیا اب وہ کردار فروغ نسیم جیسے میٹھے اور شاطر شخص سے بہتر کوئی اور ادا نہیں کر پائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم کو گورنر تعینات کرنے سے تین فائدے ہوں گے۔ پہلا یہ کہ ایم کیو ایم خوش ہوجائے گی۔ دوسرا یہ کہ اسٹیبلشمنٹ بھی راضی رہے گی اور تیسرا یہ کہ فروغ نسیم کپتان کے بھی قریب ہیں۔ بطور گورنر وہ وہ حکومت اور اسکی اتحادی ایم کیو ایم کے درمیان پُل کا کردار بھی ادا کریں گے تا کہ متحدہ قومی موومنٹ کی شکایات کا بھی ازالہ ہو سکے۔
یاد رہے کہ عمران اسماعیل کو اگست 2018 میں گورنر سندھ مقرر کیا گیا تھا اور وہ پی ٹی آئی کے بانیوں میں سے ہیں۔ ان کا اور عمران خان کا پچیس سال سے زیادہ پرانا تعلق ہے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب مانے جاتے ہیں۔ تاہم ان سے پارٹی قیادت کو بنیادی شکایت یہ ہے کہ وہ شام کے بعد مخمور ہو جاتے ہیں اور دستیاب نہیں ہوتے۔ ان کے سب سے بڑے سپورٹر اور دوست عقیل کریم ڈھیڈی المعروف اے کے ڈی نے بھی عمران اسماعیل کو سمجھانے کی کافی کوشش کی ہے لیکن چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ ویسے بھی سیاسی طور پر عمران اسماعیل کا کوئی اثر و رسوخ سندھ میں نظر نہیں آتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button