اینڈی فلاور نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ سے انکار کر دیا

سابق زمبابوین کرکٹر اینڈی فلاور نے دیگر مصروفیات کے سبب پاکستانی ٹیم کی مزید کوچنگ سے انکار کر دیا ۔ مصباح الحق کو ستمبر 2019ء میں بھاری تنخواہ پر ہیڈ کوچ کے ساتھ ساتھ چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سونپی گئی تھی،اس وقت سی ای او وسیم خان نے اس منفرد فیصلے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے ملکی کرکٹ کیلیے بیحد کارآمد قرار دیا۔
سابق کپتان کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ وہ ’’یس مین‘‘ ثابت ہوںگے لیکن انھوں نے کئی معاملات پر بورڈ کے اعلیٰ حکام کے سامنے بھرپور انداز میں اپنا موقف بھی پیش کیا، ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں تبدیلی سے جب کرکٹرز بیروزگار ہوئے تو ان کا مقدمہ پیش کرنے کیلئے مصباح الحق نے محمد حفیظ اور اظہر علی کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس کے بعد ان کا ستارہ گردش میں آ گیا، گذشتہ برس اکتوبر میں مصباح سے چیف سلیکٹر کی ذمہ داری واپس لے لی گئی اور بعد میں ہیڈ کوچ کا عہدہ بھی چھنتا محسوس ہوا مگر وہ برقرار رہے۔
مصباح الحق کے کوچ بنتے وقت قومی ٹیم ٹی ٹونٹی میں نمبر ون تھی مگر انھوں نے سری لنکا کیخلاف ہوم سیریز میں کلین سویپ کی خفت سے دوچار ہونے کے بعد سرفراز احمد کو قیادت سے ہٹانے کی تجویز دی جس سے کمبی نیشن بگڑ گیا، اب قومی ٹیم کی رینکنگ 4 ہو چکی ہے، مصباح کے دور میں گرین شرٹس کو 34 ٹی ٹونٹی میچز میں صرف16 کامیابیاں ملیں اور 13 بار شکست کا منہ دیکھنا پڑا جبکہ 5 میچز غیرفیصلہ کن رہے، ان فتوحات میں سے بھی سوائے سٹارز سے عاری جنوبی افریقہ کے علاوہ دیگر بڑی ٹیموں کیخلاف شازونادر ہی کامیابیاں نصیب ہوئیں۔
مصباح کی کوچنگ میں پاکستان نے 16 ٹیسٹ میں سے 7 جیتے اور 6 میں شکست ہوئی جبکہ 3 کا ڈرا پر اختتام ہوا، قومی ٹیم کو آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ سے شکستیں ہوئیں اور صرف جنوبی افریقہ واحد بڑی ٹیم تھی جسے زیر کیا ، ٹیم کی موجودہ ٹیسٹ رینکنگ 5 ہے۔11 ون ڈے میں سے قومی ٹیم نے 6 جیتے، 4 میں شکست ہوئی جبکہ ایک ٹائی ہوا، انگلینڈ کیخلاف رواں برس تینوں ون ڈے میچز میں ناکامی ملی، ون ڈے میں پاکستان کی موجودہ رینکنگ 6 ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ انگلینڈ سے ٹی ٹونٹی سیریز میں 1-2 سے شکست کے بعد ہی مصباح الحق کے متبادل کی تلاش شروع کردی گئی تھی، سابق چیئرمین احسان مانی اور وسیم خان کسی غیرملکی کوچ سے معاہدہ کرنے کے خواہاں تھے، رواں ماہ سابق زمبابوین کرکٹر اینڈی فلاور سے رابطہ کیا گیا مگر انھوں نے دیگر مصروفیات کی بناء پر معذرت کرلی، 53 سالہ اینڈی فلاور پی ایس ایل چیمپئن ملتان سلطانز کیساتھ کیریبیئن پریمیئر لیگ ٹیم سینٹ لوشیا کنگز، ٹی 10 لیگ سائیڈ دہلی بلز اور دی 100 ٹیم ٹرینٹ راکٹس کے بھی ہیڈ کوچ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں جب کہ آئی پی ایل ٹیم کنگز الیون پنجاب میں نائب کوچ کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔
انھوں نے پی سی بی پر واضح کیا کہ وہ فی الحال فرنچائز کرکٹ میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور کسی قومی ٹیم کیساتھ ذمہ داری انجام نہیں دینا چاہتے، پی سی بی بھی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے قبل کوئی تبدیلی کرنے کی پلاننگ نہیں کررہا ہے کیوں کہ کیونکہ جو بھی کوچ آئے گا اسے ٹیم کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کا مناسب وقت نہیں ملے گا، احسان مانی کی رخصتی کے بعد متوقع چیئرمین رمیز راجہ بھی غیرملکی کوچ ہی لانا چاہیں گے۔
