ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نکالنے کا کھیل کیا ہے؟


ریاست پاکستان کسی بھی مشکوک شخص، سزایافتہ مجرم یا کسی مقدمے میں مطلوب ملزم کو ملکی حدود سے باہر جانے سے روکنے کے لئے اس کا نام ای سی ایل، واچ لسٹ یا بلیک لسٹ میں ڈال سکتی ہے۔ ایسے افراد کا بائیو ڈیٹا ان پر لگے الزام کی نوعیت کے مطابق ہی کسی مخصوص لسٹ میں ڈالا جاتا ہے تاکہ انہیں بیرون ممالک جانے سے روکا جائے۔
حال ہی میں اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس میں ملوث مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت دیگر افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا ای سی ایل میں شامل کرکے انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا ہے۔ اسی طرح رواں سال مئی میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا نام لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بلیک لسٹ سے نکالنے کے فیصلے کے بعد حکومت نے انہیں بیرون ملک سفر سے روکنے کے لیے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ شہباز شریف کا اصرار تھا کہ انہیں عدالت نے باہر جانے کی اجازت دی ہے اور حکومت کو انہیں روکنے کا کوئی اختیار نہیں۔ چنانچہ اکثر ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر حکومت کے پاس کسی شہری کو بیرون ملک سفر کرنے سے روکنے کا کونسا اختیار ہے اور ائ سی ایل میں کسی کا نام نام کیسے ڈالا جاتا ہے۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے قوانین کے تحت جب کوئی مسافر بیرون ملک پرواز میں سوار ہونے کے لیے امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچتا ہے تو وہاں موجود افسران اس کا پاسپورٹ لے کر چیک کرتے ہیں کہ اس کا نام کہیں تین مختلف طرح کی ایسی لسٹوں میں تو نہیں جو اسے بیرون ملک سفر سے روکتی ہیں؟ اس حوالے سے سب سے مستند لسٹ ایگزٹ کنٹرول لسٹ کہلاتی ہے جو کسی مشکوک شہری کے ملک سے انخلا کو روکتی ہے۔ قانون میں کی گئی نئی ترامیم کے بعد اب ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں کسی شخص کا نام ڈالنے کے لیے کابینہ کی منظوری ضروری قرار دی گئی ہے۔ کابینہ کی تین رکنی کمیٹی کسی کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کے لیے تجویز پیش کرتی ہے جس کی حتمی منظوری کابینہ دیتی ہے۔ اس وقت مذکورہ کمیٹی کے ممبران میں وزیرداخلہ شیخ رشید، وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ایگزٹ کنٹرول لسٹ تین طرح کی ہوتی ہے۔ ایک جس میں کسی شخص کو محض جانے سے روکنا ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کے خلاف کسی عدالت میں کیس کی وجہ سے اس کا نام ای سی ایل میں ہو مگر وہ ضمانت پر ہو تو ایسے شخص کو ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا جاتا ہے مگر گرفتار نہیں کیا جاتا۔ تاہم اگر کسی اشتہاری مجرم کا نام ای سی ایل پر ہو تو اسے ایئرپورٹ پر گرفتار کیا جاتا ہے اور متعلقہ پولیس سٹیشن کے حوالے بھی کیا جاتا ہے۔ تیسری قسم ایسے افراد کی ہوتی ہے جو انٹرپول کی ریڈ لسٹ میں ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کو بھی گرفتار کر کے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے جو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔
بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے نادرا یا پاسپورٹ آفس کی جانب سے کچھ افراد کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا جاتا ہے۔ ایسے افراد نادرا کے کسی جرم میں ملوث ہوتے ہیں جیسے دہری شناخت اپنانا وغیرہ یا پاسپورٹ چوری شدہ ہونا یا دہرا پاسپورٹ رکھنا وغیرہ۔ ایسے لوگوں کی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے اور ان میں وہ لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو بیرون ملک سے کسی جرم کی وجہ سے ڈی پورٹ ہو کر پاکستان واپس پہنچے ہوں۔ اس لسٹ میں نام نادرا یا پاسپورٹ آفس کی جانب سے فراہم کیے جاتے ہیں۔ پرویژنل نیشنل آئیڈینٹیفیکیشن لسٹ یا پی این آئی ایل وہ فہرست ہوتی ہے جس میں 30 دن کے لیے کسی شخص کا نام ڈالا جاتا ہے جس کے بیرون ملک فرار کا خدشہ ہو۔ اگر کسی شخص کا نام ابھی ای سی ایل میں ڈالنے کے مرحلے میں ہے اور اس دوران اس کے ملک چھوڑنے کا خدشہ ہو تو ڈی جی آیف آئی اے کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ ایف آئی اے کی ایک تین رکنی کمیٹی کی سفارش پر اس کا نام پی این آئی ایل میں ڈال دے۔ ڈی جی ایف آئی اے اس مدت کو 30 مزید دن تک بڑھا سکتا ہے۔ اس سے قبل اس کو واچ لسٹ کہتے تھے تاہم جون 2018 میں چند تبدیلیوں کے بعد اس کا نام بھی بدل دیا گیا ہے۔
ماہر قانون خزیمہ صدیقی کے مطابق کسی شخص کو ملک سے باہر جانے سے روکنا حکومت کا حق ہے لیکن اس کے لیے طریقہ کار سادہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ای سی ایل 1980 کی دہائی میں جاری ہونے والے ایک آرڈیننس کے تحت مرتب کی جاتی ہے لیکن بارڈر کنٹرولز پر ایگزٹ کنٹرول کی مختلف فہرستوں کی وجہ سے بعض اوقات بہت زیادہ الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ خزیمہ صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو باہر بھیجنے سے روکنے کے لیے ایک ہی لسٹ مرتب کرے اور اس کو تمام بارڈر کنٹرولز پر فراہم کیا جائے، تاکہ کوئی کنفیوژن پیدا نہ ہو۔ دنیا بھر میں لوگوں کو باہر جانے سے روکنے کے لیے پابندیاں لگتی ہیں، لیکن ان کے نظام مربوط ہوتے ہیں۔ ہر بارڈر کنٹرول پر ایک ہی فہرست ہوتی ہے اور تمام اہلکاروں کے پاس متعلقہ شخص کا مکمل ڈیٹا ہوتا ہے۔ ہمیں بھی اس نظام کو سینٹرلائزڈ کر کے زیادہ موثر اور خامیوں سے پاک بنانا چاہیے۔ خزیمہ صدیقی کے مطابق ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے بھی کافی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے متعلق بھی ایک سادہ اور برق رفتار طریقہ کار مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

Back to top button