بائیڈن نے پاک امریکہ تعلقات بحالی کی کوشش ناکام کیوں کی؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اپنی عمر کے 75 ویں سال پاکستان کو داخلی معاشی انہدام اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان تنہائی اور سرد مہری کاشکار ہے۔ یہ وہ ماحول ہے جس میں امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سیٹھی کے مطابق ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم حکومت تبدیل کرنے کے لیے ”لانگ مارچ“ کرتے ہوئے ملکی حالات بد سے بدتر بنا رہے ہیں۔ اس دوران ہمارے پاس معاشی اور خارجہ پالیسی کو سدھارنے کے لیے کوئی ایسا فارمولہ نہیں ہوتاجس کے ذریعے ریاست اور معاشرے میں واضح تبدیلیاں لائی جاسکیں۔

فرائیڈے ٹائمز کے لیے اپنے تازہ ایڈیٹورہل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ روس اور مغربی طاقتیں ایک ایسی کشمکش میں الجھ چکی ہیں جس کے نتیجے میں ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ مغربی معیشتوں کو غیر معمولی بحران کا سامنا ہے۔ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ سعودی عرب اور اوپیک نے تیل کی قیمتیں بڑھانے اور توانائی کے نرخ کم کرنے کا امریکی دباؤ مسترد کر دیا ہے۔ ان سب کے باوجود امریکی صدر، جوبائیڈن نے پاکستان کے بارے میں ناروا بیان دینا مناسب سمجھا۔

بائیڈن نے بظاہر کسی اشتعال انگیز ی کے بغیر پاکستان کو ”دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک“ اور اسکے جوہری ہتھیاروں کو ”غیر منظم“ قرار دے ڈالا۔ صدر بائیڈن تبدیل ہوتی ہوئی عالمی صورت حال کے پس منظر میں بات کررہے تھے جس پر جاندار امریکی ردعمل درکار تھا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ حالیہ دنوں عالمی شہ سرخیوں کاحصہ رہا ہے، لیکن کسی اچھی وجہ سے نہیں۔ یہ تیس ملین سے زیادہ اُن لاچار افراد کے لیے مغربی امداد کا طلب گار تھا جو کہ غیر معمولی سیلابوں کی وجہ سے بے گھر ہوچکے ہیں۔ مالیاتی بد انتظامی کی وجہ سے کئی ماہ سے اقتصادی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا پاکستان آئی ایم ایف اور پیرس کلب سے پیکچ کے لیے درخواست گزار ہے۔ لیکن اس دوران پاکستان امریکی قیادت میں مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ میں روس کی مذمت سے انکاری ہے جس کی وجہ سے امریکی ناراض ہیں۔ پاکستان ابھی تک امریکی مطالبے سے قدم پیچھے ہٹا رہا ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا یے کہ صدر بائیڈن کے بیان کے ردعمل می امریکی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروانا بھی سمجھ میں آتا ہے۔ صدر بائیڈن کا ”منفی“ تبصرہ وزیر اعظم شہباز شریف چیف آف آرمی سٹاف قمر باجوہ، اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اپنے امریکی ہم منصب سے واشنگٹن میں ملاقاتوں کے موقع پر سامنے آیا اور ان سب پر پانی پھیر گیا۔ بائیڈن کے بیان نے ملک میں امریکہ مخالف جذبات کو مزید بھڑکا دیا ہے، اگرچہ اس وقت پی ڈی ایم اور فوجی اسٹیبلشمنٹ پاک امریکہ تعلقات کو بحال کرنے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف ہیں جنھیں عمران خان اور ان کی حکومت کی تبدیلی کی سازش کی تھیوری نے بری طرح زک پہنچائی تھی۔ درحقیقت پاکستان کے خلاف وقتاً فوقتاً طیش کا اظہار امریکی قائدین کی طرف سے کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے حوالے سے افغانستان میں ”دہرا کھیل کھیلنے“ اور ”ڈبل کراس کرنے“ جیسے سخت الفا ظ استعمال کرتے رہے ہیں۔ صدر بائیڈن نے عمران کو ”ہیلو“ کرنے سے انکار کر دیا تھا کیوں کہ عمران نے طالبان کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھوں نے امریکی ”غلامی کا بوجھ“ اتار پھینکا۔ اسکے علاوہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو ”شہید“ بھی قرار دیا تھا۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ امریکی افواج کو ویت نام کی طرح افغانستان سے بھی شکست کھا کر نکلنا پڑا۔ اور امریکہ نے افغانستان سے انخلا کے وقت پاکستان پر ”دھوکا دہی“ اور ”دہرا کھیل کھیلنے“ کا اشتعال انگیز الزام بھی لگایا۔

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ان دو دہائیوں میں پاکستان اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے چین کے قریب ہوتا گیا۔ اس دوران امریکہ کو بیجنگ کی طرف سے اپنی عالمی بالادستی کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنج نے پریشان کررکھا تھا۔ اس پیش رفت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ نے بھارت کے ساتھ سٹریٹیجک پارٹنرشپ بڑھانا شروع کردی۔ اب چین اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی ایک تناسب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یوکرین کی جنگ نے روس اور چین کو قریب کر دیا ہے اور پاکستان خود کو دونوں کے درمیان ایک کشمکش میں پھنسا ہوا پاتا ہے۔

اس کے مغرب کے ساتھ غیر متزلزل تجارتی اور امدادی روابط ہیں۔ تقریباً 10 ملین پاکستانی مغرب اور اس کے اتحادی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں کام کر رہے ہیں، جو پاکستانی معیشت کو زمین بوس ہونے سے بچانے کے لیے ہر سال تیس بلین ڈالرز سے زیادہ رقم بھیجتے ہیں۔ لیکن چین نے پاکستان کی معیشت میں تقریباً بیس بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے اور پاکستانی فوج اپنے ہتھیاروں میں جدت لانے اور نئے ہتھیاروں کے حصول کے لیے چین پر انحصار کرتی ہے۔ اس نے اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا بھی استعمال کیا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلح مزاحمت کی پشت پناہی کرنے پرپاکستان پر پابندیاں لگانے کی بھارت کی کاوش کو ناکام بنایا جاسکے۔ اس کوشش کو مغرب کی تائید بھی حاصل تھی۔ لہٰذا جب کسی بھی بین الاقوامی فورم پر دباؤ کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستان امریکہ کے خلاف چین کا ساتھ دیتا ہے۔

نجم سیٹھی ہے بقول، فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے وضع کردہ پاکستان کا نیا قومی سلامتی پالیسی فریم ورک خطے میں جیو سٹریٹجی کے بجائے جیو اکنامکس پر زور دیتا ہے کیونکہ پاکستان کو اپنی ناکام معیشت اور معاشرے کو توانا کرنے کے لیے تجارت اور امداد کی اشد ضرورت ہے۔ اس نسخے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی جیو اکنامکس امریکہ اور مغرب پر منحصر ہے جن کی جغرافیائی حکمت عملیوں کی پاکستان حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ علاقائی روابط کے لیے چین کا سی پیک منصوبہ تعطل کا شکار ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وسطی ایشیا، افغانستان کا گیٹ وے انتہائی غیر مستحکم ہے اور ایران پر امریکا کی سخت پابندیاں ہیں۔ بھارت میں عسکریت پسند ہندوتوا کو عروج حاصل ہے۔ اس نے کشمیر پر تنازعات کے حل کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔ چنانچہ فروغ پاتی ہوئی عالمی طاقت کے ساتھ پاکستانی رابطے کی راہیں بھی مسدود ہیں۔ پاکستان کی سول ملٹری حکمران اشرافیہ صورت حال کو درست کرنے کی غلط کوششوں اور تضادات کے جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ بیرونی دنیا میں اس کی معیشت امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں سے جڑی ہوئی ہے لیکن اس کی سیاست نے چین کا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اس تضاد کی وجہ سے جیو اکنامکس روابط کا سفر شروع نہیں ہو پارہا۔ داخلی طور پر اس کی سیاست انتہائی غیر جمہوری انداز لیے ہوئے ہے۔اس کا مرکزی فارمولہ تقسیم کرو اور حکومت کروہے جو سیاسی عدم استحکام اور معاشی بے یقینی پیدا کر رہا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعتراف کیا کہ وہ دو طرفہ قرضوں میں تقریباً 27 بلین ڈالر کی ری شیڈولنگ کے خواہاں ہیں جو زیادہ تر چین اور مغربی مالیاتی اداروں سے لیے گئے ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی برادری سے بھی درخواست کی جارہی ہے،خاص طور پر پیرس کلب سے، کہ تباہ کن سیلاب سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی گرانٹ درکار ہے۔ اس مالیاتی بحران کے گہرے ہوتے ہوئے سایوں کی جھلک ملتی ہے۔

یعنی اپنی عمر کے 75 ویں سال پاکستان کو داخلی معاشی انہدام اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے اعر عالمی سطح پر پاکستان تنہائی اور سرد مہری کاشکار ہے۔ یہ وہ ماحول ہے جس میں اس کے جوہری اثاثوں کے تحفظ کی بابت خطرے کی چنگاری پھوٹی ہے۔

Back to top button