امریکہ کا 11 ستمبر تک اپنے تمام فوجی افغانستان سے نکالنے کا فیصلہ

امریکی صدر جو بائیڈن نے 9/11 کو امریکا کی جانب سے افغانستان پر فوج کشی کی 20ویں سالگرہ سے قبل افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رپورٹر کو بتایا کہ بائیڈن اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ 11 ستمبر سے افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن مغربی اتحادیوں سے رابطے کے بعد تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا بدھ کو اعلان کریں گے اور صرف محدود تعداد میں محافظوں کو وہاں رکھا جائے گا تاکہ وہ امریکی سفارتی تنصیبات کی حفاظت کر سکیں۔ بائیڈن نے انخلا کو زمینی حقائق سے مشروط نہیں کیا جہاں بین الاقوامی حمایت یافتہ افغان حکومت کے مقابلے میں طالبان کی جانب سے زیادہ فوائد اٹھائے جانے کا خطرہ ہے۔ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن کا ماننا ہے کہ مشروط سوچ پر گزشتہ دو دہائیوں سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور اگر اس پر عمل جاری رکھا گیا تو ہم ہمیشہ کےلیے افغانستان میں ہی رہ جائیں گے لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ امریکا اپنی ترجیحات کو تبدیل کرے۔ امریکی انخلا کی خبر سے چند گھنٹے قبل ہی امریکی خفیہ اداروں نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا افغانستان سے مکمل طور پر انخلا کی پالیسی پر عمل کرتا ہے تو طالبان کے خلاف افغان حکومت کی بقا خطرات سے دوچار ہو جائے گی۔ سابق امریکی صدر کا بھی امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے گزشتہ سال 20 فروری کو طالبان کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت یہ طے کیا گیا تھا کہ مئی 2021 تک افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا ہو جائے گا۔ اس معاہدے کے بدلے میں طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ القاعدہ یا کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی حمایت نہیں کریں گے۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ انخلا کا یہ عمل مئی کے مہینے میں شروع ہو گا اور اس سلسلے میں التوا سفری ساز و سامان کی وجہ سے ہو گا اور ممکنہ طور پر یہ عمل بھی 11 ستمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے طالبان کو خبردار کیا کہ اگر اس عمل کے دوران ان پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم طالبان کو باور کرا چکے ہیں کہ وہ انخلا کے عمل کے دوران امریکا یا اس کے اتحادیوں پر حملے کا نہ سوچیں کیوں کہ بصورت دیگر امریکا بھرپور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ادھر امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے منگل کو جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان پراعتماد ہیں کہ وہ فوجی فتح حاصل کر لیں گے۔ اس سلسلے میں کہا گیا کہ افغان فورسز نے اہم شہروں اور سرکاری اداروں کے تحفظ کا عمل جاری رکھا ہوا ہے لیکن وہ محض دفاعی حد تک ایسا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور انہیں پہلے سے قبضے میں موجود علاقوں کو چھڑانے اور ان پر اپنی رٹ برقرار رکھنے میں چیلنج کا سامنا ہے۔ امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے افغانستان کے عوام پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور انہوں نے طالبان کے واپس اقتدار میں آنے کے خطرے کا اظہار کیا ہے۔
بعض تجزیہ کار اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد مقامی شہریوں کو اس کے بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے مشاورتی بورڈ کے سابق رکن مائیکل اوہانلن نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان مشرقِ وسطیٰ کے ملک شام کی طرح بن سکتا ہے جو دہشت گردوں کی مضبوط آماجگاہ ہے جہاں لاکھوں لوگ مر چکے ہیں اور لاکھوں مہاجرین ہیں۔
پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ فوجی انخلا کے بعد کی صورتِ حال سے متعلق اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ کابل حکومت اور افغان عوام کی مدد جاری رکھے گا یا نہیں۔ ان کے بقول طالبان نے امن کے لیے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی اور دوحہ امن عمل نے اس بات کو تقویت بخشی ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلا کا خواہش مند ہے جس چیز نے افغانستان کے مستقبل سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
دوسری جانب ترکی کی حکومت نے افغانستان سے متعلق 10 روزہ امن کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے جس میں افغان تنازع کے فریقین اور دیگر ملکوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والی امن کانفرنس 24 اپریل سے چار مئی تک جاری رہے گی۔کانفرنس کے مشترکہ منتظمین ترکی، قطر اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کانفرنس کے منتظمین ایک آزاد، خودمختار اور متحد افغانستان کی مدد کے لیے پُر عزم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button