بائیڈن کے الزام نے عمران کا امپورٹڈ حکومت کا بیانیہ اڑا دیا

امریکی صدر جو بائیڈن کے حالیہ پاکستان مخالف بیان نے عمران خان کے اس الزام کی نفی کر دی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت امریکی سازش کے نتیجے میں گرائی گئی جس کا مقصد پی ڈی ایم کی امپورٹڈ حکومت کو اقتدار میں لانا تھا۔ سیاسی تجزیہ کار امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دینے کے حیران کن بیان کو عمران خان کی جانب سے ایک خط کی بنیاد پر چلائی گئی امریکہ مخالف مہم کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی ذاتی سیاست چمکانے کے لیے عمران ملکی سلامتی کو بھی زک پہنچانے سے نہیں چوکتے اور یہ بات حالیہ ہفتوں میں انکی لیک ہونے والی آڈیو ریکارڈنگز سے بھی ثابت ہو گئی ہے۔ ان آڈیو ریکارڈنگز سے ثابت ہو گیا تھا کہ عمران خان نے اپنی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا بیانیہ صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے گھڑا تھا اور ان کے اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔
بیشتر سیاسی تجزیہ نگار متنق ہیں کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب کرنے میں جتنا کردار عمران خان نے خود ادا کیا ہے اتنا کسی اور سیاسی جماعت کے رہنما نے نہیں کیا۔ لیکن ایک بے بنیاد سفارتی خط کو وجہ بنا کر امریکہ کو سرعام سازشی ملک قرار دینے کا بیانیہ اب پاکستان کر بھگتنا پڑ رہا ہے اور اسکے نیوکلیئر پروگرام کو امریکی صدر کی جانب سے غیر محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔
دوسری جانب بائیڈن کے پاکستانی ایٹمی اثاثوں بارے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے فرمایا ہے کہ بائیڈن کا موقف ‘امپورٹڈ حکومت’ کی خارجہ پالیسی اور ان دعوؤں کی ناکامی کا اظہار ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو از سر نو استوار کر رہا ہے۔ عمران کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے نااہلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور انکی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ موجودہ حکومت ہمیں معاشی تباہی کی طرف لے جانے اور این آر او ٹو کے ذریعے وائٹ کالر مجرموں کو ملک کو لوٹنے کا لائسنس دینے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی پر بھی سمجھوتہ کر لے گی۔ یعنی بائیڈن نے جن خدشات کا اظہار کیا ہے عمران انہیں مزید ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں کہ جب پاکستان اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر مشکلات میں گھرا ہوا ہے، ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کی جانب سے اس قسم کے ردعمل پر کئی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لوگ پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ عمران کی سوچ میں کب پختگی آئے گی، کب انہیں احساس ہوگا کہ وہ قومی سطح کے رہنما ہیں اور یہ بھی کہ انہیں کب اس بات کا ادراک ہوگا کہ بطور سیاسی رہنما کے ان پر کس قسم کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہیں یہ کون سمجھائے گا کہ کب کتنی بات کرنی ہے اور کب کون سی بات نہیں کرنی؟ انہیں کب اس بات کی سمجھ آئے گی کہ ملکی مفاد کے لیے ذاتی اختلافات کو قومی سلامتی پر فوقیت نہیں دی جاتی۔
بیش تر سیاسی تجزیہ نگار متنق ہیں کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب کرنے میں جتنا کردار عمران خان نے خود ادا کیا ہے اتنا کسی اور سیاسی جماعت کے رہنما نے نہیں کیا۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ ایک بے بنیاد سفارتی خط کو وجہ بنا کر امریکہ کو سرعام سازشی ملک قرار دینے کا بیانیہ کس نے گھڑا تھا؟ آڈیو لیکس نے جس سازش کا پردہ فاش کیا ہے وہ کس ملک کے خلاف تیار کی جا رہی تھی اور عمران خان اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ساتھ کون سا کھیل کھیلنے کی منصوبے بندیاں بنا رہے تھے؟ تجزیہ کاروں کے بقول عمران خان کے جہاں اور بہت سے مسائل ہیں وہیں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی یادداشت بہت کمزور ہے اور اس سے بھی برا حال ان کے فالوورز کا ہے۔ عمران کے حمایتی ان سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھ رہے کہ پاکستان کے بارے میں امریکہ کی رائے میں اس قدر نمایاں تبدیلی کس وجہ سے آئی ہے۔ جب سے عمران اقتدار سے الگ ہوئے ہیں، حکومت پاکستان کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں کہ کسی طریقے سے امریکہ کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے جائیں۔ سویلین حکومت کے علاوہ پاکستانی فوج بھی عمران کا پھیلایا ہوا گند سمیٹنے میں مصروف ہے۔ جس نہج پر حالات آج پہنچے ہیں، یہ کسی اور نے نہیں عمران نے خود ہی پہنچائے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا پاکستان مخالف بیان دراصل عمران کے اس بیانیے کی نفی کرتا ہے کہ امریکہ نے پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر سازش تیار کی اور عمران خان کی حکومت کو ختم کیا۔ اگر امریکہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ ہوتا اور اسے صرف عمران سے مسئلہ ہوتا تو اب جبکہ پاکستان میں اتحادی جماعتوں کی حکومت ہے، امریکی صدر پاکستان کے بارے میں ایسا بیان کیوں جاری کرتے؟ انہیں یہ بیان تو تب جاری کرنا چاہئے تھا جب عمران وزیراعظم تھے۔ ویسے بھی صدر بائیڈن کے بیان نے حکومت کو نقصان اور عمران خان کو فائدہ پہنچایا ہے۔
یاد رہے کہ صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ پاکستان شاید دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے جس کے پاس موجود جوہری ہتھیار غیر منظم ہیں۔ اس سے پہلے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایک عرصے تک امریکہ کا اہم شراکت دار رہنے والے پاکستان کا امریکہ کی نیشنل سکیورٹی سٹریٹیجی 2022 کی رپورٹ میں کوئی تذکرہ تک نہیں کیا گیا جبکہ 2021 کے سٹریٹجی پیپر میں بھی پاکستان کا نام موجود نہیں تھا۔ یعنی امریکی انتظامیہ کی جو پالیسی پاکستان کے حوالے سے عمران خان دور میں تھی وہی اب بھی برقرار ہے۔ لہذا ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت گرانے کے حوالے سے امریکہ پر الزام لگانے اور پی ڈی ایم کی امپورٹڈ حکومت لانے کا الزام سراسر جھوٹ ہے۔
