باجوہ خاندان ڈیٹا لیکیج: ایس ای سی پی کے افسران مشکل میں


سینئر صحافی احمد نورانی کی جانب سے چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائیرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے بیرون ملک اربوں کے اثاثوں کی خبر بریک ہونے کے بعد سے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان مسلسل خبروں کی زد میں ہے اور باجوہ خاندان کی کمپنیوں کا ڈیٹا لیک کرنے کے شبہ میں پورا محکمہ اکھاڑ پچھاڑ کا شکار ہے۔
یاد رہے کے احمد نورانی نے فیکٹ فوکس میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ دعوی کیا تھا کہ 4 غیر ممالک میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کی ملکیتی کمپنیوں کے 100 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے موجود ہیں۔ احمد نورانی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے اس خبر کے حوالے سے عاصم باجوہ کا موقف لینے کی کوشش کی تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔ لیکن بڑی عید والے دن ملک گیر چھٹی کے روز ایس ای سی پی کے اسلام آباد دفاتر کو کھلوا کر باجوہ خاندان کی کمپنیوں کے ڈیٹا میں ردوبدل کر دیا گیا۔ چنانچہ اس خبر کی اشاعت کے بعد ایس پی سی پی کے ڈیٹا میں ردوبدل کرنے والوں کے خلاف تو کوئی انکوائری نہ ہوئی لیکن ان لوگوں کی تلاش شروع کر دی گئیں جنہوں نے باجوہ خاندان کی کمپنیوں کے بارے میں انفارمیشن میڈیا کو لیک کی۔
چنانچہ سب سے پہلے باجوہ خاندان کی کمپنیوں کا ڈیٹا لیک کرنے کے الزام میں ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کو اغوا کیا گیا جسے چار روز بعد رہائی ملی۔پھر ایس ای سی پی کی مارکیٹ سرویلنس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ارسلان ظفر کا لیپ ٹاپ ضبط کرکے انہیں جبری رخصت پر بھیج دیا گیا اور اب عاصم باجوہ کے اہلِ خانہ کا ڈیٹا لیک کرنے کے الزام پر ایس ای سی پی کے 8 افسران کو شو کاز نوٹس اور 2 ملازمین کو انتباہی نوٹس جاری کر دیے گے ہیں۔
ایس ای سی پی پالیسی بورڈ نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے باجوہ خاندان کے اثاثوں بارے حساس معلومات کی چوری سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی رپورٹ ایس ای سی پی کمشنر سعدیہ خان کی سربراہی میں تیار کی۔ اس رپورٹ کی روشنی میں آٹھ افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ دو کو انتباہی نوٹس دیے گئے ہیں۔
کمیٹی 28 اگست کو ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے بیرون ملک اثاثوں سے متعلق خبر شائع ہونے کے ایک روز بعد تشکیل دی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹیز ایکسچینج کمیشن کے اجلاس سے منظوری کے بعد انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کو سیل بند لفافے میں وزیر اعظم سیکریٹریٹ کو بھیجا گیا ہے جس میں ایس ای سی پی پالیسی بورڈ کے چیئرمین مسعود نقوی نے سفارش کی یے کہ اس رپورٹ کو عام کیا جائے اور عاصم باجوہ خاندان کی ملکیتی کمپنیوں کی معلومات لیک کرنے کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کے مطابق غیر سرکاری عہدیداروں کی معلومات کا رساو یا چوری ایک مجرمانہ جرم تھا۔
ایس ای سی پی کی انکوائری رپورٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق محکمہ آئی ٹی نے اطلاع دی تھی کہ مارکیٹ سرویلنس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ارسلان ظفر ایس ای سی پی کی ڈیٹا بیس میں غیر متعلقہ طور پر لاگ ان ہوئے تھے۔ محکمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی نگرانی اور اس کا پتہ لگائے۔ مارکیٹ سرویلنس ڈیپارٹمنٹ نے نادرا ڈیٹا تک بھی رسائی کی اجازت دی ہے اور آئی ٹی ڈپارٹمنٹ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ارسلان ظفر نے نادرا کے اعداد و شمار پر بھی لاگ ان کیا اور معلومات کو جمع کیا جس میں ریٹائرڈ جنرل عاصم باجوہ کے کنبہ کے ممبروں کے سی این آئی سی نمبر بھی شامل تھے۔ ارسلان ظفر کا لیپ ٹاپ ضبط کرلیا گیا ہے اور انہیں جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔
اب چیئرمین ایس ای سی پی عامر خان نے وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کیا ہے کو بتایا ہے کہ انکوائری کے بعد ایس ای سی پی کمشنر سعدیہ خان کی سربراہی میں قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر 8 افسران کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں جبکہ دو کو انتباہی نوٹس دیے گئے ہیں۔ عامر خان نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ایس ای سی پی کمیشن کی جانب سے ان افراد کے خلاف کہ جنہیں اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کیے گئے کیس کی سماعت کے بعد مکمل رپورٹ باضابطہ طور پر جمع کروائی جائے گی۔ ایس ای سی پی کے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جن 8 ملازمین کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری ہوئے ان میں ایڈیشنل ڈائریکٹر برائے مارکیٹ سرویلنس ڈیپارٹمنٹ ارسلان ظفر بھی شامل ہیں جنہیں پہلے ہی جبری رخصت پر بھیجا جا چکا ہے۔ باقی افسران میں آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر زاہد حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی حسین سروش، اسسٹنٹ جوائنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی محمد سہیل، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی آئی حماد احمد، اسسٹنٹ جوائنٹ ڈائریکٹر صادق شاہ، کمپنیز رجسٹر افسران ابیل علی عابد، اے جے ڈی، سی آر او اور سید جمال زیدی، اے جے ڈی، سی آر او شامل ہیں۔
تاہم حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ مقام افسوس ہے کہ حکومت نے عیدالاضحیٰ کے روز چھٹی والے دن سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے دفاتر کو کھلوا کر عاصم سلیم باجوہ خاندان کی ملکیتی کمپنیوں کے ویب ڈیٹا میں ہیر پھیر کرنے کے الزامات کی انکوائری کروانے کی بجائے ایس ای سی ہی کے کمزورسرکاری افسران کے خلاف ایکشن لیا ہے۔ اس سے پہلے جب عاصم باجوہ نے اپنے خاندان کے اثاثوں کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا تو اسے عمران خان نے مسترد کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button