بارڈر پار سے حملے کرنے والی TTP کیخلاف آخری حد تک جانے کا فیصلہ

پاکستان کی جانب سے افغانستان میں چند روز قبل کی گئی سرجیکل سٹرائیک سے پہلے ٹی ٹی پی کے کارندے وہاں آزادی سے گھومتے پھرتے تھے انھوں نے وہاں اپنے کیمپ بھی بنا رکھے تھے۔ لیکن اس سرجیکل اسٹرائیک کے بعد ان کے اندر خوف پیدا ہوگیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے ذرایع بتا رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے لوگوں نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ وہ اب افغانستان کے اندر مکمل محفوظ نہیں اور وہ کسی بھی وقت نشانہ بن سکتے ہیں۔ وہ انڈر گراؤنڈ ہونے لگے ہیں مگر یہ کام ابھی ادھورا ہے۔ اب جب پاکستان نے ٹی ٹی پی کے لوگوں کو افغانستان کے اندر نشانہ بنانا شروع کیا ہے تو اسے جاری رکھنا ہوگا اور یہی درست پالیسی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروری نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے قیام کے بعد پہلی دفعہ ٹی ٹی پی کو افغانستان کے اندر ٹارگٹ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کی ان سرجیکل اسٹرائیک میں ٹی ٹی پی کا ایک اہم کمانڈر مارا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ٹی ٹی پی کو بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ ویسے تو طالبان کی جانب سے اس حملے کے بعد کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن پھر بھی دونوں ممالک کے درمیان تناؤ موجود ہے۔ طالبان کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان ان کے علاقے کےاندر گھس کر ٹی ٹی پی کو مارنے کا فیصلہ کر لے گا۔ اس سے پہلے جب ایران نے پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کرنے کی کوشش کی تھی تب بھی پاکستان نے پہلے ایرانی سفیر واپس بھیجا تھا۔ سفارتی سطح پر احتجاج کیا گیا لیکن جب ایران نے معافی نہیں مانگی بلکہ اپنی سرجیکل اسٹرائیک کو جائز قرار دینے کی کوشش کی تو پاکستان نے جوابی اسٹرائیک کی جو زیادہ بہتر اور موثر تھی۔ پاکستان کی جوابی اسٹرائیک واضح پیغام تھا کہ پاکستان نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔


مزمل سہروری بتاتے ہیں کہ پاکستان کی اسٹرائیک کے بعد ایران نے صلح کے پیغامات بھیجنے شروع کر دیے اور تناؤ کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پاکستان کا ایک ہی جواب ایران کے لیے یہ سمجھنے کے لیے کافی تھا کہ پاکستان سخت جواب دینے پر یقین رکھتا ہے۔ اسی لیے ایران نے نہ صرف سفیروں کی واپسی کی خواہش کا اظہار کیا بلکہ ایرانی وزیر خارجہ تناؤ ختم کرنے کے لیے پاکستان آئے۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ پاکستان سے کوئی ایران نہیں گیا۔ پاکستان کو ایران سے ایک عرصہ سے شکایت رہی ہے کہ بلوچستان میں عسکری گروپوں کے لوگوں نے ایران میں پناہ لی ہوئی ہے اور بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے ایرانی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان کی سرجیکل اسٹرائیک میں ایسے ہی عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔ اور ایرانی حکام نے خود تسلیم کیا کہ پاکستان کی سرجیکل اسٹرائیک میں کوئی ایرانی شہری نہیں مارا گیا بلکہ مرنے والے پاکستانی ہی تھے بلکہ ایرانی حکام یہ کہنے پر بھی مجبور ہوئے کہ ایران تحقیقات کرے گا کہ اس کی سرزمین پر یہ دہشت گرد کیسے موجود تھے۔


مزمل سہروری کہتے ہیں کہ افغانستان کے معاملہ میں اب دو منظر نامے ہی ممکن ہیں۔ پہلا یہ کہ طالبان پاکستان کی اس سرجیکل اسٹرائیک کو افغانستان پر حملہ قرار دیکر باقاعدہ لڑائی شروع کر دیں۔ لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ باقاعدہ جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ وہ ٹی ٹی پی کے ذریعے دہشت گردی کرارا جواب دے سکتی ہے لیکن افغان طالبان باقاعدہ جنگ نہیں لڑ سکتے۔ اس لیے میں افغان طالبان حکومت۔۔۔ پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی تو بڑھا سکتی ھے لیکن جنگ سے دور رہنے کی کوشش کرے گے۔ پاکستان کے ساتھ جنگ ان کے مفاد میں نہیں۔ لیکن ایسا بھی نظر نہیں آتا کہ پاکستان کی سرجیکل اسٹرائیک کے بعد افغان طالبان ٹی ٹی پی کو افغانستان سے نکال دیں گے۔ ایسے بھی کوئی اشارے نہیں ہیں کہ افغان طالبان نے پاکستان کی اسٹرائیک کے بعد ٹی ٹی پی کو افغانستان چھوڑنے کے لیے کہہ دیا ہوگا۔ ایسے بھی اشارے نہیں ہیں کہ ان کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کا کوئی حکم دیا گیا ہوگا۔ ایسے بھی کوئی اشارے نہیں ہیں کہ ٹی ٹی پی کو پاکستان میں کارروائیاں بند کرنے کا کوئی حکم دیا گیا ہو ۔ ایک خاموشی ہے جو یہ پیغام دے رہی ہے کہ طالبان ۔۔ معاملات جیسے ہیں ویسے ہی چلانا چاہتے ہیں۔ وہ جنگ بھی نہیں چاہتے لیکن ٹی ٹی پی کو کنٹرول بھی نہیں کرنا چاہتے۔


مزمل سہروری کے مطابق کامیاب اسٹرائیک کے بعد پاکستان کے لیے ٹی ٹی پی کا مسئلہ مکمل حل نہیں ہوا۔ بلکہ مسئلہ اپنی جگہ قائم ہے۔ اگر پاکستان دوبارہ اسٹرائیک کرتا ہے تو طالبان کے لیے اندرونی طور پر مسائل بڑھیں گے۔ جو لوگ پاکستان کے ساتھ تعلقات نارمل رکھنے کے حامی ہیں وہ مضبوط ہوں گے اور جو خراب تعلقات کے حامی ہیں وہ کمزور ہوں گے۔ اس لیے افغان طالبان کی یہ کوشش ضرور ہوگی کہ دوبارہ اسٹرائیک نہ ہو۔ دوبارہ اسٹرائیک ان کے لیے اندرونی طور پر بہت خطرناک ہوگی۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ اب بیک چینل پر پاک افغان بات چیت سے مسائل حل ہوں گے۔ اسی طرح ٹی ٹی پی بھی پریشان ہوگی۔ پہلے وہ افغانستان میں خود کو بہت محفوظ سمجھتے لیکن سرجیکل اسٹرائیک کے وہ انڈر گراؤنڈ ہونے لگے ہیں۔ وہ خود اپنی سیکیورٹی کے لیے پریشان ہو گئے ہیں۔ اس لیے ایسا بھی نہیں ہے کہ کچھ نہیں ہوا۔

Back to top button