بالآخر ملک ریاض کے خلاف بھی کرپشن ریفرنس دائر

قومی احتساب بیورو نے ہر حکومت کے ساتھ سیٹ ہو جانے والے پاکستان کے طاقتور ترین پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف کراچی کے علاقے کلفٹن میں پاکستان کی سب سے بلند عمارت بحریہ آئیکون ٹاور کے لیے رفاہی پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ کروانے پر ایک ریفرنس دائر کردیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ملک ریاض اس ریفرنس میں سے کتنے ہفتوں یا مہینوں میں نکلتے ہیں۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ کیا متعلقہ ادارے اپنی رٹ قائم کرتے ہوئے کراچی میں تعمیر شدہ اس بلند وبالا عمارت کو مسمار کرواتے ہیں یا ہمیشہ کی طرح ملک ریاض فائلوں کے نیچے پہیے لگا کر ان سے معاملہ حل کروا لیں گے۔
یہ پہلا کرپشن ریفرنس ہے جس میں بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین کو نامزد کیا گیا، ان کے ساتھ نیب نے ان کے داماد زین ملک کو بھی ملزم ٹھہرایا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ ریفرنس سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس کا ہی ایک حصہ ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف تحقیقات کی سطح پر ہی پریس ریلیز جاری کرنے میں پھرتی دکھانے والے نیب نے اس مرتبہ نہ تو کوئی بیان دیا اور نہ ہی ریفرنس کی تفصیلات کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا ہے۔ احتساب عدالت کے رجسٹرار کے پاس فائل کردہ ریفرنس میں کہا گیا کہ باغ ابنِ قاسم سے متصل جس رفاہی پلاٹ پر بحریہ ٹاؤن نے آئیکون ٹاور تعمیر کیا ہے اسے غیر قانونی طور پر الاٹ کر کے قومی خزانے کو ایک کھرب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔اسکروٹنی کے بعد رجسٹرار آفس مذکورہ ریفرنس احتساب عدالت کے انتظامی جج محمد بشیر کو بھجوائے گا۔
ملک ریاض اور ان کے داماد زین ملک کے علاوہ ریفرنس میں نامزد ملزمان میں پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر یوسف بلوچ، وزیراعلیٰ سندھ کے سابق مشیر ڈاکٹر ڈنشا انکل سریا، سابق چیف سیکریٹری سندھ عبدالسبحان میمن، سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس لیاقت قائم خانی، وقاص رفعت، غلام عارف، خواجہ شفیق، جمیل بلوچ، افضل عزیز، سید محمد شاہ، خرم عارف، عبدالکریم پلیجو، خواجہ بدیع الزمان اور دیگر شامل ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں سندھ ورکس اینڈ سروسز کے سابق سیکریٹری سجاد عباسی کو آئیکون ٹاور کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا جو بعد میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔عدالت میں دیے گئے بیان میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ جب ایگزیکٹو ڈسٹرک آفیسر ریونیو تعینات تھے اس وقت انہوں نے یہ رفاہی پلاٹ ڈاکٹر ڈشنا انکل سریا کو فروخت کیا تھا، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر ڈشنا انکل سریا نے یہ پلاٹ ملک ریاض کو فروخت کیا جنہوں نے اس پر بحریہ آئیکون ٹاور کی تعمیر کی۔
خیال رہے کہ یہ بلند و بالا عمارت کراچی میں بحیرہ عرب کے ساحل کے نزدیک واقع ہے جس کی 62 منزلیں ہیں جس میں سے 40 منزلیں مختلف استعمال کی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button