نیب کی حکومت پر ایک اور عنایت، زلفی بخاری کےخلاف تحقیقات بند

قومی احتساب بیورو(نیب) کے ایگزیکٹوبورڈ نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری کیخلاف تحقیقات بند کرنے کی منظوری دے دی۔
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا۔ ذلفی بخاری کی نیب میں پیشی، آف شورکمپنیوں سے متعلق پوچھ گچھ ہوئی۔ اجلاس کے بعد جاری نیب اعلانیےمیں کہا گیا ہے کہ معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل زلفی بخاری کے خلاف انکوائری بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
نیب اعلامیے کے مطابق انکوائری بند کرنے کی منظوری عدم شواہد کی بنیاد پر دی گئی۔ اجلاس سے خطاب میں چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کا ایمان، کرپشن فری پاکستان ہے، میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔
واضح رہےکہ زلفی بخاری کا نام آف شورکمپنیوں کے باعث پاناما لیکس میں بھی آیا تھا جس بناء پرنیب میں ان کے خلاف تحقیقات جاری تھیں اوراس سلسلے میں وہ کئی بار نیب میں پیش بھی ہوچکے ہیں۔ نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ زلفی بخاری کی برٹش ورجن آئی لینڈز میں غیرقانونی آف شورکمپنیاں ہیں اوراس حوالے سے چیئرمین نیب نے 15 جون 2019 کو ان کیخلاف باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دی تھی۔
تاہم اب ایک سال بعد نیب نے یہ کہہ کر زلفی بخاری کیخلاف انکوائری بند کردی ہے کہ انہیں اس معاملے میں ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ یاد رہےکہ 23 دسمبر2018 کو اپنے ایک بیان میں زلفی بخاری نے کہا تھا کہ ان کیخلاف نیب تحقیقات جلد ختم ہوجائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button