بجٹ سے اصل ریلیف عوام کو ملے گا یا صنعتکاروں کو؟

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نو جون کے روز قومی اسمبلی میں مالی سال دو ہزار تیئیس چوبیس کے لیے بجٹ پیش کر دیا۔ کئی سیاسی اور سماجی حلقے نئے بجٹ کی تعریف کر رہے ہیں جب کہ کئی حلقے اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔اسحاق ڈار نے 14.5 ٹریلین روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا، جس میں اگلے مالی سال کے دوران معاشی نمو کی شرح 3.5 فیصد رہنے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ شرح آئی ایم ایف کے تخمینوں سے زیادہ ہے۔پاکستان سخت ترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے میں اس طرح کا بجٹ پیش کرنا آسان نہیں تھا۔ حکومت کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 13 ہزار 320 بلین روپے لگایا گیا ہے۔ قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے سات ہزار 303 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔

نئے وفاقی بجٹ کو ملکی صنعت کاروں کی طرف سے کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ ان کے خیال میں ملک کی مجموعی معاشی صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت نے اچھا بجٹ پیش کیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر اور معروف صنعتکار احمد چنائے نے اس حوالے سے بتایا، ”میرے خیال میں وزیر خزانہ نے اچھا بجٹ پیش کیا ہے، محصولات کا ہدف معقول ہے جبکہ تعلیم کے لیے 80 بلین روپے اور صحت کے لیے 22 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔ قرضوں پر سود ادا کرنے کے بعد ہمارے پاس کم رقوم رہ جائیں گی لیکن مجھے امید ہے کہ ادائیگیوں کا توازن نہیں بگڑے گا۔‘‘

احمد چنائے کا کہنا تھا کہ پاکستان کا امپورٹ بل ایکسپورٹ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ملنے والی رقوم کے بعد بہت زیادہ نہیں بڑھے گا۔بجٹ میں زراعت کے لیے قرضے 1.8 ٹریلین روپے سے بڑھا کر دو ٹریلین روپے سے بھی زیادہ کر دیے گئے ہیں، جس پر زرعی شبعے سے وابستہ افراد بھی خوش ہیں۔پاکپتن سے تعلق رکھنے والے ماہر زراعت عمر حیات بھنڈارا کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ زرعی شعبے کے لیے بہت مثبت ثابت ہو سکتا ہے، اگر صوبائی حکومتیں بھی اس حوالے سے اقدامات کریں تواس سے زرعی شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایاکہ ”اس طرح کے اشارے دیے گئے ہیں کہ حکومت بیجوں کی درآمد پر سبسڈی دے گی۔ اگر ہائبرڈ بیج پر سبسڈی دی جاتی ہے، تو اس سے زراعت کے شعبے کو بہت ترقی مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نے دیہی ترقی کے حوالے سے بھی کارخانے لگانے کی بات کی ہے۔ اس سے عام کارکن ہنر مند بنیں گے اور ان کو روزگار ملے گا۔‘‘

عامر حیات بھنڈارا کے مطابق اگر اس بجٹ میں بے روزگار نوجوانوں کے لیے قرضے آسان شرائط پر یقینی بنائے جائیں، تو اس سے بھی زراعت کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ ”لاکھوں کی تعداد میں نوجوان دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اور وہاں زیادہ تر زمین ان کے والدین کے نام پر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں بینک قرضے نہیں دیتے۔ اس حوالے سے حکومت نے قرضوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ سہولت ان نوجوانوں تک بھی بڑھائی جائے اور قرضوں کی شرائط مناسب رکھی جائیں، تو زراعت میں بہت زیادہ بہتری آ سکتی ہے۔‘‘

بجٹ سےجہاں ایک طرف پنشن میں ساڑھے 17 فیصد اضافہ کیا گیا ہے وہیں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک اضافے کی نوید سنائی گئی ہے تاہم اس کے باوجود کئی نا شکرے سرکاری ملازمین اس بجٹ سے خوش نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے اور اس میں 200 سے 300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، لیکن سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔

سینیئر اسٹاف ایسوسی ایشن پنجاب کے سرپرست اعلیٰ حافظ ناصر نے اس حوالے سے بتایا، ”ہم امید کر رہے تھے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا لیکن ہمیں مایوسی ہوئی ہے کیونکہ مہنگائی 200 فیصد سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگر حکومت بجٹ میں تنخواہیں زیادہ نہیں بڑھا سکتی، تو مہنگائی میں اتنی کمی تو کرے کہ عام آدمی اور سرکاری ملازمین ان تنخواہوں میں گ‍زر بسر تو کر سکیں۔‘‘حافظ ناصر کا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں موجودہ اضافے کے بعد حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے کرپشن کے دروازے خود ہی کھول دیے ہیں، ”سیدھی سی بات ہے۔ جب آپ کی گزر بسر نہیں ہو سکے کی، تو آپ اپنی ضروریات پورا کرنے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی بڑھے گی۔‘‘

Back to top button