بختاورکی منگنی: بھٹوخاندان میں کئی دہائیوں بعد خوشی کا دن

سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کی منگنی ہوگئی۔بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کی تقریب بلاول ہاؤس کراچی میں منعقد ہوئی اور اس موقع پر کورونا وائرس سے متعلق سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔کرونا وائرس کی وبا کے باعث منگنی کی تقریب مختصر پیمانے پر منعقد کی گئی اور مہمانوں کی محدود تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔تقریب میں بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض، فاروق ایچ نائیک نے اہلخانہ کے ہمراہ اور آصف علی زرداری کے دوست انور مجید نے بھی شرکت کی۔

علاوہ ازیں بختاور بھٹو کے منگیتر محمود چوہدری بھی اہلخانہ اور قریبی دوستوں کے ہمراہ بلاول ہاؤس پہنچے جس کے بعد منگنی کی رسم ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائی۔بختاور کے والد آصف علی زرداری اس وقت نیب کیسز میں ضمانت پر ہسپتال میں زیر علاج ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر کی اجازت کے بعد 2 گھنٹے کے لیے بیٹی کی منگنی میں شرکت کی۔علاوہ ازیں بختاور کے بھائی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ایک دن قبل ہی کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور وہ اس وقت آئسولیشن میں ہیں اور انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے منگنی میں شرکت کی۔بینظیر بھٹو کی صاحبزادی کی منگنی کی تقریب میں بختاور اور آصفہ بھٹو زرداری کی سہیلیوں نے بھی شرکت کی۔تقریب کے معاملات کی خصوصی نگرانی بختاور کی پھوپھو فریال تالپور اور بلاول بھٹو نے خود دیکھے۔

اپنی منگنی سے چند گھنٹے قبل بختاور بھٹو زرداری نے اپنی ایک جذباتی ٹوئٹ میں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کی نئی زندگی کی شروعات پر ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔بختاور بھٹو زرداری نے منگنی کے دن کو اپنی زندگی کا جذباتی دن قرار دیتے ہوئے پی پی کارکنان اور رہنماؤں کو پیغام دیا کہ کرونا کی وبا ختم ہونے کے بعد وہ مل کر خوشیاں منائیں گے۔
Very sentimental & emotional day. So grateful for everyone’s love & prayers. Especially our PPP family whom I know are eager to participate. InshAllah this is only the beginning – will be able to celebrate in a post Covid world. Please keep SMBB and our family in your prayers💗🤗
— Bakhtawar B-Zardari (@BakhtawarBZ) November 27, 2020
بختاور بھٹو زرداری نے لکھا کہ انہیں معلوم ہے کہ پی پی پی کے رہنما و خاندان ان کی منگنی کی تقریب میں شرکت کرنے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے منگنی کو نئے دور کا آغاز قرار دیتے ہوئے پی پی پی کے کارکنان و رہنماؤں کا پیغام دیا کہ جلد ہی وہ مل کر خوشیاں منائیں گے۔زندگی کے اہم ترین دن پر وہ والدہ کو بھی نہ بھول پائیں اور انہوں نے لوگوں سے والدہ اور اپنے اہل خانہ کے لیے دعائیں کرنے کی اپیل بھی کی۔


منگنی کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بختاور بھٹو نے اپنے منگیتر کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ‘Officially Engaged’۔
🙏🤲 #officiallyengaged pic.twitter.com/VcqmW2oNJB
— Bakhtawar B-Zardari (@BakhtawarBZ) November 27, 2020
منگنی کی تقریب میں مہمانوں کی تواضع پاکستانی اور انگریزی کھانوں سے کی گئی، مینیو میں مچھلی، چکن بروسٹ، بریانی اور کوفتے شامل تھے۔ خاندان کے افراد کے علاوہ تقریب میں سو سے ڈيڑھ سو افراد شریک ہوئے۔
خیال رہے کہ آصف علی زرداری نے رواں ماہ 15 نومبر کو تصدیق کی تھی کہ ان کی بڑی صاحبزادی کی منگنی رواں ماہ 27 نومبر کو ہوگی اور ان کی منگنی کے دعوت نامے بھی سامنے آگئے تھے۔محترمہ بینظیر بھٹو کی بڑی بیٹی کی منگنی پاکستانی نژاد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صنعت کار یونس چوہدری کے صاحبزادے محمود چوہدری کے ساتھ ہوئی۔
یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ بختاور بھٹو زرداری اپنی منگنی کے موقع پر والدہ کے نکاح جیسا لباس پہننے کی خواہاں ہیں۔بینظیر بھٹو کے نکاح کے لیے لباس تیار کرنے والے فیشن ہاؤس ‘ریشم رواج’ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق بختاور بھٹو زرداری نے والدہ کے لباس جیسا لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تھی۔بختاور بھٹو زرداری کی منگنی سے قبل ہی گمراہ کن خبریں پھیلنا شروع ہوگئی تھیں اورجعلی تصاویر تصاویر شیئر کرکے انہیں ان کے منگیتر کے طور پر بھی پیش کیا گیا تھا۔علاوہ ازیں بختاور بھٹو کی خفیہ منگنی کی جعلی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تھیں جن پر پاکستان پیپلزپارٹی اور خود بختاور بھٹو نے وضاحتی بیان جاری کرکے تمام تصاویر، ویڈیوز اور خبروں کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔



