بدزبان چوہان کی چھٹی اور کرپٹ آنٹی کی واپسی کی کہانی

2 نومبر کو جب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے اپنے بدزبان وزیر اطلاعات فیاض چوہان کو دوسری مرتبہ اس وزارت سے فارغ کیا تو دنیا کو بھی پتہ چل گیا کہ بونگا چوہان اتنا فارغ تھا کہ اطلاعات کا وزیر ہونے کے باوجود اسکے پاس اپنی فراغت کی اطلاع بھی نہیں تھی۔ یہ بھی پتہ چلا کہ اس کی کابینہ میں حیثیت اتنی ہی تھی کہ اطلاعات کی وزارت سے فارغ کرنے سے پہلے کسی نے اسے اس بارے میں بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا اور موصوف کو اپنی وزارت چھن جانے کا میڈیا کے ذریعے پتا چلا جس پر وہ ہکا بکا رہ گئے۔ اس موقع پر ایک صحافی نے انہیں یہ شعر سنا کر اور بھی شرمندہ کردیا کہ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے۔ یعنی کھلے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس بارے سارے پنڈ کو پتا تھا سوائے فیاض چوہان کے۔
باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فیاض الحسن چوہان کو وزارت اطلاعات سے فارغ کرنے کی منظوری عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان سے لی جنہوں نے انہیں فردوس عاشق اعوان کو پنجاب کی کابینہ میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فردوس عاشق پیری مریدی کنکشن پر عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کی قربت کا دعوی کرتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی حکومت میں واپسی ممکن ہوئی حالانکہ وفاقی وزارت اطلاعات سے برطرفی کے وقت ان پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ماضی میں بونگی آنٹی کی عرفیت سے معروف فردوس عاشق اعوان کو ہٹائے جانے کے وقت سرکاری ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ وزیراعظم عنران خان نے فردوس عاشق کے خلاف شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف انہیں ڈی نوٹیفائی کرتے ہوئےعہدے سے ہٹایا تھا بلکہ ان کے خلاف کرپشن الزامات پر باقاعدہ انکوائری کا حکم بھی جاری کیا تھا۔ 27 اپریل 2020 کو وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی کابینہ سے اچانک رخصتی کے اعلان نے سب کو حیران کر دیا تھا کیونکہ وہ بھی آخری وقت تک فیاض چوہان کی طرح بڑھ چڑھ کر اپوزیشن کے خلاف بدزبانی میں مصروف تھیں اور کابینہ کے دیگر لوگوں کو بتایا کرتی تھیں کہ وہ بشریٰ بی بی کے کتنے قریب ہیں۔ گو کہ فردوس کی فراغت کے وقت تک وزیراعظم کی وفاقی کابینہ میں کئی بار تبدیلیاں ہو چکی تھیں مگر یہ تبدیلی اس لیے مختلف تھی کہ اس میں صرف معاون خصوصی برائے اطلاعات کی چھٹی نہیں ہوئی بلکہ ایک اہم وزارت میں دو بڑے ناموں کی آمد ہوئی تھا جن میں سے اب ایک کرپشن الزامات پر فارغ ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے بڑے عہدے کے لیے سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز اور وزیراعظم کے معاون خصوصی کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کا انتخاب خاصا حیران کن اور غیر متوقع تھا۔ تاہم عاصم سلیم باجوہ 6 ماہ بعد ہی پاپا جونز پیزا سکینڈل کی لپیٹ میں آ کر معاون خصوصی کے عہدے سے فارغ ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ فردوس عاشق نے دوبارہ سے عاصم باجوہ کے خالی کردہ عہدے پر تعیناتی کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور اس حوالے سے بشریٰ بی بی نے ان کی سفارش بھی کر دی تھی لیکن وزیراعظم نے یہی مناسب سمجھا کہ ان کو پنجاب بھیج دیا جائے کیونکہ ان پر کرپشن الزامات تھے جن کی انکوائری کا حکم خود انہوں نے جاری کیا تھا۔
تاہم حکومتی ذرائع یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ فردوس کے خلاف وزارت اطلاعات میں کرپشن کے الزامات پر شروع کی گئی انکوائری کا کیا بنا کیونکہ تب الزامات کی نوعیت ایسی تھی کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو ذاتی طور پر موصوفہ سے استعفی طلب کرنا پڑا اور جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں ڈی نوٹیفائی کردیا گیا۔ یاد رہے کہ فردوس پر ایک بڑا الزام یہ تھا کہ وہ اپنے شہر سیالکوٹ کے حلقے میں جاری ترقیاتی سکیموں میں ٹھیکیداروں سے پچیس فیصد کمیشن وصول کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے میڈیا کے لیے مختص حکومتی اشتہاری بجٹ سے بھی کمیشن کھائی۔ یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی فردوس عاشق اعوان وزارت اطلاعات و نشریات کی وزیر تھی اور انہیں تب بھی کرپشن کے الزامات پر ہٹایا گیا تھا خصوصا جب انہوں نے تب کے پریس انفارمیشن آفیسر اور موجودہ پیمرا چئیرمین محمد سلیم سے رشوت کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے خلاف اپریل 2020 میں وزیر اعظم ہاوس کو پیش کی جانے والی چارج شیٹ کے مطابق بونگی آنٹی نے سرکاری ٹی وی کے کوٹے پر ضرورت سے زائد ملازم بھرتی کیے۔ انہوں نے بغیر منظوری کے 2 سیکیورٹی گارڈز سمیت اپنے ساتھ 9 ملازم رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ فردوس عاشق نے 3 سرکاری گاڑیاں لے رکھی تھیں جس کی ان کو اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ فردوس عاشق پر پی آئی ڈی کے ذریعے اشتہارات کی تقسیم میں کمیشن کھانے کا بھی الزام ہے۔ جب وزیراعظم کو فردوس کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی تو انہوں نے فوراً اسے عہدے سے ہٹاتے ہوئے باقاعدہ انکوائری کا حکم جاری کردیا تھا۔
دوسری طرف سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پنجاب کی کابینہ میں بدزبان چوہان کے ساتھ ہونے والے برے سلوک پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ کئی صارفین نے لکھا کہ ایسا سلوک تو کوئی شخص اپنے پالتو جانور کے ساتھ بھی نہیں کرتا جیسا چوہان کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح سے شام تک اپوزیشن رہنماوں پر ذاتی اور رقیق حملے کرنے والے بد زبان چوہان کو بالآخر رسوائی ہی ملنا تھی سو مل گئی۔
صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جب فردوس عاشق اعوان کو وزیرِ اعظم کی مشیر برائے اطلاعات کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو حکومت نے اُن کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے تھے، اس کے بعد کچھ نہیں ہوا اور اب وہ پنجاب میں ایک طاقتور عہدے پر واپس آ گئی ہیں۔ کئی صارفین کو فیاض الحسن چوہان کے ہٹائے جانے سے زیادہ فردوس عاشق اعوان کے واپس آنے پر زیادہ حیرانی ہوئی۔ ایک صارف عمر فاروق نے لکھا کہ ایک وقفے کے بعد فردوس عاشق دوبارہ حکومت میں واپس آ گئی ہیں، کیا بولر کی یہ ڈیلیوری قانونی ہے؟ انھوں نے مزید لکھا کہ قلمدانوں کی تبدیلی کے اس کھیل کے بعد حکومت کے پاس غریب عوام کے لیے کیا ریلیف ہے؟
ایک صارف نے فیاض الحسن چوہان کی جانب سے اپنی برطرفی کی خبر پر حیرانی کے اظہار کو میر تقی میر کے الفاظ میں بیان کیا کہ جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے۔ صحافی ضرار کھوڑو نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کم از کم بندے کو برطرف کرتے ہوئے بتا ہی دیا جاتا ہے۔ صارف عنایہ خان نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اُن کی جماعت نے رواں سال کے آغاز میں ان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے تھے اور رواں سال انھیں پنجاب میں وزیرِ اطلاعات تعینات کر دیا گیا ہے۔ اور ان تمام تبصروں اور قیاس آرائیوں کے دوران فردوس عاشق اعوان نے اسی نپے تلے انداز میں اپنی نئی تعیناتی پر ٹویٹ کی جس طرح انھوں نے تقریباً نصف سال پہلے اپنے ہٹائے جانے پر کی تھی۔
فردوس نے لکھا کہ وہ نہایت عاجزی کے ساتھ اس انتہائی بڑی ذمہ داری کو قبول کرتی ہیں۔ ‘اگر خدا نے چاہا تو میں حکومتِ پنجاب میں اطلاعات کا منظرنامہ تبدیل کرنے کی پوری کوشش کروں گی۔’ دوسری طرف وزارت اطلاعات سے ایک ہی برس میں دو مرتبہ نکال دیے جانے والے فیاض الحسن چوہان کے زخم بھرنے میں وقت لگے گا۔
