برطانیہ اور کینیڈا کا پاکستانی سیلاب متاثرین کیلئے امداد کا اعلان

پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے دنیا بھر سے امداد کا سلسلہ جاری ہے ،برطانیہ نے پاکستانی سیلاب متاثرین کیلئے 1.5 ملین پائونڈ جبکہ20 ہزار ڈالر امداد اکا اعلان کیا ہے۔
برطانوی ہائی کمیشن سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قدرتی آفت کے مقابلے کے لئے برطانیہ امدادی سرگرمیوں کی مد میں 1.5 ملین پاؤنڈز امداد فراہم کرے گا، پاکستان میں 700,000 گھر تباہ ہو گئے ہیں، مون سون کی شدید بارشوں نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا، ملک کے جنوب میں سیلاب سے کم از کم 900 افراد کی ہلاکت کے بعد برطانیہ پاکستان کو فوری امداد فراہم کر رہا ہے۔
بیان کے مطابق اقوام متحدہ رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان میں آفت کے باعث ضروریات کا جائزہ لے رہا ہے، توقع ہے کہ منگل کو اقوام متحدہ کی (پاکستان کی امداد کے لئے) اپیل شروع کی جائے گی۔
نمائندہ خصوصی برائے برطانوی وزیراعظم لارڈ طارق احمد نے کہا کہ ہم پاکستانی حکام کے ساتھ بھی براہ راست کام کر رہے ہیں، میں امدادی سرگرمیوں میں شامل ہر فرد کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا، ہم اس تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے، اور سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو متاثر کرتی ہے، برطانیہ فوری مدد کے لیے 1.5 ملین پاؤنڈ تک فراہم کر رہا ہے۔
دوسری جانب کینیڈین وزیر برائے بین الاقوامی ترقی ہرجیت سجن نے ایک بیان میں کہا کہ کینیڈا کی حکومت نے پاکستان میں امدادی کارروائیوں کے لیے انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کو 20 ہزار ڈالر مختص کیے ہیں، یہ فنڈز پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پانی، صفائی اور حفظان صحت کی خدمات اور نقد امداد کے لیے استعمال کرے گی۔
کینیڈین وزیر برائے بین الاقوامی ترقی ہرجیت سجن نے کہا کہ ہم صورتحال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ملکی شراکت داروں اور کثیر الجہتی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ دیکھیں کہ کینیڈا پاکستانی عوام کے لیے کیا اضافی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ کینیڈا، اقوام متحدہ کے سنٹرل ایمرجنسی رسپانس فنڈ (سی ای آر ایف) کا بھی عطیہ دہندہ ہے جس نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے 30 لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں۔ یہ فنڈنگ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صحت، غذائیت، خوراک، پانی اور صفائی کے لیے استعمال کی جائے گی۔
کینیڈا وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک بیان میں کہا کہ کینیڈا خوراک، صاف پانی اور دیگر ضروری خدمات جلد از جلد فراہم کرنے کے لیے یو این سی ای آر ایف کے ذریعے مدد فراہم کر رہا ہے، میری طرح ملک بھر کے عوام پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے ہر فرد کے بارے میں فکرمند ہیں۔
کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمشنر ظہیر جنجوعہ نے پاکستان میں انسانی جان کے تحفظ کی کوششوں پر کینیڈین وزیراعظم اور کینیڈین عوام کا شکریہ ادا کیا۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانی جولی نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کی تصاویر دل دہلا دینے والی ہیں، ہمیں صورتحال پر گہری تشویش ہے اور ہم پاکستانی عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔
ہرجیت سجن نے مزید کہا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب نے ہمیں دل شکستہ کر دیا ہے، میرے احساسات اپنے خاندان کو کھو دینے والوں اور ان لاکھوں لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے گھروں کو ان جان لیوا سیلاب میں تباہ ہوتے دیکھا ہے۔
پاکستانی نژاد کینیڈین رکن پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں سیلاب کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے، میرا دل خاص طور پر بچوں کے لیے افسردہ ہے، کینیڈا کو وزیر اعظم شہباز شریف کی مدد کی اپیل کا جواب دینا چاہیے، میں اپنے وزرا سے رابطہ کر رہی ہوں کہ وہ اس ہنگامی صورتحال میں پاکستانی عوام کی مدد کے لیے کینیڈین امداد بھیجیں۔
دریں اثںا وزیراعظم شہباز شریف کو ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور ایران کے صدور کی جانب فون کالز موصول ہوچکی ہیں، ٹیلی فونک رابطے کے دوران ان رہنماؤں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔
قطر چیریٹی نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے تعاون سے سیلاب سے متاثرہ افغان مہاجرین اور بلوچستان میں میزبان کمیونٹی کے پسماندہ افراد کو فوری امدادی امداد فراہم کی ہے، قطر چیریٹی کی جانب سے اس امداد کے تحت نوشکی کے 75 خاندانوں میں 75 خیمے اور ٹرامپولین شیٹس تقسیم کی گئی ہیں جہاں 75 گھرانوں پر مشتمل گاؤں کے تمام گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے، ترک ہلال احمر سوسائٹی (ٹی آر سی ایس)، پاکستان ہلال احمر سوسائٹی (پی آر سی ایس)کے تعاون سے جعفرآباد میں 300 خاندانوں کو 16 ہزار روپے کی نقد امداد اور 300 حفظان صحت کی کٹس، 600 کین اور 1500 مچھر دانیاں فراہم کر رہی ہے۔
مزید برآں 100 خیمے اور ایک ہزار کمبل ہوائی کارگو کے ذریعے امداد کے ساتھ وزارت داخلہ، ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ پریذیڈنسی آف ترکیہ کی جانب سے بھیجے جارہے ہیں۔ اس کےعلاوہ تقریباً 6 ہزار افراد کی تشخیص اور علاج میں مدد کے لیے مفت طبی کیمپوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ’واٹر ایڈ‘ نے سیلاب سے متاثرہ 40 ہزار سے زائد افراد کے لیے ہنگامی امداد کی مد میں ابتدائی طور پر 3 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، اس تنظیم نے بدین، راجن پور، اور سوات کے اضلاع میں اپنے مقامی شراکت داروں کے تعاون سے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے، ان امدادی سرگرمیوں میں پینے کے پانی کے ذرائع کی جراثیم کشی، حفظان صحت کی کٹس کی فراہمی، اسکولوں/کیمپوں میں عارضی بیت الخلا کی تعمیر، سیلاب کی نکاسی اور ذاتی حفظان صحت سے متعلق آگاہی شامل ہے۔
پاکستان میں ’کیئر انٹرنیشنل‘ اور اس کے شراکت دار سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کر رہے ہیں جن میں خیمے، ترپالیں، ایمرجنسی لیٹرین کٹس اور ماہواری سے جڑے حفظان صحت کے سامان سمیت روزمرہ کی ضروریات اشیا شامل ہیں، تنظیم کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ہماری اولین ترجیح خواتین، بچوں اور خصوصی ضروریات والے لوگوں کی مدد کرنا ہے،بہت سے لوگوں نے سب کچھ کھو دیا ہے اور انہیں اب ہماری اجتماعی مدد کی ضرورت ہے۔
