برطانیہ میں الطاف حسین پر 15 لاکھ پاؤنڈ ٹیکس عائد

برطانیہ میں موجود ایم کیو ایم کے سربراہ کی مشکلات کم ہوتی نظر نہیں آتیں۔ پارٹی قیادت اور اثاثہ جات چھن جانے کے بعد اب برطانیہ کی ایک کاؤنٹی عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کے موجودہ اور سابق سینئر رہنماؤں بشمول الطاف حسین اور طارق میرکے خلاف فیصلہ جاری کرتے ہوئے انہیں تقریباً 15 لاکھ پاؤنڈ یعنی 52 کروڑ11 لاکھ 87 ہزار 423 پاکستانی روپے برطانوی حکومت اور انکم ڈپارٹمنٹ کو ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

سینئر صحافی مرتضی علی شاہ کی ایک رپورٹ کے مطابق فیصلے میں نارتھمپٹن کنٹری کورٹ کے جج نے ایچ ایم آر سی کی طویل عرصے سے زیر سماعت درخواست پر فیصلہ دے دیا ہے ۔ عدالتی فیصلہ الطاف حسین سید طارق میر، افتخار احمد اور محمد کلیم اللہ سید کے خلاف ریونیو اور کسٹم ڈیپارٹمنٹ نے مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔ الطاف حسین اور ان کے دیگر ساتھیوں کیخلاف آنے والے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’’ یہ فیصلہ طارق میر، الطاف حسین، سیدکلیم اللہ کی جانب سے 14 لاکھ 76 ہزار606 برطانوی پاؤنڈ کی مجموعی رقم کی نادہندگی کے حوالے سے ہے۔ان میں سے افتخار حسین، مدعاعلیہ نمبر 2 کے خلاف دعوی ابھی زیرسماعت ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حکم ایک فریق کی درخواست پر بغیر نوٹس کے دیا گیا تھا چنانچہ ایم کیو ایم کے مدعاعلیہان کو حق ہے کہ وہ عدالت میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکیں۔ الطاف حسین اور طارق میر نے کوئی بھی غلط کام کرنے کی تردید کی ہے اور فیصلہ کسی جرم یا قصور کی پاداش میں نہیں بلکہ کئی برس سے زیرسماعت ایک دیوانی مقدمہ ہے۔

واضح رہے کہ تین سال قبل برطانوی حکومت کے ٹیکس ڈپارٹمنٹ ’ ایچ ایم آرسی ‘نے الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کالا دھن سفید کرنے کی تحقیقات کے دوران کہا تھاکہ ٹیکس چوری کی گئی ہے۔اب تقریباً چار برس کی تحقیقات کے بعد اسکاٹ لینڈ یارڈ کو کالادھن سفید کرنےکے کوئی شواہد نہیں ملےاور اس نے الطاف حسین اور دیگر کیخلاف تحقیقات ختم کر دی تھیں لیکن اسی کیس کے دوران تفتیش کاروں نے پتہ چلایا تھا کہ ایم کیو ایم نے پاکستان اور دنیا بھر سے عطیات وصول کیے جنہیں ’ ایچ ایم آرسی‘ آمدن تصور کرتا ہے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکرٹیریٹ میں بہت سے لوگ کام کر رہےتھے جنہیں باقاعدہ ماہانہ بنیادوں پر تنخواہیں دی جاتی تھیں اور چند ایک کی تنخواہیں تو بہت زبردست تھیں۔ یہ کیس ’ پے ایز یو ارن‘(PAYE) کی عدم ادائیگی کے گرد گھومتا ہے ۔

خیال رہے کہ یہ ایک برطانوی نظام ہے جسے کوئی بھی آجر تنخواہ دینے سے پہلے انکم ٹیکس اور نیشنل انشورنس کا حصہ نکالنے کےلیے استعمال کرتا ہے۔ ایچ ایم آر سی کہتا ہے کہ ایم کیو ایم کو اپنے آمدن پر عطیات پر اپنے ذمے ٹیکسز ادا کرنے چاہئیں تھے جو اس نے ادا نہیں کئے۔

Back to top button