کھوسہ اور اعتزاز نے عمرانڈو بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟

پاکستان کی تیزی سے بدلتی سیاسی صورت حال میں تحریک انصاف کے رہنما اور حامی پارٹی سے دوری اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے دو دیرینہ رہنما چوہدری اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ اس وقت عمرانڈانہ چوغا پہن کر باقاعدہ عمران خان کے سب سے بڑے طرف دار بن چکے ہیں۔اس کو طرف داری اس لیے بھی کہا جا سکتا ہے کہ لطیف کھوسہ اب باقاعدہ طور پر عمران خان کے وکیل ہیں۔وہ سپریم کورٹ میں بھی عمران خان کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے کئی مقدمات میں بھی وہ عمران خان کے ذاتی وکیل کی حیثیت سے پیش ہو رہے ہیں۔

پارٹی پالیسیوں سے انخراف پر اگرچہ پیپلز پارٹی نے دونوں رہنماؤں کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم دونوں رہنما اب بھی پیپلز پارٹی کو اپنی پارٹی بتاتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ چوہدری اعتزاز احسن پارٹی پالیسی کے خلاف کھل کر کھڑے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی تحریک میں اعتزاز احسن نے پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں اس تحریک سے اپنے آپ کو علحیدہ نہیں کیا، حتیٰ کہ اپنی پارٹی کے خلاف ہونے والے لانگ مارچ کی قیادت بھی کی۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ماضی میں پنجاب سے پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے نام شاہ محمود قریشی، ندیم افضل چن، عامر ڈوگر، نذر محمد گوندل اور امتیاز صفدر وڑائچ عمرانڈو ہو کر پی ٹی آئی کا حصہ بنے اوراب پیپلز پارٹی کے سابق وزیر داخلہ چوہدری اعتزاز احسن اور سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو نظریاتی جماعت کہلوانے والے باغی جیالوں کی پسندیدہ جماعت تحریک انصاف ہی کیوں ہے؟ صحافی اجمل جامی کہتے ہیں کہ ’اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے مسلم لیگ ن کی حریف جماعت رہی ہے، اس لیے حریف جماعت میں جانے کے بجائے متبادل جماعت کا انتخاب کیا گیا۔‘ ’دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی گذشتہ ایک دہائی میں پنجاب میں کمزور ہوئی ہے تو سیاسی مستقبل کے لیے ن لیگ میں پہلے ہی بڑے بڑے نام تھے تو پی ٹی آئی میں جگہ بنانا آسان تھا۔

سیاسی مبصرین کم و بیش یہی وجوہات بتاتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کی متحرک وکلا کمیونٹی کے رہنما سمجھے جانے والی پیپلز پارٹی کے بڑے ناموں نے اپنے راستے بظاہر پارٹی سے جدا کر لیے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق سیکریٹری جنرل رانا اسد اللہ جنہوں نے وکلا تحریک میں چوہدری اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کے قریب رہ کر تحریک چلائی، کہتے ہیں کہ ’میں نے وکلا کی سیاست میں بڑا عرصہ گزارا ہے۔‘’مجھے ایسے لگتا ہے کہ اس وقت جو صورت حال ہے اس کے پیچھے ذاتی مقاصد ہو سکتے ہیں، تاہم ان شخصیات کی کامیابی کا دارومدار تحریک انصاف کی اپنی سیاست کے گرد گھومتا ہے۔‘

خیال رہے کہ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ ماضی قریب میں اس وقت کھل کر سامنے آئے جبٖ سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کے کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔ لطیف کھوسہ نے لاہور میں وکلا کی گول میز کانفرنس منعقد کی اور اعتزاز احسن ان کے عقب میں بیٹھے تھے۔

رانا اسد اللہ کہتے ہیں کہ ’ان دونوں رہنماؤں کا خیال تھا کہ عمران خان کی حمایت میں ماضی کی طرح وکلا برادری کو کھڑا کیا جائے، لیکن اس خیال کی پذیرائی نہیں ہو سکی کیونکہ 9 مئی کے بعد تو صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔

رانا اسد اللہ کہتے ہیں کہ ’’پاکستان کی تین بڑی بار ہیں جو فیصلہ کن سمجھی جاتی ہیں، سپریم کورٹ بار، لاہور ہائی کورٹ بار اور لاہور بار۔‘’آپ نے دیکھا ہو گا کہ 9 مئی پر سب سے سخت پریس ریلیز لاہور بار نے جاری کی۔ سپریم کورٹ بار تقسیم ہے جبکہ ہائی کورٹ بار بھی درمیانی راہ لے رہی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی حالات کی جو سمت ہے اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ جو کرنا چاہتے تھے وہ کر نہیں پائے اور اب انہوں نے اپنے آپ کو عمران کی وکالت تک محدود کر لیا ہے۔‘’وہ تحریک انصاف کے حامیوں کے محبوب وکیل بن چکے ہیں، یہ شہرت اور یہ کردار اب پیپلز پارٹی میں ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ’لطیف کھوسہ اور چوہدری اعتزاز احسن وکلا برادری کو عمران خان کے ساتھ کھڑا کر پائیں گے یا نہیں اس کا اندازہ اگلے چند ماہ میں ہو گا۔‘’فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی اس کی ایک کڑی ہو گا، تاہم دونوں رہنماؤں نے عدالتوں کے اندر عمران خان کو خوب تقویت فراہم کی ہے۔

Back to top button