عمران خان نے اپنی ATMsپر اربوں ڈالرز کیسے لوٹائے؟

عمران خان کی جانب سے اپنی اے ٹی ایمز پر نوازشات پر مبنی سکینڈلز سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ سکینڈل کے مطابق تحریک انصاف کے دور اقتدار میں بغیر کسی پالیسی کے عمران خان کے قریبی صنعتکاروں پر 3 ارب ڈالر لٹا دئیے گئے تاہم اب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس کا نوٹس لے لیا ہے۔قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے عمران خان کے دور اقتدار میں قریبی صنعتکاروں کو نوازتے ہوئے صفر شرح سود پر 3 ارب- ڈالر کے سبسڈی والے قرضے حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کے ناموں کا پتا لگانے کے حکم پر بڑے صنعتی گروپوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ تایم اسٹیٹ بینک نے ان افراد کے نام پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ایک عام اجلاس میں ظاہر کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور اقتدار میں تین ارب ڈالر کے یہ قرضے مختلف صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کو بلاسود دیے گئے تھے اب مرکزی بینک ایسے افراد کے نام پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے عام اجلاس میں ظاہر کرنے سے معذرت کر رہا ہے۔  بدھ پانچ جولائی کے روز پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس کو بتایا گیا کہ چونکہ اسٹیٹ بینک نے یہ قرضے کمرشل بینکوں کے ذریعے دلوائے تھے، اس لیے ایسے قرض لینے والوں کے نام راز داری قانون کی وجہ سے ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔ پاکستانی اسٹیٹ بینک کے اس رویے پر کئی حلقوں میں بھرپور بحث جاری ہے۔

سینیٹ کے سابق ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے اس حوالے سے بتایا، ”ہم نے اسٹیٹ بینک کے گورنر سے کہا ہے کہ وہ ہمیں یہ بتائیں کہ یہ فنڈز کس طرح استعمال کیے گئے۔ ہمیں بتایا گیا کہ نجی بینکوں کے ذریعے یہ قرضے دیے گئے لیکن ان پر شرح سود حکومت ادا کرے گی۔‘‘سلیم مانڈوی والا کے مطابق یہ قرضے دیے جانے کے مقاصد کے حوالے سے بھی بہت زیادہ ابہام ہے، ”گورنر کہتے ہیں کہ ری فنانسنگ کے لیے دیے گئے تھے جب کہ یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ قرضے صنعتی پھیلاؤ کے لیے دیے گئے۔‘‘

دنیا بھر میں قرضوں کی اسکیموں کے حوالے سے مؤثر پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جب کہ اس کے بعد نگران کمیٹیاں بھی تشکیل دی جاتی ہیں تا کہ اس عمل کی مؤثر نگرانی کی جا سکے۔ سلیم مانڈوی والا کا خیال ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان قرضوں کے دیے جانے سے پہلے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی، ”گورنر اسٹیٹ بینک نے عمران خان کو یہ آئیڈیا دیا اور عمران خان کو یہ آئیڈیا پسند آ گیا اور بغیر کسی پالیسی کے اربوں ڈالرز دے دئیے گئے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر احمد چنائے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان قرضوں کو دینے سے پہلے کوئی مؤثر پالیسی نہیں بنائی گئی تھی۔انہوں نے بتایا، ”تین بلین ڈالر کے قرضے دیے گئے لیکن ان کی نگرانی کے لیے کوئی کمیٹی تک نہ بنائی گئی اور نہ ہی اس بات کو ہی پیش نظر رکھا گیا کہ ملک میں کس شعبے یا انڈسٹری کی ضروریات زیادہ ہیں۔‘‘

خیال کیا جاتا ہے کہ جس وقت یہ قرضے دیے گئے، اس وقت یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تین ارب ڈالر کے قرضوں کے بعد ملکی برآمدات میں نو ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا۔ لیکن کئی ناقدین کا خیال ہے کہ انہیں تو معاشی ترقی کے کوئی بھی آثار اتنی خطیر رقوم کے دیے جانے کے بعد بھی نظر نہ آئے۔ احمد چنائے کے مطابق اگر حقیقت میں تین ارب ڈالر ملکی صنعتوں میں لگ جاتے تو پاکستان میں مزید صنعتی ترقی بھی ہوتی اور جی ڈی پی کی شرح بھی بڑھتی، ”میرے خیال میں تو پھر شاید پورا معاشی منظر نامہ ہی بدل جاتا۔‘‘

معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہدہ وزارت بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ انہیں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے لے کر اب تک تو پاکستان کی معاشی ترقی میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آئی۔ دوسری طرف معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر قیس اسلم کا کہنا ہے کہ صنعتی ترقی تو بڑھنے کے بجائے کم ہو رہی ہے۔ڈاکٹر قیس اسلم کے مطابق تین ارب ڈالر کی رقم پاکستان جیسی چھوٹی معیشت کے لیے بہت بڑی چیز ہے۔ ”اگر ہمارے حکمران عقل مند ہوتے، تو یہی تین ارب ڈالر توانائی کے ایسے منصوبوں پر لگاتے، جن کی بدولت گردشی قرضوں سے ہمیں چھٹکارا ملتا اور ہماری معیشت کی حالت بھی بہتر ہوتی۔‘‘

معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق کا کہنا ہے کہ اگر حکومت تین ارب ڈالر کا قرضہ عام لوگوں کو مناسب شرح سود پر دیتی، تو قومی خزانے میں اربوں روپے جمع ہوتے۔ ڈاکٹر اکرام الحق کے مطابق جن لوگوں نے یہ قرضہ لیا اور اس کو احسن طریقے سے استعمال نہیں کیا، انہوں نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا، ”اسٹیٹ بینک کو ایسے لوگوں کے نام چھپانا نہیں چاہییں۔ آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت اس طرح کی انفارمیشن کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ اگر عوام کے خون پسینے کی کمائی سے چند لوگوں کو نوازا گیا ہے، تو اس عمل کا باقاعدہ احتساب ہونا چاہئے۔‘‘

فیصل آباد چیمبر آف کامرس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ یہ قرض 600 سے زیادہ افراد کو دیا گیا ہے۔ فیصل آباد چیمبرز سے وابستہ ایک سابق عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا، ”حقیقت یہ ہے کہ چھبیس کمپنیوں کے افراد کو ایسے قرضے دیے گئے، جن میں سے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک صنعت کار نے تو 90 ارب روپے لیے۔ صنعت کاروں کی اکثریت کو قرضے فراہم نہیں کیے گئے اور ان کی قرضوں کی درخواستوں کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔‘‘چیمبر کے اس سابق عہدیدار کا دعویٰ تھا کہ جب ان مخصوص افراد کو یہ پتہ چلا کہ قرضوں پر سود نہیں ہے، تو انہوں نے بلا ضرورت بھی مشینیں منگوائیں، ”یوں بھی زر مبادلہ کے ذخائر کم ہوئے اور آج جو زر مبادلہ کی کمی کا بحران ہے، اس کی ایک وجہ ان قرضوں کی اسکیم بھی ہے۔‘‘

Back to top button