بزدار نے اپنی چاپلوسی کرنے والے کو مجلس ترقی ادب کا سربراہ بنا دیا

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے ادبی دنیا کے معروف نام ڈاکٹر تحسین فراقی کو انکے عہدے کی معیاد ختم ہونے سے ایک برس پہلے ہی مجلس ترقی ادب کی صدارت سے ہٹا کر ان کی جگہ اپنی قصیدہ خوانی اور چاپلوسی کرنے والے نام نہاد صحافتی گھس بیٹھیے منصور آفاق کو تعینات کر دیا ہے جس پر ادبی اور صحافتی حلقے سراپا احتجاج ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دور اقتدسر میں مسلسل میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نا اہل اور چھوٹے لوگوں کو بڑے بڑے عہدے دیئے جارہے ہیں جس سے بڑے ادارے بھی چھوٹے ہوتے چلے جارہے ہیں۔ یاد ریے کہ مجلس ترقی ادب کی شاندار عمارت مال روڈ اور ڈیوس روڈ کے سنگم پر پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے ساتھ واقع ہے۔ ادب و ثقافت کی ترویج کے لئے بنائے جانے والے ادارے مجلس ترقی ادب کے پہلے سربراہ انار کلی ڈرامے کے خالق اور معروف ادیب امتیاز علی تاج تھے۔ ان کے بعد اس عہدے کو پنجاب یونیورسٹی کے صاحبِ علم وائس چانسلر پروفیسر حمید احمد خان نے زینت بخشی اور پھر پاکستانی ادب کے بڑے نام احمد ندیم قاسمی اسکے سربراہ بنے۔ ان قد آور شخصیات کی وجہ سے یہ ادارہ دنیا بھر میں ایک مینار کی طرح قد آور نظر آتا رہا مگر علم و ادب سے کوسوں دور رہنے والے عثمان بزدار کے دور اقتدار میں اب یہ ظلم عظیم کیا گیا ہے کہ معروف ادیب تحسین فراقی کو ان کے عہدے کی معیاد ختم ہونے سے ایک برس پہلے ہی زبردستی فارغ کرتے ہوئے ایک کوتاہ قامت سرکاری چمچے اور چاپلوس منصور آفاق کو اس تاریخی ادارے کی سربراہی تھا دی گئی ہے جو کہ کسی ادبی المیے سے کم نہیں ہے۔
منصور آفاق کی تعیناتی پر پاکستان کے ادبی اور صحافتی حلقے سراپا احتجاج ہیں اور اسے بزدار حکومت کی ادب دشمنی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر تحسین فراقی کی جگہ منصور آفاق جیسے بے ادب بونے کو مجلس ترقی ادب کا سربراہ لگائے جانے پر اعتراض اٹھانے والوں میں ایک نام سابق بیوروکریٹ اور کالم نگار اوریا مقبول جان کا بھی ہے۔ اس حوالے سے اوریا مقبول جان لکھتے ہیں کہ مجھے اندازہ تک نہیں تھا کہ اٹھارہ سال بعد اس ادارے کے حوالے سے ایک بار پھر قلم اٹھانا پڑے گا۔ وہ لکھتے ہیں کہ پہلی دفعہ اکتوبر 2003ء میں مجھے اپنے قلم کو اپنے ہی ساتھی بیوروکریٹس کے خلاف تلوار بنانا پڑاتھا۔ مجلسِ ترقی ادب کے سربراہ اس وقت احمد ندیم قاسمی تھے۔ ایک بیوروکریٹ نے احمد ندیم قاسمی کو طعنہ دیا آپ کہ پچاس سال سے اس ادارے کے سربراہ ہیں، ہر سال کتابیں چھاپتے ہیں اور ایک پیسے کا منافع کما کر نہیں لاتے۔ یہ جملے اس عظیم شاعر، افسانہ نگار اور ادیب کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہوگئے تھے۔ صرف 25 ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والے عظیم ادیب احمد ندیم قاسمی نے یہ فقرے سنے تو ڈبڈباتی آنکھوں سے ایک کاغذپر استعفیٰ لکھا اور گھر لوٹ گئے۔ اس وقت چودھری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔ احمد ندیم قاسمی کے استعفے کی وجہ سے ہر لکھنے والا مضطرب ہو چکا تھا اور ہر ادب دوست کی آنکھ پر نم تھی۔ چنانچہ معاملے کا نوٹس لے کر پنجاب حکومت کی جانب سے نہ صرف قاسمی صاحب سے معذرت کی گئی، بلکہ چودھری پرویز الٰہی نے اس ادارے کا بجٹ بھی بڑھا دیا اور ساتھ میں قاسمی صاحب کی تنخواہ میں بھی کئی گنا اضافہ کر دیا۔
قاسمی صاحب کے انتقال کے بعد ان کی جگہ پاکستان کی ادبی برادری نے مشورے سے مشہور شاعر اور خوبصورت ادیب شہزاد احمد کو مجلس ترقی ادب کا سربراہ لگایا گیا۔ ان کے انتقال کے بعد ایک دفعہ پھر لاہور کی ادبی برادری نے مشورہ کیا تو قرعہ فال ڈاکٹر تحسین فراقی کے نام نکلا۔ تحسین فراقی ادب کی دنیا کا ایک جانا پہچانا اور بڑا نام ہے۔ ڈاکٹر فراقی کسی زمانے میں تہران یونیورسٹی میں اقبالیات پڑھایا کرتے تھے۔ برصغیر پاک و ہند میں جہاں کہیں بھی اردو اور فارسی پڑھی اور لکھی جاتی ہے، تحسین فراقی کا نام کسی صاحبِ علم کے لیئے اجنبی نہیں۔ مگر حیران کن طور پر پنجاب حکومت نے تحسین فراقی کو بالکل غیر اخلاقی اور غیر قانونی طور پر اچانک انکے عہدے سے ہٹا دیا حالانکہ ابھی ان کے کنٹریکٹ کا ایک سال رہتا تھا۔ مقصد ایک چاپلوسی کو خوش کرنا تھا۔
اوریا مقبول جان لکھتے ہیں کہ ان کی جگہ آنے والا وزیراعظم عمران خان کے شہر میانوالی کا رہنے والا منصور آفاق بھی میرا دوست ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اگر منصور آفاق کو خود بھی یہ فیصلہ کرنے دیا جائے کہ جس نشست پر امتیاز علی تاج، احمد ندیم قاسمی، پروفیسر حمید الدین احمد خان اور شہزاد احمد جلوہ افروز رہے، وہاں تحسین فراقی سے بہتر کوئی اور ہے تو میرا گمان ہے کہ وہ بھی تحسین فراقی کے حق میں ہی فیصلہ کرے گا۔ لیکن شاید معاملہ گمراہ کن حد تک خراب کر دیا گیا ہے۔
اوریا مقبول جان لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت اس قیمتی جگہ پر کمرشل بلڈنگ بنانا چاہتی ہے جبکہ ڈاکٹر تحسین فراقی کی جگہ منصور آفاق کو اس لئے مجلس ترقی ادب کا سربراہ لگایا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف حکومت میں خان صاحب کے گرد منڈلاتا ہوا پاکستان کا وہ سیکولر لبرل طبقہ جو سوشل میڈیا کی گھٹیا شاعری پڑھ کر جوان ہوا ہے، اس کے نزدیک گدھے اور گھوڑے میں کوئی تمیز ہی نہیں۔ جو لوگ میر، غالب، اقبال، فیض اور فراز کے نام پر جعلی شعر سوشل میڈیاپر پڑھتے اور شیئر کرتے ہوں، انہیں کیا علم کہ ادب کی دنیا میں عزت و توقیر کن ناموں سے وابستہ ہے۔ منصور آفاق جیسے شخص کو مجلس ترقی ادب کا سربراہ بنا کر پی ٹی آئی کے کرتا دھرتاؤں کی جہالت نے انا کا روپ دھار لیا ہے۔ اور جہالت جب سکۂ رائج الوقت ہو جائے تو اسکے خلاف علم اور قلم اٹھانا فرض بن جاتا ہے۔
